خان کی بنی گالہ سے دُوری، سیاست یا مجبوری؟

عمران خان گرفتاری کے ڈر سے لاہور زمان پارک رہائش گاہ کو چھوڑ کر بنی گالہ منتقل ہونے سے گریزاں ہیں۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے 28 اکتوبر کو لاہور کے لبرٹی چوک سے دن 11 بجے لانگ مارچ کا اعلان کیا اور پھر لاہور ہی کے ہوکر رہ گئے۔جب عمران خان نے لاہور سے لانگ مارچ شروع کیا تو یہ لانگ مارچ سست روی کا شکار رہا اور عمران خان جی ٹی روڈ کو چھوڑ کر روزانہ واپس لاہور زمان پارک پہنچ جاتے تھے۔ تحریک انصاف کا یہ قافلہ جب وزیر آباد پہنچا تو عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور اس دن سے کپتان نے لاہور میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
لاہور منتقل ہونے سے پہلے عمران خان جب بنی گالہ میں ہوتے تھے تو اپنے قریبی دوستوں سے گپ شپ میں کہتے تھے کہ ’یہ گھر میرے دل کے بہت قریب ہے اور مجھے یہاں رہنا بہت اچھا لگتا ہے‘، تاہم اب وہ کئی ماہ سے سیاسی مصروفیات کے بہانے گرفتاری کے خوف کی وجہ سے اپنے من پسند گھر سے دُور ہیں۔
جب عمران خان کو بنی گالہ کا گھر اتنا پسند ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر عمران خان اپنے بنی گالہ والے گھر میں کیوں نہیں جاتے؟ وی نیوز نے جب یہ راز جاننے کے لیے تحقیقات کیں تو پتا کہ بنی گالہ والے گھر نہ جانے کی ایک بڑی وجہ گرفتاری کا ڈر ہے۔ کارکنان جس طرح زمان پارک میں موجود ہوتے ہیں بنی گالہ تک ان کی ویسی رسائی ممکن نہیں ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان تقریباً ساڑھے 3 سال تک پاکستان کے وزیرِاعظم رہے اور اس دوران وہ بنی گالہ ہی میں رہتے رہے۔ عمران خان اگر لاہور دورے پر بھی آتے تو شام کو واپس اسلام آباد چلے جاتے تھے اور رات آرام اپنے بنی گالہ والی رہائش گاہ میں کرتے تھے۔ تاہم اب حالات و واقعات بدل گئے ہیں اور اب عمران خان نے مجبوراً دل لاہور میں ہی لگا لیا ہے۔
وی نیوز نے یہ بھی پتا لگایا کہ خان صاحب کے بنی گالہ نہ جانے کی اور کونسی وجہ ہوسکتی ہے؟ اطلاع یہ ہے کہ عمران خان کے زمان پارک والے گھر میں جہاں وہ آرام کرتے ہیں اس کی کھڑکیوں کو بم پروف بنوایا گیا ہے۔ قاتلانہ حملے کے بعد اس گھر کی کھڑکیوں کو اپ گریٹ کیا گیا تھا۔عمران خان کا زمان پارک لاہور والا گھر تقریباً 7 کنال پر مشتمل ہے جبکہ بنی گالہ والی رہائش گاہ تقریباً 300 کنال اراضی پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنی گالہ والی رہائش گاہ کے مقابلے میں زمان پارک کا گھر چھوٹا ہونے کی وجہ سے یہاں سیکیورٹی کے بہتر انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ جب عمران خان وزیرِاعظم نہیں بنے تھے تب بشری بی بی نے کہا تھا کہ آپ پہاڑوں کے قریب رہیں گے تو وزیرِاعظم بن پائیں گے۔ لہٰذا ان کے کہنے پر عمران خان بنی گالہ ہی میں رہے اور بشری بی بی بھی ان کے ہمراہ رہیں، اب جبکہ انہیں اپوزیشن میں رہتے ہوئے بعض سختیوں کا سامنا ہے تو وہ زمان پارک شفٹ ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں کا خیال ہے کہ جو سیاسی مہم عمران خان زمان پارک لاہور سے جاری رکھ سکتے ہیں، اس کا بنی گالہ سے جاری رکھنا ممکن نہیں ہے، تاہم اگر انہیں دوبارہ اقتدار مل گیا تو عمران خان اپنی بیگم کے ساتھ بنی گالہ اپنے گھر منتقل ہوجائیں گے۔
واضح رہے کہ 1995 میں جمائما گولڈ اسمتھ سے شادی کے بعد عمران خان بنی گالہ والی رہائش گاہ میں شفٹ ہوئے۔ جمائما گولڈ اسمتھ سے طلاق کے بعد 2015 میں ریحام خان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے اور بنی گالہ والے گھر میں ہی رہائش پذیر رہے۔ کچھ ماہ چلنے والی شادی کے بعد 2018 میں بشریٰ بی بی سے شادی کی اور رہائش اسی گھر میں رکھی۔
