حکومتی قرض گیری نجی شعبے کو قرض ملنے کی راہ میں رکاوٹ ہے

معاشی درجہ بندی کرنے والے ادارے موڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں حکومتی قرض گیری کے سبب نجی شعبے کو قرض نہیں مل رہا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی بینکوں کا آؤٹ لک مستحکم ہے جس کی وجہ ڈپازٹس اور حکومتی قرض گیری ہے۔
موڈیز کے مطابق ریاست کے قرض لینے کی صلاحیت بہتر ہونے کا فائدہ بینکوں کو ہوا ہے مگر بینکوں کا منافع بہتری کے باوجود تاریخی سطح سے کم رہے گا اور بینکوں کے سرمائے کی صورتحال برقرار رہے گی۔
موڈیز نے کہا کہ اگرچہ شرح سود 13.25 فیصد ہے لیکن حکومتی قرض گیری کے سبب نجی شعبے کو قرض نہیں مل رہا ہے ایسے میں معاشی نمو کم ہونے کے باوجود شرح سود کئی سال تک کم نہ ہونے کے مارکیٹ اندازے ہیں۔
موڈیز کی رپورٹ کے مطابق بینکوں کی حکومتی تمسکات میں سرمایہ اپنے اثاثوں کے 40 فیصد کے مترادف ہے جب کہ مستحکم ڈپازٹس اور لیکوڈٹی سے بینکوں کو سستے ڈپازٹس کی وافر دستیابی ہے۔ موڈیز نے بتایا کہ روپے کی قدر کم ہونے سے تجارتی ٹرمز بہتر ہوں گے اور معاشی سرگرمیاں، ترقیاتی منصوبوں، امن وامان اور بجلی کے سبب بہتر رہیں گی۔ رپورٹ کے مطابق ادارہ حکومت اہمیت کے حامل بینکوں کی معاونت کرے گا۔
موڈیز نے مزید کہا کہا کہ مشکلات ہیں اس کے باوجود بینکوں کا کاروبار بہتر ہو رہا ہے لیکن حکومتی ریٹنگ اس کی صلاحیت کم ہونے کی عکاس ہے۔
