حکومت کا چین سے پاکستانیوں کو واپس نہ لانے کا فیصلہ برقرار

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ چین میں پھیلنے والے ہلاکت خیز کورونا وائرس کے حوالے سے پاکستانیوں کو واپس وطن نہ لانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چین میں پاکستانیوں کا بہتر خیال رکھا جارہا ہے اور وائرس سے متاثر ہونے والے طلبہ کی صحت بھی بہتر ہورہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کچھ افراد کو کورونا وائرس کے شک کے باعث نگرانی میں رکھا گیا تھا تاہم ان میں وائرس نہیں پایا گیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے حکومتی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مسترد کیا تھا اور حکومت سے چین میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جس پر سینیٹر شبلی فراز نے جواب دیا تھا کہ ’حکومت کا چین سے طلبا کو نہ نکالنے کا فیصلہ حتمی نہیں اگر صورتحال تبدیل ہوئی تو اس کی بنیاد پر ہم طلبا کا انخلا کریں گے‘۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے میڈیکل کٹس جلد پاکستان پہنچ جائیں گی جس کے بعد اگر ضرورت پڑی تو ہم خود وائرس کی تشخیص کرسکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ آج سے الیکٹرونک میڈیا پر کورونا وائرس سے بچاؤ، احتیاط اور دیگر حوالوں سے آگاہی دینے کے لیے مہم کا آغاز بھی کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس دنیا کے 27 ممالک تک پھیل چکا ہے اور انسان سے انسان میں منتقل ہوا ہے۔
معاون خصوصی نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے اس وائرس کو ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے جس کے باعث پاکستان ذمہ داری کے ساتھ اپنے، اپنے عوام اور دنیا کے لوگوں کے لیے وہ اقدام کرنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا ڈبلیو ایچ او کی تجاویز اور چینی حکومت کی جانب سے اس وائرس کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر مکمل اعتماد ہونے کی وجہ سے ہم اپنے شہریوں کو ووہان نے واپس نہیں بلا رہے۔ معاون خصوصی نے کہا چینی حکومت بھرپور طریقے سے ایسے اقدامات کررہی ہے جس سے ان کے اپنے عوام، دوسرے ممالک کے افراد اور باقی دنیا کے لوگ اس وائرس سے بچ سکیں اور ہمیں ان پر پورا اعتماد ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ باقی ممالک اپنے عوام کو نکال رہے ہیں تو پاکستانیوں کو کیوں نہیں نکالا جارہا ہے، جس پر میں ہی بتایا چاہتا ہوں کہ صرف 7-8 ممالک ہیں جنہوں نے اپنے لوگوں کا انخلا کیا یا اس کی درخواست دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ ووہان کے شہر میں اس وقت 120 ممالک کے شہری موجود ہیں اور وہ بھی چینی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ لہٰذا ہم اس بات کا یقین کرنے کے بعد کہ پاکستانیوں کی بہتر دیکھ بھال ہورہی ہے اور وائرس سے متاثرہ طلبہ کی صحت بہتر ہورہی ہے اسلیے اب بھی پاکستانیوں کو وطن واپس نہ لانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے وزیر خارجہ کے ساتھ ایک طویل نشست میں ساری صورتحال کا جائزہ لیا اور انخلا نہ کرنے کے فیصلے پر قائم رہنے پر اتفاق کیا جبکہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں اس حوالے سے یقین دہانی کروائی گئی کہ دونوں ممالک کی اولین ترجیح پاکستانیوں کی فلاح و بہود ہے اور تمام پاکستانی وہاں موجود ہیں۔
معاون خصوصی نے بتایا کہ چین سے پروازیں پاکستان سے بحال ہونے کے بعد آنے والےمسافروں کی کس طرح اسکریننگ کی جائے انہیں گروپس میں بانٹا جائے اور دیگر معاملات کیے جائیں گے اس حوالے سے وزارت صحت نے تمام متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مل کر ایک جامع پلاننگ کرلی ہے۔ ان کا کہنا تھا چونکہ پروازوں سے قبل 14 روز زیر نگرانی رکھے جائیں گے اس لیے پاکستانی مسافروں کے ٹکٹ اور ویزے ایکساپئر ہونے کی صورت میں چینی حکومت کے ساتھ یہ معاملات طے کرلیے ہیں کہ انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے اور کسی کو انفرادی سطح پر اس کے لیے سفارتخانوں میں درخواست نہ دینی پڑے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ ابھی تک پاکستان میں کورونا وائرس کے ایک بھی مریض کی تصدیق نہیں ہوئی، کچھ افراد کو وائرس کے شبے میں زیر نگرانی رکھا گیا تھا لیکن ان میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا جبکہ ان کی صحت بھی بہتر ہورہی ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ چین میں جن پاکستانی طلبہ میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی ان کی صحت بھی بہتر ہورہی ہے کیوں وائرس کی تشخیص ابتدائی مرحلے پر کرلی گئی تھی۔ انہوں نے کہا چین کی حکومت نے اپنے شہریوں کے لیے یہ پابندی لگائی ہے کہ چین سے باہر سفر کرنے والے مسافروں کی 14 روز تک نگرانی کی جائے گی تا کہ اس دوران اگر وائرس ہو تو اس کی علامات ظاہر ہوسکیں جس کے بعد انہیں بیرونِ ملک پرواز کے لیے سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ چینی سفیر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ہم نے پاکستانیوں کے لیے بھی یہی اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اب پاکستان آنے والے شہری بھی پہلے چین میں 14 روز تک زیر نگرانی رہیں گے جس کے بعد انہیں پرواز کی اجازت دی جائے گی جس کے تفصیلات کافی حد تک طے کرلی گئی ہیں۔ ان کے مطابق اس ایک اقدام سے ہم نے پاکستان کو بڑی حد تک وائرس سے محفوظ بنادیا ہے کیوں کہ اس وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے چین سے سفر اور قیام بہت اہمیت کا حامل ہے۔
یاد رہے کہ کورونا وائرس ایک عام وائرس ہے جو عموماً اپنے بچوں کو دودھ پلانے والے میملز پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوتا ہے۔ عموماً گائے، خنزیر اور پرندوں میں نظام انہضام کو متاثر کر کے ڈائیریا یا سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہےجبکہ انسانوں میں اس سے صرف نظام تنفس ہی متاثر ہوتا ہے۔ سانس لینے میں تکلیف اور گلے میں شدید سوزش یا خارش کی شکایت ہوتی ہے مگر اس وائرس کی زیادہ تر اقسام مہلک نہیں ہوتیں اور ایشیائی و یورپی ممالک میں تقریباً ہر شہری زندگی میں ایک دفعہ اس وائرس کا شکار ضرور ہوتا ہے۔ کورونا وائرس کی زیادہ تر اقسام زیادہ مہلک نہیں ہوتیں اگرچہ اس کے علاج کے لیے کوئی مخصوص ویکسین یا ڈرگ دستیاب نہیں ہے مگر اس سے اموات کی شرح اب تک بہت کم تھی اور مناسب حفاظتی تدابیر کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کر لیا جاتا تھا۔ تاہم چین میں پھیلنے والا وائرس نوول کورونا وائرس ہے جو متاثرہ شخص کے ساتھ ہاتھ ملانے یا اسے چھونے، جسم کے ساتھ مس ہونے سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ علاقے جہاں یہ وبا پھوٹی ہوئی ہو وہاں رہائشی علاقوں میں در و دیوار، فرش یا فرنیچر وغیرہ کو چھونے سے بھی وائرس کی منتقلی کے امکانات ہوتے ہیں۔
