حکومت کو ٹربیونل کے سربراہ کے تقرر کیلئے منظوری کی ضرورت نہیں،

اعلیٰ آئینی عہدوں پر تقرریوں کے لیے عدالتی منظوری پر جاری بحث کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اگر اس کے چیف جسٹس ایگزیکٹو ڈومین کے تحت آنے والی تقرریوں کے عمل میں ملوث ہے تو یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔
ماحولیاتی تحفظ ٹربیونل کے چیئرمین کی تقرری پر مشاورت کے لیے وزارت ماحولیاتی تبدیلی اور وزارت قانون کی درخواست کے جواب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کورٹ رجسٹرار کے ذریعے اپنی رائے دی ہے جس میں انہوں نے اس طرح کے مشاورتی عمل میں عدلیہ کو شامل کرنے کے ثمرات کی نشاندہی کی ہے۔

حکومت نے جسٹس (ر) ضیا پرویز کو اس عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے رائے دی ہے کہ چونکہ چیئرپرسن کی تقرری کا اختیار وفاقی حکومت کا ہے اس لیے ایسی تقرری کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

مزید یہ کہ ٹریبونل کے احکامات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے چیلنج کیا جاسکتا ہے اس لیے اس کے سربراہ کی تقرری میں عدلیہ کی شمولیت انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایگزیکٹو ، مقننہ اور عدلیہ کے مابین اختیارات کی تقسیم کے اصولوں کی بنیاد پر آئین کو بنایا گیا ہے، ایگزیکٹو نوعیت کے امور میں مشاورت اور عدالتوں میں جوڈیشل افسران کی عدالتوں میں تعیناتی کو اس کے اصولوں کےطابق سمجھنا اور اس کی تشریح کرنا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت قائم عدالتوں کے جوڈیشل افسران کی تقرریوں میں ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی شمولیت نہ تو مطلوب ہے اور نہ ہی آئین سے مطابقت رکھتی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ”تاہم موجودہ کیس میں مقننہ نے واضح طور پر فراہم کیا ہے کہ ماحولیاتی ٹربیونل کے چیئرمین کی تقرری چیف جسٹس سے مشاورت سے مشروط ہوگی، اس لیے میں اس رائے میں نمایاں اصولوں کے حوالے سے اپنی قانونی ذمہ داری پوری کر رہا ہوں’۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘میری یہ رائے ہے کہ مجھے مخصوص شخص پر تبصرہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس کو ماحولیاتی ٹربیونل کے چیئرمین کے لیے تجویز کیا گیا ہے، تجویز کردہ چیئرپرسن سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہیں تاہم میری ذاتی رائے میں اس سے گریز کیا جانا چاہیے’۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ‘اسی طرح میں ہائی کورٹ کے موجودہ یا ریٹائرڈ جج کی تقرری کے حق میں نہیں ہوں’۔

انہوں نے تجویز دی کہ ‘ماحولیاتی خدشات کی اہمیت اور منفی انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے نسل انسانی کے لیے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر یہ یقینی بنانا ناگزیر ہو گیا ہے کہ صرف ایسے شخص کو مقرر کیا جائے جو نہ صرف اہل ہو بلکہ ماحولیاتی قانون اور سائنس کے میدان میں اپنے تجربے، علم اور عزم کے لیے متحرک اور معروف بھی ہو۔

چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ڈاکٹر پرویز حسن جیسے نامور پیشہ ور کی موجودگی کا شرف حاصل ہے جو ماحولیاتی قانون اور سائنس کے شعبے میں ان کی شراکت کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں وزارتیں دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ٹربیونل کے چیئرمین کی تقرری سے متعلق اہلیت کا معیارکے جائزے پر غور کر سکتی ہیں۔

اپنی تجویز کا اختتام کرتے ہوئے جسٹس اطہت من اللہ نے واضح کیا کہ ‘وفاقی حکومت کو کسی خاص شخص کے بارے میں اس عدالت کے چیف جسٹس کی منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس سے مشاورتی رائے میں نمایاں اصولوں کی خلاف ورزی کا امکان ہے’۔

Back to top button