دہشت گرد کو بھی بغیر عدالتی کارروائی نہیں مار سکتے
صحافی بلاگر مدثر نارو کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ دہشت گرد کو بھی بغیر عدالتی کارروائی کے مار نہیں سکتے ہیں۔
کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے بتایا کہ مدثر نارو کی فیملی کی ملاقات وزیراعظم سے کرائی گئی، ہمیں کچھ وقت دے دیا جائے تو ہم اس کی رپورٹ جمع کراتے ہیں، وزیراعظم نے بہت شرمندگی کا اظہار کیا جب مدثر نارو کی فیملی سے وہ ملے،
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہاں کوئی احتساب نہیں، یہاں کوئی ریاست کے اندر ریاست نہیں یہاں ایک آئین ہے قانون ہے ، یہاں آج تک اس قسم کے کیسز میں کوئی تحقیقات نہیں ہو سکیں، ریاست اس کی ذمہ دار ہے اب یہ معاملہ ختم ہونا چاہئے ، دہشت گرد بھی ہو تو اس کو آپ بغیر کسی عدالتی کارروائی کے مار تو نہیں سکتے،
کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ نیشنل سیکورٹی کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا، آرٹیکل چھ کے تحت جن کو سزا ہو چکی، ہم تو اس پر بھی عمل نہیں کرا سکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ:شہباز شریف ، حمزہ شہباز مرکزی ملزم نامزد
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم اس پر پھر فیصلہ کر دیتے ہیں کہ جتنے چیف ایگزیکٹو گزرے یا یہ ہیں ان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں عدالت کی معاونت کروں گا ، میں بھی رول آف لا اور جمہوریت کو سپورٹ کرتا ہوں۔ ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں کل ہی اس معاملے پر عدالت کی معاونت کے لیے تیار ہوں۔عدالت نے کیس کی سماعت 18 جنوری تک ملتوی کردی۔
