کیا نان کسٹم گاڑیاں قصہ پارینہ بننے والی ہیں؟

پاکستان کے سرحدی علاقوں میں نان کسٹم گاڑیوں کی بہتات ہے، خاص طور پر سوات کے متعلق مشہور ہے کہ یہاں اتنی بکریاں نہیں ہیں جتنی لوگوں کے پاس نان کسٹم گاڑیاں ہیں، ہر شو روم میں 100 سے زائد مختلف ماڈلز کی گاڑیاں فروخت کیلئے تیار رہتی ہیں۔مالاکنڈ کے سابق ڈی آئی جی ادریس خان اکثر نجی محفلوں میں کہا کرتے تھے کہ سوات کے مقامی افراد کے ہاں بکریوں کی تعداد اتنی نہیں ہوتی جتنی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی ہوتی ہے اور وہ بس ایک گائے بیچ کر ہی ایسی جاپانی گاڑی خرید لیا کرتے ہیں۔کسٹم کے ایک افسرکے مطابق اس وقت مالاکنڈ ڈویژن میں ساڑھے 3 لاکھ سے زائد گاڑیاں شورومز میں مختلف لوگوں کی ذاتی ملکیت ہیں، اس کے علاوہ اگر دیگر قبائلی اضلاع کی گاڑیاں بھی ملالی جائیں تو یہ تعداد ساڑھے 4 لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ستمبرمیں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے خیبرپختونخوا کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی تھی جس میں انہوں نے وفاقی اداروں کو واضح ہدایات دی تھیں کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا خاتمہ کیا جائے، مالاکنڈ ڈویژن اور خیبرپختونخواکے قبائلی اضلاع میں اس وقت ساڑھے 4 لاکھ سے زائد نان کسٹم پیڈ گاڑیاں موجود ہیں۔ جب کسٹم حکام سے پوچھا گیا کہ ان گاڑیوں کے ساتھ اب کیا کیا جائے گا تو اسلام آبادمیں موجود کسٹم کے ایک اعلیٰ افسرنے بتایا کہ 5 سال بعد این سی پی گاڑی رکھنے والے مالک کے پاس 2 آپشنزہوں گے پہلا یہ کہ گاڑی کسٹم حکام کے حوالے کر دے اور دوسرا آپشن یہ ہوگا کہ اپنی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو ریگولرائز کروالے۔30 جون 2023 کے بعد مالاکنڈ ڈویژن کی تمام نان کسٹم پیڈ گاڑیاں غیرقانونی ہیں، انہوں نے وضاحت کی کہ آرمی چیف کی خصوصی ہدایات کے بعد اب ان نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سے متعلق رولز وضع کیے جا رہے ہیں کہ انہیں کیسے ریگولرائز کیا جائے۔پاکستان کسٹم کے پشاورمیں تعینات ایک اعلیٰ افسر نے بتایاکہ آرمی چیف کی جانب سے خصوصی ہدایات ملنے کے بعد اس وقت صوبائی و وفاقی حکومتیں شدید تذبذب کا شکارہے کیونکہ عام انتخابات قریب ہیں اور مالاکنڈڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں عوام کی آواز ایک تحریک کی شکل اختیارکرسکتی ہے جس کی وجہ سے کسٹم حکام کے لیے ان کے خلاف کریک ڈاﺅن کرنا فی الوقت کافی مشکل ہوگا تاہم یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو مزید کوئی توسیع نہیں دی جائے گی۔مالاکنڈ ڈویژن کے ایک اہم تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر نے مزید وضاحت کی کہ ان کو چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کی جانب سے باقاعدہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن روکی جائے جس کے بعد ان کے خلاف کریک ڈاﺅن کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کسٹم حکام کے پاس اس وقت پورے پاکستان میں کوئی بڑاویئرہاﺅس نہیں ہے جہاں پر لاکھوں کی تعداد میں پکڑی جانے والی گاڑیوں کو رکھا جاسکے اورمالاکنڈ ڈویژن میں ان کو رکھنا حکام کے لیے مزید خطرے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔2012 میں پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن کی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے خصوصی ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا جس میں تقریباً 70 ہزارکے قریب گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئی تھیں۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ایک افسر نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ موجودہ مذاکرات کے تناظرمیں حکومت پاکستان نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے کسی بھی قسم کی ایمنسٹی کااعلان نہیں کرسکتی کیونکہ حکومت نے عالمی ادارے کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس کے تحت نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی ایمنسٹی بنیادی نکات کی خلاف ورزی ہوگی، مالاکنڈ ڈویژن کے متعلق جہاں وفاقی حکومت نے خصوصی حیثیت کے خاتمے اور ٹیکس خاتمے کے لیے کوششیں شروع کی ہوئی ہیں وہیں پر علاقائی سطح پر مالاکنڈ ڈویژن کے حقوق کے لیے مختلف تحریکیں بھی شروع ہوچکی ہیں جس کا بنیادی مقصد ٹیکس کے نظام سے مزید مالاکنڈ ڈویژن کو کچھ عرصے کے لیے چھوٹ دلوانا ہے۔
