دہشت گرد گرینیڈ کی پن نکالنے والا تھا کہ اسےگولی مار دی’

کراچی میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی بڑی کارروائی کو ناکام بناتے ہوئے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملے کی کوشش کرنے والے چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
دہشت گردی کی اس کارروائی میں دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور 2 سیکیورٹی گارڈ شہید ہوئے۔دہشت گردوں کے اس حملے کو اپنے حوصلے اور جرأت سے ناکام بنانے میں شریک ایک پولیس اہلکار نے میڈیا کے سامنے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کرنے والے ایک حملہ آور کو شوٹ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ مر گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پرحملہ آوروں نے آپس میں گفتگو کے دوران میرا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک بندہ اور بھی زندہ ہے جو ہمیں شوٹ کر رہا ہے، یہ الفاظ میں نے واضح طور پر سنے تھے، اس کے بعد میں نے فائرنگ بند کردی اور وہ چلے گئے۔
پولیس اہلکار کے مطابق حملہ آوروں نے کہا کہ دو بندے آگے فائرنگ کرتے جاؤ اور ایک بندہ ہمیں کور دے، دونوں میں سے ایک بندہ فائرنگ کرتا، دوسرا گرینیڈ پھینکتا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ‘دوسرا بندہ جیسے ہی نکلا تو اس نے مجھے دیکھ لیا تھا، میں نے اسے دو گولیاں ماریں تو وہ زخمی ہو گیا، اس نے گرینیڈ نکالا تو میں نے گولی ماری جس سے گرینیڈ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا، وہ گرینیڈ کی پن نکالنے والا تھا کہ میں نے اس کے سر پر گولی ماری جس سے وہ نیچے گر گیا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جیسے ہی وہ گرا تو دو بندے آگے آ گئے جن میں سے ایک کو میں نے پیچھے سے گولی ماری جس سے وہ زخمی ہو گیا جس کے بعد آگے بھائی (دوسرے اہلکار) نے کارروائی کی‘۔
جائے وقوع پر موجود رضوان احمد نامی ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ مسلح حملہ آوروں کی لاشوں کے پاس سے برآمد ہونے والے سامان سے کھانے پینے کی اشیا بھی برآمد ہوئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا دیر تک محاصرہ کرنے کا ارادہ تھا لیکن پولیس نے ان کی کوشش ناکام بنادی۔
