دھوم دھڑکے سے بھیک مانگنا ہماری قومی پالیسی کیسے بنی؟

سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ ہم ایک انتہائی غریب بلکہ بھکاری ملک ہیں لیکن ہم جب بھی امداد لینے دوسرے ملک جاتے ہیں تو پورے دھوم دھڑکے سے بارات لے کر جاتے ہیں اور ہمارے لائف اسٹائل اور باڈی لینگوئج سے یوں محسوس ہوتا ہے ہم لینے نہیں بلکہ دینے آئے ہیں . ہم من حیث القوم عملاً بھکاری ہیں لیکن ہمیں بھیک میں بھی چھوٹا گوشت چاہیے ‘ ہم برینڈڈ کشکول میں اپنی ٹرمز پر بھیک مانگتے ہیں اور بھیک دینے والا نخرے کرے تو ہم ناراض ہو جاتے ہیں‘ ہم کوئی کام نہیں کرتے لیکن موٹر سائیکل ہمارے پاس نیا ہوتا ہے‘ ہم روزانہ صاف ستھرے کپڑے پہنیں گے‘ مانگ کر پٹرول ڈلوائیں گے اور پھر مختلف دستر خوانوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے ہم آج لنچ کہاں کریں گے اور ڈنر کہاں فرمائیں گے اور اس دوران اگر کوئی مخیر شخص ہم سے یہ پوچھ بیٹھے’’ بھائی آپ کام کیوں نہیں کرتے‘‘ تو ہم برامان جاتے ہیں اور کہتے ہیں ’’ہمارے پاس پلان بی بھی موجود ہے تم اپنی بھیک اپنے پاس رکھو‘‘ آپ یقین کریں یہ ہماری قومی پالیسی ہے۔ .اپنے ایک کالم میں جاوید چودھری کہتے ہیں کہ ہم اقوام عالم سے اکڑ کر مانگتے ہیں اور ایک گھر سے انکار کے بعد دوسرے گھر کی طرف نکل جاتے ہیں اور اس معاملے میں ہم اوپر سے نیچے تک ایک جیسے ہیں‘ میں نے چند دن قبل وزیرخارجہ بلاول بھٹو کے جاپانی وزٹ کی تصویریں دیکھیں‘ ایک تصویر میں یہ پورے اعتماد کے ساتھ سینہ پھلا کر کھڑے تھے اور ایک بوڑھا جاپانی جھک کر ان کے ساتھ ہاتھ ملا رہا تھا‘ میں نے اپنے ایک دوست کو تصویر بھجوائی اور اس سے پوچھا ’’یہ جاپانی کون ہے؟‘‘ پتا چلا یہ شن ایمی زومی ہے اور دنیا کی دوسری بڑی کنسٹرکشن کمپنی کی ٹاپ مینجمنٹ میں رہاتھا‘ یہ 35 سال پاکستان میں اس کمپنی کا سربراہ بھی رہا اور اس نے جاپان اور پاکستان کے درمیان تعلقات استوار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیاتھا‘ یہ شخص جاپان پاکستان ایسوسی ایشن کا چیئرمین بھی ہے‘ یہ اب تک پاکستان کو اربوں ڈالر کا فائدہ پہنچا چکا ہے مگر آپ بلاول بھٹو اور شن ایمی زومی کی باڈی لینگوئج دیکھ لیجیے‘ ایک طرف ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے دروازے پر ایڑھیاں رگڑنے والے ملک کا وزیر خارجہ اکڑ کر کھڑا ہے جب کہ دوسری طرف 26بلین ڈالر کی کمپنی کا نمایندہ عاجزی سے سر جھکا کر اس سے مل رہا ہے۔
جاوید چودھری کے مطابق آپ اسی طرح جاپان کے وزیر خارجہ اور وزیراعظم کی بلاول بھٹو سے ملاقات کی تصاویر بھی دیکھ لیں‘ آپ کو یوں محسوس ہو گا بلاول بھٹو جاپانی وزیراعظم یا وزیر خارجہ ہیں جب کہ دوسری جانب کوئی تیسری دنیا کے وزیر کھڑے ہیں اور یہ بلاول بھٹو سے امداد مانگ رہے ہیں۔ ہم بھی کیا قوم ہیں! ہم ایک طرف تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا شکار ہیں‘ ہم ڈیفالٹ کے کنارے پر کھڑے ہیں اور ہمیں اگر آئی ایم ایف سے تنکے کا سہارا نہ ملتا تو ہم اب تک دنیا کی پہلی ڈیفالٹ نیوکلیئر پاور کا اعزاز حاصل کر چکے ہوتے جب کہ دوسری طرف صرف بلاول بھٹو اور حنا ربانی کھر نے ایک برس میں بیرونی دوروں پر پونے دو ارب روپے خرچ کر دیے ‘میں دل سے سمجھتا ہوں وزیرخارجہ کو اپنا زیادہ تر وقت بیرون ملک گزارنا چاہیے۔ وزیر خارجہ کی جاب ہی دوسرے ملکوں سے تعلقات بہتر بنانا ہے اور اگر وزیر خارجہ ملک میں بیٹھا رہے گا تو پھر داخلہ اور خارجہ میں کیا فرق رہ جائے گا لیکن کیا سرکاری جہازوں پر جانا اور تیس تیس لوگوں کو ساتھ لے کر جانا اور پھر فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رہنا بھی ضروری ہے؟ ا‘ ہم ایک انتہائی غریب بلکہ بھکاری ملک ہیں لیکن ہم جب بھی امداد لینے جاتے ہیں تو پورے دھوم دھڑکے سے بارات لے کر جاتے ہیں اور ہمارے لائف اسٹائل اور باڈی لینگوئج سے یوں محسوس ہوتا ہے ہم لینے نہیں بلکہ دینے آئے ہیںلہٰذا سوال یہ ہے کیا ہم اس طرز حکمرانی کے ساتھ ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکیں گے؟۔
ہم اگر جاپان اور پاکستان کی ایکسپورٹس اور فارن ایکسچینج ریزروز کا تقابل کریں تو ہمارے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے‘ ہماری کل ایکسپورٹس 20 بلین ڈالر ہیں جب کہ جاپان نے پچھلے سال746 بلین ڈالرز کی ایکسپورٹس کی تھیں‘ ہمارے فارن ایکسچینج ریزروز چاربلین ڈالرز ہیں جب کہ جاپان کے مالیاتی ذخائر 1254بلین ڈالر ہیں۔
آپ ان اعدادوشمار کے ساتھ جاپان کے لیڈرز اور اپنے لیڈرز کی باڈی لینگوئج اور لائف اسٹائل دیکھ لیجیے‘ آپ کو فوراً جاپان کی ترقی اور اپنی پستی کی وجہ سمجھ آ جائے گی‘
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ آپ افسروں سے لے کر بزنس مینوں تک دیکھ لیں آپ کو ان میں اکڑ اور نمائش ملے گی‘ آپ اس کے مقابلے میں کبھی انڈیا جا کر دیکھیں‘ ان کے لیڈرز اور ارب پتیوں میں عاجزی بھی ملے گی اور سادگی بھی جب کہ ہمارے بھکاریوں کے پاس بھی اسمارٹ فون ہوتے ہیں اوریہ بھیک بھی پوری بدمعاشی کے ساتھ مانگتے ہیں‘ آپ انڈیا میں ان کی صدر ‘ وزیراعظم نریندر مودی اور آرمی چیف منوج پانڈے کو دیکھ لیں‘ آپ کو ان میں سادگی اور عاجزی دونوں ملیں گی جب کہ سرحد کی اس طرف یہ دونوں غائب ہیں‘یہ صورت حال افسوس ناک ہے لیکن یہ صورت حال دن بہ دن مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔
یہ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک ہے چناں چہ ہمیں اب فیصلہ کرنا ہوگا ہمیں جاپان بننا ہے یا پھر پاکستان ہی رہنا ہے‘ ہمیں اگر جاپان بننا ہے تو پھر ہمیں امداد اور بھیک کے ٹریپ سے بھی نکلنا ہوگا اور شاہی اخراجات سے بھی جان چھڑانی ہو گی‘ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا ہمارے صدر‘ وزیراعظم اور وزراء کمرشل فلائٹس پر سفر کریں‘ بیرون ملک ان کے لیے کرائے پر گاڑیاں بھی نہ لی جائیں اور یہ فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بھی نہ رہیں‘ یہ سفیر کی رہائش گاہ یا ایمبیسی میں رہیں اور یہ مہنگے سوٹس بھی نہ پہنیں۔
خدا کی پناہ آدھے ملک کے پاس کھانے کے لیے روٹی نہیں اور وزیر دس دس لاکھ روپے کے سوٹ پہن کر جہاز لے کر کبھی امریکا چلے جاتے ہیں اور کبھی چین اور اس کے باوجود ہمیں شرم بھی نہیں آتی۔
