کیا الیکشن بارے حکومت اور پی ٹی آئی میں اتفاق ممکن ہے؟

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ایک ہی روز انتخابات کے حوالے سے مذاکرات کے دوسرے دور میں بھی کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔پی ٹی آئی مئی میں اسمبلیاں تحلیل کرنے اور جولائی میں انتخاب کرانےپر اصرار کر رہی ہے جب کہ حکومتی اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ جون میں بجٹ پیش کرنے کے بعد ستمبر میں عام انتخابات کے لیے راضی ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف اور حکمراں اتحاد کے درمیان الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے مذاکرات کا پہلا دور جمعرات کوہوا ہے۔ فریقین نے مذاکرات کے ذریعے اتفاقِ رائے قائم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروںکا کہنا ہے کہ فریقین نے یہ ادراک کر لیا ہے کہ اب اس غیر یقینی صورتِ حال سے نکلنے کا واحد راستہ مذاکرات ہی ہے۔
سیاسی امور کے تجزیہ نگار مجیب الرحمن شامی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ بھی اپنے رویے میں نرمی ؒلائی ہے اور سیاسی جماعتیں بھی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ گئی ہیں اور یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا مؤقف تیکنیکی طور پر درست ہے کہ انتخابات کا انعقاد 90 روز میں ہونا چاہیے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ججز کی جانب سے آنے والے اختلافی نوٹ اور عدلیہ کے اندر سے اٹھنے والے سوالات نے حالات کو متاثر کیا اور چیف جسٹس کو نرمی کا مظاہرہ کرنا پڑا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رُکنی بینچ نے چار اپریل کو اپنے فیصلے میں پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم دے رکھا ہے۔ تاہم وزارتِ دفاع کی جانب سے ملک میں ایک ہی روز الیکشن کرانے سے متعلق دائر درخواست پر عدالتِ عظمیٰ نے فریقین کی رضامندی کی صورت میں فیصلے پر نظرِ ثانی کا بھی عندیہ دیا تھا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سماعت کے دوران ایک موقع پر ریمارکس دیے تھے کہ اگر سیاسی جماعتیں متفق ہو گئیں تو عیدالاضحٰی کے بعد الیکشن ہو سکتے ہیں۔

مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ عمران خان نے بھی یہ سوچا ہوگا کہ اگر بات چیت کے نتیجے میں انتخابی عمل آگے بڑھتا ہے اور انتخابات کی تاریخ مل جاتی ہے تو یہ ان کے لیے بہتر رہے گا۔وہ کہتے ہیں کہ حکومت کے پاس بھی دو تہائی اکثریت نہیں ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے راستے میں دیوار کھڑی کرسکے تو فریقین نے اپنی اپنی حدود کا احساس کرتے ہوئے اپنے رویے پر نظرِ ثانی کی ہے۔مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ فریقین کی جانب سے ازسر نو جائزہ لیا گیا ہے اور بات چیت کا آغاز ہوگیا ہے لیکن اس کے نتائج کے بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

قانونی ماہر اسد رحیم کہتے ہیں کہ عدلیہ کے پاس فیصلوں پر عمل درآمد کروانے کے لیے نہ ہی فوج ہے اور نہ ہی مالیاتی وسائل دستیاب ہوتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے الیکشن کے لیے فنڈز جاری نہ کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا سہارا لے لیا ہے اور اس وقت حکومت میں شامل سیاسی جماعتیں اور الیکشن کمیشن ایک طرف ہے اور سپریم کورٹ دوسری طرف ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ سپریم کورٹ اس وجہ سے آگے نہیں بڑھ رہی ہے کہ انتخابات کے حوالے سے اس کے دو فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔اسد رحیم کہتے ہیں کہ اس صورت میں اعلی عدلیہ کے پاس پیچھے ہٹنے یا توہین عدالت کی طرف جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔

تجزیہ نگار راشد رحمن کہتے ہیں کہ انٹیلی جینس اداروں کے سربراہان نے امن و امان کے حوالے سے جو بریفنگ دی اس کے بعد چیف جسٹس کے رویے میں انتخابات کے حوالے سے نرمی پیدا ہوئی ہے اور سپریم کورٹ کے حکومت اور پارلیمنٹ کی جانب جارحانہ رویے میں کمی واقع ہوئی۔

خیال رہے کہ خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹننٹ جنرل ندیم انجم اور ڈی جی ملٹری آپریشنز نے چند روز قبل چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کی تھی۔اطلاعات کے مطابق دونوں فوجی افسران نے چیف جسٹس کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ پورے ملک میں ایک ہی روز الیکشن نہ ہونے کی صورت میں قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

 راشد رحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی اور اس کے لیے وزیر اعظم نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر وہ نااہل بھی ہو جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔اُن کے بقول اتحادی جماعتوں کے متحد رہنے اور مقتدر قوتوں کی مداخلت کے بعد اب بظاہر محاذ آرائی میں کمی آ رہی ہے۔

مذاکراتی عمل کے آغاز کے حوالے سے مجیب الرحمن شامی کہتے ہیں کہ انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ اگر پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے انتخابات کرائے جاتے ہیں تو چند ماہ کے بعد دیگر دو صوبوں اور قومی اسمبلی کے انتخاب ہونے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس عمل میں الجھن یہ ہے کہ آئین کہتا ہے کہ انتخابات کے وقت نگراں حکومت ہو گی اور اگر دو صوبوں میں ابھی الیکشن ہوجاتے ہیں تو عام انتخابات کے وقت نگراں حکومت کا قیام نہیں ہوسکے گا۔وہ کہتے ہیں کہ اس الجھن کا حل سیاسی جماعتیں ہی نکال سکتی ہیں اور اگر وہ حل نکال لیں تو آئینی معاملات بھی حل ہوجائیں گے۔

راشد رحمن کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات تو سپریم کورٹ کی مقرر کردہ تاریخ پر ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے کیوں کہ حکومت اس کے لیے فنڈز جاری نہیں کررہی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایسے دکھائی دیتا ہے کہ پی ٹی آئی صوبائی اسمبلی اور وفاق کے الگ الگ انتخابات کے انعقاد کے مؤقف میں نرمی لائی ہے۔راشد رحمن نے کہا کہ مذاکرات کے نتیجے میں اگر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوتا ہے تو ملکی بحران جاری رہے گا جس کے سیاسی، معاشی اور ہر سطح پر خطرات سامنے آئیں گے۔

Back to top button