حکومت کن 3 شعبوں پر ٹیکس کا بم پھوڑنے والی ہے؟

نگراں حکومت نے ٹیکس کے معاملات میں شفافیت لانے کی بجائے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے نام پر 3 نئے شعبوں پر ٹیکس کے نفاذ کا پلان تیار کر لیا ہے، معاشی بحالی کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس نے ٹیکس وصولیوں کو بڑھانے کے لیے مختلف سفارشات وفاقی کابینہ کے سامنے رکھ دی ہیں، کابینہ سے منظوری کے بعد ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہو گا اور ایف بی آر کا 92 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف پورا ہو جائے گا۔
معاشی ماہرین کے مطابق حکومت پرچون، زراعت اور ریئل اسٹیٹ سیکٹرز پر ٹیکس عائد کرنے اور منقولہ اثاثوں پر دولت ٹیکس لگانے کا منصوبہ بنارہی ہے، اس سلسلے میں حکومت نے معاشی بحالی کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی تھی جس کی سفارشات پر نئے شعبوں پر ٹیکس کا نفاذ کیا جائے گا۔ حکومت کا مشن ہے کہ آئندہ 2 سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 15 فیصدپر لائی جائے۔
ماہرین کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے معیشت اور ٹیکس ادائیگی کے نظام کو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم میں لانے کے لیے ’ڈیجیٹائزیشن‘ پر کام کیا جا رہا ہے، اس ضمن میں تمباکو، چینی، کھاد اور سیمنٹ سیکٹرز کو منتخب کیا گیا ہے، ان سیکٹرز سے ضائع ہونے والے ٹیکس کو روکا جائے گا۔ ایف بی آر نے فیصلہ کیا ہے کہ پوائنٹ آف سیلز، سنگل ونڈو اور ڈیجیٹل انوائسنگ پوری طرح سختی سے نافذ کی جائیں گی۔
معاشی امور کے ماہر سینئر صحافی مہتاب حیدر کے بقول ایف بی آر ان قوانین پر وسیع تر اتفاق رائے حاصل کر رہا ہے اور ان قوانین کو دستاویزی شکل دینے پر کام کر رہا ہے جس کے بعد ان قوانین کو آرڈیننس کے ذریعے نافذ کرایا جائے گا۔ ایف بی آر ٹیکس ریٹرن کے عمل کو سادہ بنانے کے منصوبے اور ود ہولڈنگ ٹیکس کے نظام میں اصلاحات پر بھی کام کر رہا ہے۔
مہتاب حیدر کے مطابق ٹیکس کی جی ڈی پی کے لحاظ سے شرح 9.6 فیصد ہے جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس ٹو ڈی جی پی ریشو 8.5 ہے اور گزشتہ مالی سال میں صرف 74 کھرب روپے کا ٹیکس جمع کیاجا سکا تھا، ایف بی آر نے آئندہ 2 سال کے لیے 130 کھرب کا ٹیکس ہدف تجویز کیا ہے، اس سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 15 فیصد بنتی ہے۔مہتاب حیدر نے بتایا کہ ایف بی آر کے مطابق جنرل سیلز ٹیکس کے نظام میں بہتری سے ٹیکس وصولیوں کو 30 کھرب روپے تک بڑھایا جا سکتا ہے، کسٹم ڈیوٹی و فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے 8 کھرب روپے بنائے جاسکتے ہیں۔
