خانہ جنگی کا شکار ’’چین‘‘ عالمی طاقت کیسے بن گیا؟

دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آنے والے چین کے متعلق شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ چین کی تہذیب 5 ہزار سال پرانی ہے جبکہ یہ ملک خانہ جنگی کا بھی شکار رہ چکا ہے۔جمہوریہ چین قوموں کی برادری میں بحیثیت ایک آزاد اور خود مختار ملک ہونے کے ناطے تیزی سے ترقی کرنے والا جادوئی ملک ہے جو خاص ثقافت، روایات اور قدیم تہذیب رکھتا ہے۔ چینی تہذیب کا شمار دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک میں ہوتا ہے، اس تہذیب کی عمر تقریباً 5،000 سال پرانی ہے جب کہ اس کا پہلا تحریری ریکارڈ 4 ہزار قبل مسیح کا ہے۔چینی تہذیب کا آغاز ہوانگ ہو اور یانگزی دریاؤں کے بیچ سے ہوا اور یہ وہی علاقے تھے، جہاں سے کسانوں کی قدیم بستیاں پہلے چینی قصبوں میں اور پھر قومی یونینز میں تبدیل ہوئیں، چینی تاریخ کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، پہلا دور، قبل از سامراجی چین (221 قبل مسیح تک ژیا، شانگ، ژو کے خاندانوں کی حکمرانی)، دوسرا دور، شاہی چین کن خاندان( 221 قبل مسیح سے چِنگ خاندان کی حکمرانی 1911تک)، تیسرا دور، نیا اور جدید چین1911 سے دور جدید تک، اس دور کے بانی ماؤزے تنگ تھے، چین سامراجی تاریخ سے قبل ایک غیر مستحکم سیاسی طاقت کی علامت کے طور پر جانا جاتا تھا، جو بنیادی طور پر ایک ہی خاندان اور مذہبی رہنماؤں کے ہاتھوں میں یرغمال بنا رہا۔1644 میں چینوں نے مانچو خاندان کی سربراہی میں منگول خاندان پر دوسری بار حملہ کیا اور منگ خاندان کا تختہ الٹ دیا اور چین پر حکمرانی کا جھنڈا تھام لیا، چن کا مانچو خاندان چین کا آخری شاہی خاندان تھا، چین کے عوام نے یہاں پر بھی بس نہ کیا تو بالآخر1911 میں چین میں ماؤزے تنگ کی سربراہی میں انقلاب برپا ہو گیا جس کے بعد سے شاہی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور عوامی جمہوریہ چین کا قیام عمل میں آیا۔1949 میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی گومنڈانگ (کومنتانگ) پر فتح کے بعد ماؤ زے تنگ کی سربراہی میںعوامی جمہوریہ چین کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا۔آج چین اپنی عمدہ معاشی، سماجی اور اقتصادی پالیسیوں کی بدولت دُنیا میں سر فخر سے بلند کیے آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے، ایسا تبھی ممکن ہوا جب اس کی دیانت دار قیادت نے اپنے بانی قائد ماؤزے تنگ کی پالیسیوں پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔پورے عالم نے دیکھا کہ اپنی بقا کے لیے دُنیا کا بڑا عجوبہ ’دیوار چین‘ تعمیر کرنے والی قوم نے کیسے اپنی محنت اورلگن سے دُنیا میں انقلاب برپا کیا اور اپنے ملک پر ہونے والے سماجی، معاشی اور اقتصادی حملوں کے آگے اپنی محب الوطنی کی ’دیوارچین‘ کھڑی کر دی۔ماؤزے تنگ نے اپنی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ قیادت کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کسی بھی تاریخی عمل سے گزرنے کے دوران اس میں آنے والے ہرموڑ پرغالب تضاد یا ٹکراؤ کی نشاندہی کرے، جب ایک بار جدوجہد کا راستہ اپنا لیا جاتا ہے تو پھر اس میں معجزات خود بخود رونما ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔چین کی 74 ویں سالگرہ پر پاکستان کو بھی فخر ہے، کیوںکہ جب چین نے ’عوامی جمہوریہ چین‘ کے طور پر اپنے آزاد اور خود مختار وطن کا اعلان کیا تو اس وقت پاکستان کو بھی آزاد ہوئے 2 سال گزر چکے تھے، پاکستان کے اسی دوستانہ رویے پر چین کی قوم اور اس کی قیادت آج بھی پاکستان پر اپنی جان نچھاور کرنے کو بھی تیار ملتے ہیں۔پاکستان اور چین کی دوستی آج بھی لازوال ہے، ہر مشکل وقت میں چین نے آگے بڑھ کر پاکستان کی بے لوث مدد کی۔ ہرمقام اور فورم پر پاکستان کی سلامتی کا دفاع کیا۔

Back to top button