خبردار: ابتر معاشی صورتحال بدتر ہونے جارہی ہے

غلط حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معاشی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ ابتر ہوتی چلی جارہی ہے جس کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف سے کیا جانے والا حکومتی معاہدہ ہے جو اپنے اثرات دکھا رہا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ، ملکی قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، محصولات میں کمی اور اخراجات میں تیزی کی وجہ سے ملکی معاشی صورتحال مستقبل قریب میں بھی بہتر ہونے کی بجائے مزیدخراب ہو گی۔ معیشت کی زوال پذیری کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری، شرح سود اور ملکی قرضوں میں اضافے جبکہ جی ڈی پی کی شرح میں مزید کمی کا خدشہ ہے۔ تحریک انصاف کے برسر اقتدار آنے سے لے کر تا حال اکنامک انڈیکیٹرز مسلسل معاشی زبوں حالی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ملکی معاشی صورتحال تبدیلی سرکار کے غیر مقبول فیصلوں کی وجہ سےبدترین ہو چکی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کی رائے پر مبنی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں 45؍ لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں جبکہ 15؍ لاکھ لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال میں جی ڈی پی میں افزائش کی شرح 2.4؍ فیصد رہے گی جبکہ مہنگائی کی شرح 13؍ سے 15؍ فیصد کے درمیان رہے گی۔ شرح سود میں مزید اضافے کا امکان ہے اور یہ 15؍ اور 16؍ فیصد تک جا سکتی ہے۔ جس کی وجہ سے رواں مالی سال کے دوران مزید 50؍ لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے، یہ اُن 4.5؍ ملین لوگوں کے علاوہ ہے جو گزشتہ ایک سال میں متاثر ہوئے۔ حکومت کے ایک کروڑ نوکریاں دینے کے دعووں کے برعکس افزائش کی زوال پذیری کے ساتھ مزید 15؍ لاکھ پاکستانی بیروزگار ہو سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے ابتدائی دو سال میں، خدشہ ہے کہ 30؍ لاکھ پاکستانی بیروزگار ہو جائیں گے
مالی سال 2018ء کے آخر تک کےمیکرو انڈیکیٹرز اور مالی سال 2019ء کے معاشی اعشاریوں کو دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے ایک سال میں معاشی صورتحال تیزی سے بگڑتی رہی۔ 2018ء میں جی ڈی پی میں ترقی کی شرح 5.8؍ فیصد تھی لیکن معیشت کی سست روی کی وجہ سے یہ شرح 2019ء میں 3؍ فیصد یا اس سے بھی کم ہو سکتی ہے۔ جون 2019ء کے آخر تک مالی خسارہ بڑھ کر 3.4؍ ہزار ارب روپے ہو چکا ہے جبکہ 2018ء میں جب نون لیگ کی حکومت ختم ہوئی تو اس وقت یہ 2.2؍ کھرب روپے تھا۔ دیکھا جائے تو رقم کے لحاظ سے یہ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہے۔ فیصدی لحاظ سے دیکھیں تو مالی خسارہ 8.9؍ فیصد ہو چکا ہے جبکہ 2018ء میں یہ 6.6؍ فیصد تھا۔ 8.9؍ فیصد مالی خسارہ گزشتہ 30؍ سال میں سب سے زیادہ ہے جبکہ پی ٹی آئی نے ستمبر 2018 میں مالی خسارے کا ہدف 5.1؍ فیصد مقرر کیا تھا۔ معاشی اہداف کے حصول میں ناکامی تبدیلی سرکار کی ٹیم کی ناتجربہ کاری کی عکاس ہے۔ مالی خسارے پر قابو پانے کے لئے حکومت کی طرف سے ریکارڈ قرضے لئے گئے جس سے ملکی قرضوں کا مجموعی حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔
ملکی قرضوں کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ جون 2018ء میں پاکستان پرمجموعی قرضہ جات 30؍ ہزارارب روپے تھے جو اب بڑھ کر 40؍ ہزار ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔ ایک سال میں قرضوں میں ہونے والا یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔ پاکستان کے 71؍ سال میں مجموعی قرضہ جات 30؍ ہزار ارب روپے تھے لیکن پی ٹی آئی حکومت کے صرف ایک سال میں ان میں ایک تہائی تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ماضی میں کبھی بھی کسی حکومت نے ایک سال میں اتنے زیادہ قرضے نہیں لئے۔ قرضوں کی صورتحال اخراجات او آمدنی کے حوالے سے بد انتظامی کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر یہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو خدشہ ہے کہ پورا معاشی ڈھانچہ نیچے آ گرے گا کیونکہ ہماری معیشت میں اتنے زیادہ قرضوں کا بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں۔
محصولات کے جائزے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ 2018ء میں ٹیکس سے ہونے والی آمدنی 3800؍ ا رب روپے تھی تاہم دوسری طرف بلند بانگ دعووں کے باوجود تبدیلی سرکار 2019ء میں ٹیکس ریونیوکے اہداف کے حصول میں ناکام رہی ہے۔ مسلم لیگ نون کی حکومت میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پانچ میں سے چار برسوں کے دوران انفلیشن اور روپے کی قدر کم کئے بغیر ٹیکس سے ہونے والی آمدنی میں سالانہ 20؍ فیصد اضافہ ہوا۔
2018ء میں مہنگائی انتہائی کم ترین سطح یعنی 3.9؍ فیصد پر تھی۔ موجودہ حکومت میں مہنگائی کی شرح 10.3؍ فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مقررہ شرح سود 2018ء کے وسط میں 6.50؍ فیصد تھی جبکہ پی ٹی آئی حکومت میں شرح سود13.25؍ فیصد ہے۔ نون لیگ کی حکومت ختم ہوتے وقت اسٹاک مارکیٹ 42؍ ہزار 847؍ پوائنٹس پر تھا جبکہ اب یہ 30؍ ہزار کے قریب ہے۔ نون لیگ کی حکومت ختم ہوتے وقت غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 15.913؍ ارب ڈالرز تھے جن میں سے اسٹیٹ بینک کےذخائر 9.5؍ ارب ڈالرز تھے جبکہ اب غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 15.630؍ ارب ڈالرز ہیں جن میں سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر صرف 8.271؍ ارب ڈالرز ہیں۔ یہ سب کچھ دوست ممالک اور آئی ایم ایف سے ایک سال میں حاصل کیے گئے 12؍ ارب ڈالرز کے باوجود ہے۔
2018ء میں جی ڈی پی 313؍ ارب ڈالرز تھی جبکہ 2019میں چار ارب ڈالرز کی درآمدات میں کمی لانے کے لئےتبدیلی سرکار جی ڈی پی 33؍ ارب ڈالرز کی کمی کے ساتھ 280؍ ارب ڈالرز کی سطح تک نیچے لاچکی ہے جس کے نتیجے میں جی ڈی پی زوال پذیر ہے جبکہ فی کس آمدنی 8؍ فیصد کم ہوگئی ہے۔ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کا شعبہ منفی رجحان کا شکار ہے اور پیداوار ایک سال کے دوران کم ہوگئی ہے۔ زرعی شعبہ بھی ایک فیصد کمی کے ساتھ زوال کا شکار ہے۔ کرنسی کی زبردست بے قدری کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 160؍ روپے تک گر چکی ہے۔ نون لیگ میں ایک ڈالر 116؍ روپے تک کا تھا۔ کئی دہائیوں کے دوران روپے یہ زبردست بے قدری ہے جس کی وجہ سے معیشت نمایاں حد تک زوال کا شکار ہوئی ہے۔ ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 50؍ فیصد کمی آئی۔ جس کی وجہ سے مہنگائی بڑھ گئی ہے جس سے عام پاکستانی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
تحریک انصاف کے برسر اقتدار آنے کے ایک سال کے اندر صرف ایک معاشی اعشاریہ ایسا ہے جس میں بہتری آئی ہے جاری کھاتوں کا خسارہ مالی سال 2018ء میں جی ڈی پی کا 6.3؍ فیصد یعنی 19.897؍ ارب ڈالرز تھا جو اب کم ہو کر 2019ء میں جی ڈی پی کا 4.8؍ فیصد یعنی 13.508؍ ارب ڈالرز ہو چکا ہے لیکن حکومت نے جاری کھاتوں کا خسارہ برآمدات کو بڑھانے کی بجائے درآمدات کو کم کر کے کیا ہے درآمدات میں کمی کی وجہ سے ملکی معیشت نمایاں حد تک سست ہوگئی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق جاری کھاتوں کا خسارہ برآمدات بڑھا کر کم کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوتا ہے کیونکہ اس سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں
دوسری طرف معاشی تجزیہ کارآئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد کوئی بہتری ظاہر کرنے کی بجائے ملک کی معاشی صورتحال مزید خراب ہونے کی خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔
دوسری طرف حکومتی ذمہ داران کا کہنا ہے کہ قرضوں کے بوجھ میں 7.6؍ ہزار ارب اضافے کا ذمہ دار موجودہ حکومت کو قرار دینا درست نہیں۔ گزشتہ مالی سال کے دوران خسارہ جی ڈی پی کے 8.9؍ فیصد تک پہنچنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جمع ہونے والے 3.8؍ہزار ارب کے ٹیکس ریونیو میں سے قرضہ جات کی ادائیگی میں 2.1؍ ہزار ارب روپے نکل گئے اور اس کے بعد صوبوں کو اُن کا حصہ ادا کیا گیا، جس کے بعد حکومت کو دفاعی، ترقیاتی اور سرکاری اخراجات کیلئے قرض لینا پڑا۔ تاہم حکومت ملکی معاشی صورتحال کو سنبھالنے کیلئے کوشاں ہے اور جلد عوام کو تبدیلی نظر آئے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button