انٹرنیشنل بھیک مافیا پاکستانیوں کو کیسے استعمال کرتا ہے؟

پاکستان میں اس وقت جعلی ٹریول ایجنٹس کی بھرمار ہے جنھوں نے اپنے کاروبار کو فیس بک پیجچ، واٹس ایپ سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے خوب چمکا رکھا ہے، یہ لوگ خفیہ طور پر بندوں کو بیرون ممالک بھجواتے ہیں اور بھیک منگواتے ہیں ٹارگٹ پورا کرنے پر ان کو وطن واپس بلا لیا جاتا ہے۔جعلی ٹریول ایجنٹوں کے 50 سے زائد گروپوں نے مقامی گداگروں کے ذریعے سعودیہ اور عراق میں بھیک منگوانے کا دھندا شروع کر رکھا ہے۔ عمرہ، زیارت اور تعلیم کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث جعلی ٹریول ایجنٹ اور ٹھیکیدار ماہانہ لاکھوں مالیت کی غیر ملکی کرنسی بٹور رہے ہیں۔ ملک کی بدنامی کا سبب بنے والے بھکاریوں کی اکثریت کا تعلق پاکستان کے 6 علاقوں ملتان، رحیم یارخان، راجن پور گھوٹگی، جیکب آباد اور قمبر شہداد کوٹ سے ہے۔’’امت‘‘ کو دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان کے ائیرپورٹس اور زمینی سرحدی راستوں پر تعینات ایف آئی اے امیگریشن میں موجود بعض اہل کاروں کی کرپشن اور ملی بھگت سے سعودیہ اور عراق میں عمرہ، زیارت اور تعلیم کے نام پر جا کر گدا گری کرنے والوں کی تعداد میں بے انتہا اضافہ ہو چکا ہے، دونوں ممالک کی جانب سے پاکستانی حکومت کو بارہا پیغامات بھی ارسال کیے گئے جو عالمی سطح پرپاکستانی کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔سعودی عرب اور عراقی حکام کی جانب سے آنے والے ردعمل میں خود پاکستانی سینیٹرمنظور کاکڑ کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستان کے اجلاس میں سیکریٹری اوورسیز پھٹ پڑے کہ عرب ممالک میں 90 فیصد گرفتار بھیکاریوں کا تعلق پاکستان سے ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اجلاس کے بعد وزارت داخلہ کے توسط سے ایف آئی اے کو ملک بھر میں اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں جس کے نتیجے میں گزشتہ 5 دنوں کے دوران ایف آئی اے امیگریشن کی جانب سے صرف ملتان ائیر پورٹ سے 24 ایسے مرد و خواتین کو عمرہ ویزوں پر سعودیہ جانے کے دوران جہازوں سے آف لوڈ کر دیا گیا۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے دو کارروائیوں میں ایک بار 8 اور دوسری بار 16 مسافروں کو حراست میں لیا گیا۔ جس کے بعد ایسے مسافروں نے فی الوقت ایئر پورٹس پر آنا بند کردیا ہے۔ تمام مسافروں کو ان کے اصل پاسپورٹ سمیت مزید قانونی کارروائی کیلئے اینٹی ہیومن ٹریکنگ اینڈ اسمگلنگ ونگ ایف آئی اے (اے ایچ ٹی سی ) ملتان بھیج دیا گیا ہے۔ جہاں ان کیخلاف ٹریفکنگ ان پرسنز ایکٹ 2018 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، حالیہ دنوں میں بھکاریوں کو روکنے کیلئے کچھ خاص اقدامات کیے گئے ہیں۔ذرائع کے بقول دیکھنا یہ ہے کہ یہ سلسلہ کب تک سنجیدگی سے چلتا ہے کیونکہ بعض اوقات معاملہ ٹھنڈا ہونے پر ایسے مسافر دوبارہ کلیئر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ذرائع کے بقول بھکاریوں کا یہی سلسلہ زائرین کی صورت میں زمینی راستے سے مسلسل عراق بھی پہنچ رہا ہے۔ زیادہ تر ایسے پروفیشنل بھکاری پنجاب کے علاقوں رحیم یار خان، ملتان، صادق آباد، راجن پور گھوٹکی ، شہداد کوٹ اور جیکب آباد وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے زائرین کو گزشتہ ایک دہائی سے عراق پہنچانے والے 50 سے زائد جعلی کاروان سر گرم ہیں۔ جوٹورازم ڈیپارٹمنٹ سے رجسٹرڈ بھی نہیں۔ذرائع کے بقول کراچی میں ذیشان نامی شخص کا کاروان امیر مختیار کے نام سے ایک بڑا نیٹ ورک چلاتا ہے۔ جو اس وقت ایران میں ہے اور اس کے خلاف تحقیقات جاری ہے۔ یہ شخص ہزاروں شہریوں کو اسی طرح جعلسازی سے بھجوا چکا ہے۔ مزید معلوم ہوا کہ کچھ عرصہ قبل عراقی حکام نے جب مقدس مقامات پر آپریشن کیا تو درجنوں پاکستانی خواتین گرفتار ہوئیں۔ جن کی چادریں کھول کر معائنہ کیا گیا تو مختلف ممالک سے آنے والے زائرین کی جانب سے دیے گئے لاکھوں روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسیاں ملیں ۔جن میں سے آدھے پیسے انہوں نے بھجوانے والے ٹھیکیداروں کو دینے تھے۔

Back to top button