حکومت کسی پریشر گروپ کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوگی

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں گے، حکومت کسی پریشر گروپ کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوگی۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسی پریشر گروپ کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوگی، قانون کی حکم رانی کو یقینی بنائیں گے، ہماری پوری سیاسی جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کے لیے تھی۔وزیر اعظم نے کہا کہ احتساب کا عمل بلاتفریق جاری رہے گا، ہم انصاف پر یقین رکھتے ہیں، کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔ اور اگر کسی کا مقصد حکومت گرانا ہے تو وہ اپنا شوق پورا کرلے، لیکن ہم کسی کی بلیک میلنگ میں آکر اپنے منشور سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اور نہ ہی اقتدار بچانے کی خاطر کسی کو این آر او دیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، میرے لیے اقتدار سے زیادہ نظریہ اہم ہے، مخالفوں کے ساتھ بھی زیادتی نہیں کی تو اپنوں کے ساتھ کیوں کریں گے، لیکن احتساب کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹ سکتا، کور کمیٹی کی جانب سے وزیراعظم کے احتساب کے موقف کی تائید کی گئی۔
اجلاس میں وزیر اعظم نے وزرائے اعلی کو ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اسی سال کروائے جائیں۔ وزیراعظم نے آزاد کشمیر کے انتخابات کی تیاریاں بھی تیز کرنے کی ہدایت دی۔
کور کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے جہانگیر ترین گروپ سے ملاقات پر بریفنگ دی گئی، وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کسی رکن اسمبلی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنائے گی، ہم اپنے ارکان اسمبلی کے تمام جائز تحفظات دور کریں گے۔ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے اور دیگر ادارے مختلف کیسز پر آزادی سے اپنا کام کررہے ہیں، حکومت پنجاب کسی تحقیقاتی ادارے پر اثرانداز نہیں ہوگی۔
اجلاس میں الیکشن کمیشن کی الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق ٹویٹ کا جائزہ لیا گیا اور اس کی مذمت بھی کی گئی۔ کورکمیٹی کے ارکان کا اس بارے میں کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے حالیہ بیانات اور ٹویٹ سے اس کی غیرجانبداری پر سوالات اٹھتے ہیں، الیکشن کمیشن کو چاہیئے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔
دوسری طرف وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے۔ وزیراعظم اورعثمان بزدار کی ملاقات میں ترین گروپ کے جائز مطالبات تسلیم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے.ذرائع کے مطابق ملاقات میں پنجاب کی سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوئی جبکہ وزیراعلیٰ نے جہانگیر ترین گروپ سے ملاقات اور ان کے مطالبات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ ترین گروپ کے جائز مطالبات تسلیم ہوں گے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی، کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کررہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں اس پر اتفاق کیا گیا کہ تحقیقات کے دوران حکومت غیر جانبدار رہے گی۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں معاشی صورتحال، آزاد کشمیر انتخابات، بجٹ اور احتساب کے معاملے پر گفتگو کی گئی۔ذرائع نے بتایاکہ اجلاس میں وزیراعظم کو ترین گروپ سے ہونے والی ملاقات پر وزیراعلیٰ پنجاب نے آگاہ کیا۔ذرائع کے مطابق کورکمیٹی اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ جائز مطالبات تسلیم ہوں گے۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھاکہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور کسی سے بلیک میل نہیں ہوں گے۔ان کا کہنا تھاکہ حکومت جاتی ہے تو جائے کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے نامزد گروپ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کی تھی جس میں عثمان بزدار نے اراکین کو تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
