مہنگائی کے مارے عوام گیس کی لوڈشیڈنگ کے لیے تیار ہو جائیں


مہنگائی کے مارے پاکستانی عوام کے لیے ایک اور بری خبر یہ ہے کہ ملک بھر میں گیس کی لوڈشیڈنگ شروع ہو چکی ہے اور سردیوں میں گھریلو صارفین کو 15 گھنٹے تک کی گیس بندش برداشت کرنا ہو گی جس کی بنیادی وجہ کپتان حکومت کی نا اہلی اور ناقص پالیسی ہے۔
موسم سرما میں گیس صارفین کو 24 گھنٹے کے دوران صرف 9 گھنٹے گیس دستیاب ہو گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ حکومت کے مجوزہ گیس لوڈشیڈنگ پلان کے تحت گھریلو صارفین کو گیس دن میں تین بار تین تین گھنٹوں یعنی صبح، دوپہر اور رات میں دستیاب ہوگی۔ یعنی پاکستانی عوام کو 15 گھنٹے تک کی طویل گیس لوڈشیڈنگ کا سامنا رہے گا جو کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ہوگا۔
ملک میں ابھی سردی کی لہر نہیں آئی لیکن موسم بدلتے ہی گھریلو صارفین اور صنعتوں کو گیس کی عدم دستیابی کے باعث توانائی کا بحران کا دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گیس کی قلت کی بڑی وجہ حکومت کو لیکویفائیڈ نیچرل گیس یعنی ایل این جی کی مطلوبہ مقدار حاصل کرنے میں تاحال ناکامی بتائی جاتی ہے جبکہ مقامی سطح پر گیس کے دستیاب وسائل اور ذخائر میں بھی ہر سال کمی واقع ہو رہی ہے۔ ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ آئندہ چند ہفتوں میں یہ بحران شدت اختیار کر جائے گا اور گیس کی کمی کے باعث موسم سرما میں گھریلو اور صنعتی صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا رہے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایل این جی کی دستیابی کے بر وقت فیصلے نہ کرنے کے باعث بحران کی صورتِ حال پیدا ہوئی ہے۔
تاہم دوسری جانب وفاقی وزیرِ توانائی حماد اظہر کہتے ہیں کہ حکومت گیس کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ان کے مطابق گیس کی قلت ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث نہیں ہے بلکہ ملک میں دستیاب گیس کے وسائل میں بتدریج کمی کی وجہ سے ہے جو سالانہ 10 فی صد تک کم ہو رہے ہیں۔ توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گیس کی طلب پورا کرنے کے لیے مقامی سطح پر پیدا ہونے والی گیس کے ساتھ ایل این جی کی درآمد کر کے اس بحران سے کسی طور نمٹا جا سکتا ہے۔
پاکستان ایل این جی لیمٹڈ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر منظور احمد کہتے ہیں کہ حکومت کی طویل مدتی پالیسی نہیں تھی اور گزشتہ مہینوں میں کم قیمت پر ایل این جی کے دستیاب معاہدے حاصل نہیں کیے گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومتی سطح پر سردیوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے گیس کی کمی ہوتی ہے۔ البتہ اس سال عالمی سطح پر توانائی کی قلت کے باعث یہ بحران شدید ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ کپتان حکومت نے رواں موسم سرما کے لیے 11 ایل این جی کارگوز کے آرڈرز کیے تھے تاہم دو کمپنیوں نے یہ کارگو پہنچانے سے معذوری ظاہر کی جسکے سبب پاکستان کو ایل این جی کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ وزیرِ توانائی حماد اظہر نے ’جیو نیوز‘ کے ایک شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس کی طلب اور رسد کو دیکھتے ہوئے ایل این جی کے دو مزید کارگوز منگوائے جا رہے ہیں جو کہ نومبر اور دسمبر میں کراچی پورٹ پہنچ جائیں گے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس حوالے سے کئی مہینے پہلے ہی فیصلہ کر لینا چاہیے تھا کیونکہ اب حکومتی نااہلی کی سزا عوام گیس کی لوڈ شیڈنگ کی صورت میں بھگتیں گے۔
توانائی امور کے ماہر علی خضر کہتے ہیں کہ ملک میں گیس کے مقامی ذخائر نصف حد تک گر چکے ہیں جو کہ بتدریج نو فی صد تک سالانہ کم ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ایل این جی منگوانے کا فیصلہ کیا اور کراچی پورٹ پر ایل این جی ٹرمینل لگائے گئے۔ منظور احمد کہتے ہیں کہ گیس بحران سے نجات کے لیے حکومت کو ایل این جی کے چار سے پانچ کارگو درکار ہوں گے جو کہ موجودہ حالات میں آسان نہیں ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ بحران کہ وجہ حکومتی سطح پر فیصلہ سازی اور مارکیٹ کی صورتِ حال کا اندازہ نہ ہونے کے ساتھ ساتھ سرکاری افسران میں ملک میں احتساب کے قوانین کا خوف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ درآمدی گیس کی قیمت عالمی مارکیٹ میں بہت بڑھ چکی ہے جو کہ مقامی گیس کی قیمت پر فراہم کرنے سے گردشی قرضے بڑھیں گے۔ان کے بقول حکومت کو دباؤ میں آکر مہنگی ایل این جی نہیں منگوانی چاہیے بلکہ متبادل ذرائع کی طرف جانا چاہیے۔ ایل این جی پر چلنے والے بجلی گھروں کو فرنس آئل یا کوئلے پر منتقل کرکے اور سی این جی کی جگہ پیٹرول کا استعمال کرنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث حکومت کو ترجیحی بنیاد پر منصوبہ بندی کرکے گیس بحران سے نمٹنا ہوگا۔
حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ توانائی کے اس نئے بحران سے نمٹنے کی کوششوں کے طور پر حکومت لوڈ مینجمنٹ پلان لے کر آ رہی ہے جس کے مطابق موسم سرما میں گیس صارفین کو 24 گھنٹے کے دوران صرف 9 گھنٹے گیس دستیاب ہو گی۔ گیس دن میں تین بار تین تین گھنٹوں میں یعنی صبح، دوپہر اور رات میں دستیاب ہوگی۔ اس پلان کے تحت 15 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا رہے گا۔

Back to top button