حکومتی میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی رپورٹس ادھوری قرار دیدی

حکومتی میڈیکل بورڈ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس ادھوری قرار دے دیں، میڈیکل بورڈ نے پنجاب حکومت سے مزید میڈیکل رپورٹس منگوا لیں، موجودہ میڈیکل رپورٹس پرحتمی سفارشات دینا ممکن نہیں۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضمانت کی مدت میں توسیع کے حوالے سے پنجاب حکومت کو بھجوائی گئی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لینے کیلئے سرکاری میڈیکل بورڈ کااجلاس پروفیسرمحمود ایاز کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ میڈیکل بورڈ کے اجلاس میں پروفیسرطاہرشمسی سمیت اہم ممبرزغیرحاضر تھے۔ میڈیکل بورڈ نے پنجاب حکومت سے مزید میڈیکل رپورٹس منگوا لیں۔بورڈ نے کہا کہ دستیاب میڈیکل رپورٹس پرحتمی سفارشات دینا ممکن نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ حکومتی میڈیکل بورڈ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس ادھوری قرار دے دیں، پنجاب حکومت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس سرکاری میڈیکل بورڈ کو بھجوائیں لیکن سرکاری بورڈ کی جانب سے میڈیکل بورڈ نے رپورٹس کو نامکمل اور ادھوری قراردیا گیا ہے۔ رپورٹس میں نوازشریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد اور طبی معائنے سے متعلق چیزیں شامل نہیں کی گئیں۔ اس لیے ادھوری رپورٹس پرمیڈیکل بورڈ اپنی کوئی رائے نہیں دے سکتا۔ بورڈ نے رپورٹس سے متعلق محکمہ صحت کو بھی آگاہ کردیا ہے۔ لندن میں علاج کیلئے مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے لندن میں متعین پاکستانی قونصلیٹ سے تصدیق شدہ میڈیکل رپورٹ محکمہ داخلہ پنجاب کو بھجوائیں تھیں۔ پنجاب حکومت نے ان رپورٹوں کو محکمہ صحت پنجاب کے ذریعے بنائے گئے خصوصی میڈیکل بورڈ کو پیش کیں۔ میڈیکل بورڈ رپورٹس کی روشنی میں سابق وزیراعظم کی ضمانت میں توسیع کرنے یا نہ کرنے کی سفارش کرے گا۔
میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی بلڈ رپورٹس فراہم نہیں کی گئیں . نواز شریف کے اس وقت پلیٹ لیٹس کتنے ہیں یہ بھی نہیں بتایا گیا .نواز شریف کے جنیٹک ٹیسٹوں سے متعلق اپ ڈیٹ بھی نہیں دی گئی . ڈاکٹر محمود ایازنے مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم کی ادھوری رپورٹس پر رائے نہیں دے سکتے .
