خیبر پختونخوا میں PTI کو اس کی مخالف جماعتوں نے کیسے جتوایا؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ھے کہ الیکشن کے بعد ہر زبان پر یہی سوال ہے کہ پی ٹی آئی نے پختونخوا کو کیسے سویپ کیا؟ اس سب سے بڑی وجہ کے پی کے میں تحریک انصاف کی مخالف سیاسی جماعتوں کی عدم دلچسپی یا ابتر صورت حال رہی ۔ یہاں پی ٹی آئی کے سامنے کوئی متبادل قوت تھی اور نہ آج ہے۔ تحریک انصاف کو سب سے زیادہ فائدہ اس بات کا پہنچا کہ پیپلز پارٹی، نون لیگ، پرویز خٹک اور اے این پی وزارت اعلیٰ اور لاڈلہ بننے کی خواہش میں آپس میں لڑ پڑے تھے ۔ اب آپ اندازہ لگا لیجئے کہ پی ٹی آئی کو اس سے بہتر سازگار ماحول اور کہاں مل سکتا تھا جو اسے خیبر پختونخوا میں ملا ہوا۔ اپنے ایک کالم میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ شریف برادران نے ماضی میں پختونخوا پر توجہ دی اور نہ اب دے رہے ہیں۔ زرداری نے بھی سندھ کی خاطر پختونخوا سے عملاً پارٹی کا جنازہ نکال دیا ۔ نگران حکومت کے دوران جمیعت علمائے اسلام (ف) کی ایک سال کی مار دھاڑ نے اس کی اپوزیشن کے پانچ سال قربان کر دئیے۔ اے این پی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں اور تنظیم نے بڑی محنت بھی کی لیکن ایمل ولی خان کی پالیسیوں کا کوئی رخ معلوم نہیں تھا ۔ پہلے وہ روٹھوں کو منا رہے تھے لیکن اب پارٹی سے اچھے بھلے لوگوں کو نکالنے کا باعث بنے رہے ۔ پرویز خٹک جوڑ توڑ کے ماہر ضرور رھے لیکن وہ قومی جماعت کی رہنمائی کا تجربہ نہیں رکھتے تھے ۔ رہی جماعت اسلامی تو وہ پہلےسے دیر کے علاقے تک محدود ہو گئی تھی۔ پی ٹی آئی کو ایک اور بڑا فائدہ اعظم خان کی قیادت میں جے یو آئی، پی پی پی، نون لیگ اور اے این پی پر مشتمل مخلوط اور برائے نام نگران حکومت نے پہنچایا۔ جے یو آئی کو اس صوبے میں پی ٹی آئی کا متبادل سمجھا جا رہا تھا لیکن محمود خان کے استعفے کے بعد وہاں پر کابینہ کی تشکیل نو سے قبل ایک سال میں جے یو آئی کی قیادت میں سیاسی جماعتوں نے صوبے میں جو تباہی مچائی اس کی وجہ سے لوگ پی ٹی آئی کو یاد کرنے لگے۔ یہ صوبے کا ہر شخص جانتا تھا کہ پی ٹی آئی کا دور بدتر تو جے یو آئی کی قیادت میں تمام جماعتوں کے اے ٹی ایمز پر مشتمل نگران حکومت کا دور بدترین تھا۔۔

سلیم صافی سوال پوچھتے ہیں کہ کیا عمران خان کے دور میں خیبر پختونخوا کے الیکٹبلز اپنی مرضی سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے اور باقی ملک میں انہیں جبراً شامل کر دیا گیا تھا جو دیگر صوبوں کے برعکس پی ٹی آئی پختونخوا میں مختلف طریقوں سے اپنے وجود کا احساس دلاتی رہی؟۔ نہیں ہر گز نہیں۔ 2018 اور اس قبل پختونخوا میں بھی الیکٹبلز کو اسی طرح بلیک میل کر کے اور لالچ دے کر پی ٹی آئی میں شمولیت بالجبر پر آمادہ کیا گیا تھا جس طرح باقی ملک میں کیا گیا تھا۔ تو کیا خیبر پختونخوا کے لوگ عمران خان کو پختون سمجھتے ہیں اور اسی لئے ان سےجڑے رہنا ضروری سمجھتے ہیں۔ نہیں ہر گز نہیں۔ یہ وجہ ہوتی تو 1997، 2002یا 2008کے انتخابات میں بھی وہاں کے لوگ عمران خان کا ساتھ دیتے۔ تب عمران خان زیادہ مقبول اور غیرمتنازع تھے۔ ان کے بڑے بڑے سکینڈلز آئے تھے اور نہ لوگوں کو یہ علم ہوا تھا کہ اقتدار ملنے کے بعد عثمان بزدار اور زلفی بخاری ان کی سلیکشن ہوں گے۔ یہ فیکٹر ہوتا تو لوگ ان انتخابات میں بھی عمران خان کا ساتھ دیتے، حالانکہ ان برسوں میں وہ طالبان اور اینٹی امریکہ کا کارڈ بھرپور طریقے سے استعمال کر رہے تھے اور تب تک یہ حقائق بھی کھل کر سامنے نہیں آئے تھے کہ مغرب مخالف کی بجائے وہ اصلاً مغربی ایجنڈے کو آگے بڑھانے والے ہیں۔ تو کیا پی ٹی آئی نے اپنے دونوں ادوار میں خیبر پختونخوا میں بڑے انقلابی اور غیر معمولی ترقیاتی کام کئے ہیں؟ نہیں ہر گز نہیں۔ پی ٹی آئی کے دونوں ادوار اور بالخصوص دوسرا، مالی اور انتظامی حوالوں سے تاریخ کے بدترین ادوار ثابت ہوئے۔ صرف دو بڑے پروجیکٹ یعنی بی آر ٹی اور بلین ٹری سونامی سامنے آئے جو دراصل کرپشن کے ہمالیہ ثابت ہوئے۔ مالی لحاظ سے صوبہ دیوالیہ ہو گیا۔ جتنا قرضہ قیام پاکستان سے لے کر 2013تک صوبے نے لیا تھا، وہ پی ٹی آئی کے دس سال میں ڈبل ہو گیا لیکن نہ جانے وہ رقم کہاں گئی۔ پھر بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے پیسے نہیں رھے ۔

سلیم صافی بتاتے ہیں کہ فاٹا کی آبادی شامل ہو جانے کے بعد وفاقی محاصل میں صوبے کا حصہ انیس فی صد تک جانا چاہئے تھا لیکن اسے پی ٹی آئی حکومت میں سابقہ پندرہ فی صد پر منجمد رکھا گیا۔ این ایف سی کا اجلاس نہیں بلایا گیا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اب تک وہاں پولیس کے تھانے تک نہیں۔ کئی قبائلی اضلاع میں تو جج اور ایس پی کے بیٹھنے کیلئے بھی موزوں جگہ نہیں۔ یوں فاٹا کے انضمام کو غنیمت کی بجائے الٹا مصیبت بنا دیا گیا۔ کیا خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی دوسرے اور تیسرے درجے کی لیڈر شپ عمران خان کے ساتھ کھڑی رہی؟ نہیں ہر گز نہیں۔ پرویز خٹک نے بغاوت کر کے اپنی پارٹی بنائی۔ وزیراعلیٰ محمود خان پرویز خٹک کے ساتھ چلے گئے۔ سابق گورنر شاہ فرمان پہلے سے عمران خان کے بیانئے کے حامی نہیں تھے۔ پختونخوا میں بھی پی ٹی آئی کے جو رہنما غائب یا جیل میں نہیں تھے وہ کسی نہ کسی چینل سے رابطے میں تھے اور کچھ وعدوں کے عوض جان کی امان پائی۔ بلکہ جو چند ایک عمران خان کے شیر دِکھنے کی کوشش کر رہے تھے، وہ بھی درپردہ طاقتور حلقوں کی مخبری کرتے رھے ۔سلیم صافی سوال کرتے ہیں کہ اب جب ان میں سے کوئی بھی وجہ نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ الیکشن میں پختونخوا کی صورتحال دوسرے صوبوں سے مختلف رہی؟

دراصل پختونخوا ہماری اسٹیبلشمنٹ کیلئے لیبارٹری کی حیثیت رکھتا ہے اور جو بھی نیا تجربہ کرنا ہو اسے پہلے وہاں کیا جاتا ہے۔ عمرانی پروجیکٹ کیلئے باقی ملک کو 2018 میں تجربہ گاہ بنایا گیا لیکن خیبر پختونخوا کو پانچ سال قبل ٹیسٹ کے طور پر 2013میں تجربہ گاہ بنایا گیا، اس لئے وہاں پر نسبتاً لوگوں کے پی ٹی آئی سے مفادات زیادہ وابستہ ہو گئے تھے اور بیوروکریسی میں بھی ان کا اثر اسی طرح گہرا ہو چکا جس طرح کہ پنجاب میں مسلم لیگ (نون) کا ہے یا سندھ میں پیپلز پارٹی کا ہے۔ الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے دوران پی ٹی آئی کو سب سے بڑا فائدہ جے یو آئی، پی پی پی، نون لیگ اور اے این پی پر مشتمل مخلوط اور برائے نام نگران حکومت نے پہنچایا۔ ان جماعتوں نے صوبے میں جو تباہی مچائی اس کی وجہ سے لوگوں نے پی ٹی آئی کو خیبر پختونخوا میں سویپ کروا دیا ۔ آج نو مئی کے متعدد مقدمات کے ملزم علی امین گنڈا پور صوبے کے وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں ۔

Back to top button