حکومت نے ایک بار پھر پٹرول بم گرا دیا،عوام بلبلااٹھے

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا تسلسل برقرار ہے۔ 5 نومبر جمعہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار اضافہ کردیا گیا ہے۔اضافے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
حکومت کی جانب سے رات گئے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے تین پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔ یٹرول کی نئی قیمت 8 روپے اضافے سے 145 روپے ہوگئی ہے۔وزارت خزانہ کے نئے نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 3 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 137 روپے 79 پیسے سے بڑھ کر 145 روپے 82 پیسے ہوگئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 14 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 134 روپے 48 پیسے سے بڑھ کر 142 روپے 62 پیسے ہوگئی۔
اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت 6 روپے 27 پیسے اضافے کے بعد 110 روپے 26 پیسے سے بڑھ کر 116 روپے 53 پیسےاور لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 5 روپے 72 اضافے کے بعد 108 روپے 35 پیسے سے بڑھ کر 114 روپے7 پیسے ہوگئی۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ریکوری میں کمی کے سبب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا، اگر اوگرا کی سمری کے مطابق پیسے بڑھاتے تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گِل نے ٹویٹ میں اس حوالے سے لکھا ہے کہ ’پیٹرول کی قیمت بڑھانا کوئی پسندیدہ فیصلہ نہیں تھا۔ ہر پہلو دیکھا گیا۔ پوری دنیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت دو گنا ہو چکی۔‘ان کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے ہی پیٹرولیم ٹیکس 31 روپے سے کم کر کے 5 روپے تک لا چکی۔ ’اب بھی اگر قیمت کم رکھنی ہو تو پھر قرضہ لینا پڑے گا جو کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں۔‘
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بدھ کو قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھانی پڑیں گی۔
عمران خان نے اپنے خطاب میں بتایا تھا کہ ’عالمی سطح پر تیل کی قیمت 100 فی صد بڑھی ہے۔ انڈیا میں پیٹرول 250 روپے فی لیٹر ہے۔ بنگلہ دیش میں 200 روپے لیٹر جبکہ پاکستان میں 138 روپے لیٹر ہے‘وزیراعظم کے مطابق ’سوائے تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے پاکستان میں تیل سب سے سستا ہے۔ ہم نے ٹیکس کم کر کے تیل کی قیمت کم رکھی ہے تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔‘
اپوزیشن کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا پر حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے۔مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اضافے پر ردعمل میں کہا ہے کہ ’عمران صاحب کے تکلیف پیکج کا اطلاق ہونا شروع ہو گیا ہے۔‘
پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’سیلیکٹڈ وزیراعظم عمران نیازی کے اعلان کے مطابق ریلیف پیکج کے اثرات عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے۔‘
صارفین کی جانب سے بھی جمعے کی صبح سوشل میڈیا پر ردعمل سامنے آیا ہے اور پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مہنگائی کا نیا طوفان کہا جا رہا ہے۔
