رنگ روڈ اسکینڈل میں شہزاد اکبر نے کیا واردات ڈالی؟

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل وزیراعظم عمران خان کے علم میں کوئی بیورکریٹ نہیں بلکہ ان کے اپنے مشیر شہزاد اکبر لے کر آئے تھے اور بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ گوجر خان میں اپنے بھائی مراد اکبر اور وفاقی وزیر محمد میاں سومرو کی ہمشیرہ کے مابین زمین کے پرانے تنازعے پر اپنا اُلو سیدھا کرنا چاہتے تھے۔ ایسا کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے زلفی بخاری اور غلام سرور خان کو تو پھنسوا دیا لیکن بحریہ ٹاؤن والے ملک ریاض کا فائدہ کرواتے ہوئے راولپنڈی رنگ روڈ کے اطراف تمام نئی ہاوسنگ سوسائٹیز کے بزنس تباہ کروا دیے جن کو بحریہ ٹاون والے اپنے لیے ایک خطرہ محسوس کر رہے تھے۔
مصدقہ ذرائع سے بتایا جاتا رہا ہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی جو کہانی وزیراعظم کو بتائی گئی وہ پوری نہیں ہے بلکہ اس کا آغاز تب سے ہوتا ہے جب گوجر خان میں ایک قیمتی زمین کا جھگڑا شروع ہوا تھا۔ یہ زمین سندھ سے تعلق رکھنے والے معروف سیاستدان محمد میاں سومرو کی بہن ملیحہ سومرو کی ہے جن کی شادی گوجر خان کے سہراب ملک سے ہوئی۔ محمد میاں سومرو کا بھانجا بیرسٹر فہد ملک کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد میں قتل کر دیا گیا تھا۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بیرسٹر فہد ملک سے زلفی بخاری کی بہن کی شادی ہوئی تھی۔ اس حقیقت سے بھی کم ہی لوگ آشنا ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاون میں نامزد مرکزی ملزم اور شہباز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ دراصل زلفی بخاری کے ماموں ہیں۔ ڈاکٹر توقیر شاہ کے ایک کزن ذیشان نقوی عرف شانی شاہ اسلام آباد کے ڈپٹی میئر ہیں، شانی شاہ کا تعلق ن لیگ سے ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مضافات میں ان سادات کی خاندانی زمینیں ہیں، جب اسلام آباد اور راولپنڈی پھیلنے لگے تو ان زمینوں کی قیمتیں بھی بڑھنے لگیں۔
راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل سے یہ بات سامنے آئی کہ اس منصوبے کی توسیع سے توقیر شاہ کی خاندانی زمینوں کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوا اور اس کام میں زلفی کا ہاتھ تھا۔ اسی طرح ٹیکسلا راولپنڈی کے ساتھ واقع ہے اور اس علاقے میں وفاقی وزیر غلام سرور خان کی برادری کی بہت ساری زمینیں ہیں، غلام سرور خان کا انتخابی حلقہ بھی یہی ہے۔ سو راولپنڈی اور اسلام آباد کے ایک کنارے سادات کی زمینیں ہیں یا پھر غلام سرور خان کی برادری کی جبکہ دوسرے کنارے کی طرف ہائوسنگ پروجیکٹ بنانے والے اس اہم کردار یعنی بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض حسین کی سوسائٹی ہے۔ شہزاد اکبر کا تعلق اتفاق سے گوجر خان سے ہے اور آج کل وہ بھی عمران خان کی طرح ملک ریاض کے کافی قریب شمار کیے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس لندن سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں شہزاد اکبر کو ملک ریاض سے ایک بریف کیس پکڑتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کپتان کی ناک کے عین نیچے شہزاد اکبر خوب مال بنا رہے ہیں۔ یہ بھی بتایا جا رہا یے کہ پنڈی رنگ روڈ سکینڈل کو اچھال کر شہزاد اکبر نے جہاں ایک طرف کپتان کے پیاروں کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے وہیں چھوٹی ہاوسنگ سوسائٹیز کے مالکان کو بھی خاصی زک پہنچائی ہے جس کے نتیجے میں ہمیشہ کی طرح ملک ریاض کے وارے نیارے ہو گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد میاں سومرو کی ہمشیرہ کی زمین کا تنازعہ اتفاق سے وزیراعظم کے طاقتور مشیر شہزاد اکبر کے بھائی مراد اکبر سے تھا، بھائی طاقتور مشیر بنا تو مراد اکبر بھی مرادیں پانے نکلا۔ اس تنازع کی وجہ سے پنڈی کی انتظامیہ پر طاقتوروں کا پریشر بڑھنے لگا ایک طرف وفاقی وزیر محمد میاں سومرو تو دوسری طرف وزیراعظم کا بہت طاقتور مشیر شہزاد اکبر تھا۔ یہ معاملہ پنڈی کے کمشنر کے پاس آیا تو قاری خوشی محمد الازہری کے صاحبزادے راولپنڈی کے کمشنر کیپٹن (ر) محمد محمود نے حق اور میرٹ پر فیصلہ کر دیا جو شہزاد اکبر کو برا لگا۔ انہوں نے وزیراعظم کو کچھ خفیہ معلومات دیں تو رنگ روڈ کا قصہ کھل گیا۔ بعد ازاں شہزاد اکبر نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو ساتھ ملایا، خفیہ معلومات فراہم کرنے والے سول ادارے آئی بی کا سربراہ پہلے ہی سے ان کا دوست ہے، سو یہ ٹرائیکا راولپنڈی کے کمشنر کیپٹن (ر) محمود کے خلاف ہو گیا۔ انہوں نے وزیراعظم کے کان خوب بھرے۔ خیال رہے کہ یہ وہی ٹرائیکا ہے جس نے جہانگیر ترین کو کپتان سے دور کیا تھا۔
اسلام آباد کے صحافتی حلقوں میں اس نکتے پر بحث ہورہی ہے کہ یہ ٹرائیکا کبھی کچھ کرتا ہے تو کبھی کچھ، یہی ٹرائیکا وزیراعظم کے دفتر میں سازشیں تیار کرتا ہے اور شام کو مارگلہ سے لپٹے ہوئے ایک گھر میں بیٹھ کر مکمل منصوبہ بندی کرتا ہے، پورا کھیل بناتا ہے۔ اسی لیے رنگ روڈ کی ابھی تک کی کہانی میں وہ نام سامنے نہیں آئے جن کے لئے سب کچھ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا یے کہ اصل کہانی یہ ہے کہ ن لیگ کے دور میں بننے والی لاہور رنگ روڈ کی طرح ملک ریاض ہی کو فائدہ پہنچانے کیلئے پنڈی رنگ روڈ کا منصوبہ بھی ڈیزائن ہوا۔ اب چونکہ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض ہر حکومت کے ساتھ مل جاتے ہیں، تو وہ موجودہ حکومت کے ساتھ بھی مل گئے اور اس مرتبہ شہزاد اکبر کے ذریعے خوب فائدہ اٹھایا اور بدلے میں انہیں بھی مالامال کردیا ہے۔ اس سکینڈل میں ایک کردار چاچا مجید بھی ہے جس کی ہائوسنگ سوسائٹیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے رنگ روڈ کی لمبائی کو بڑھایا گیا۔ خیال رہے کہ اسے پنجاب کا وزیراعلیٰ عثمان بزدار چاچا کہتا ہے، لہازا اس سکینڈل میں وزیراعلیٰ پنجاب بھی شامل ہیں۔ اسکے علاوہ پنجاب کا ایک طاقتور بیوروکریٹ بھی شامل ہے جو وزیراعلیٰ پنجاب کا قریب ترین ہے، جس نے شہزاد اکبر کے ساتھ مل کر راولپنڈی کے کمشنر کیپٹن (ر) محمود کو فارغ کیا اور پھر نئے کمشنر کے طور پر اس بدنام شخص کو لے آئے جس نے ڈسکہ کا الیکشن چرانے کی کوشش کی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں موجودہ حکومت کی کچھ کچھ اہم شخصیات کا فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن لیکن اس میں کاروباری افراد کا برا نقصان ہوا ہے، بنیادی طور کئی ہائوسنگ سوسائٹیاں بدنام ہوئیں ہیں جس کا فائدہ ملک ریاض حسین کو ہوا جو ہر حکومت میں فائدہ سمیٹنے کا ماہر ہے۔
