عمران سیلیکٹڈ ہے یا ریجیکٹڈ، سوشل میڈیا پر بحث جاری

جہانگیر ترین کا ہم خیال گروپ تشکیل پانے کے بعد ٹوئٹر پر حکومتی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے حق میں’آئی سٹینڈ ود‘ کا ٹاپ ٹرینڈ چلائے جانے کے بعد اب ٹوئٹر پر ایک اور ٹاپ ٹرینڈ ’ریجیکٹڈ سلیکٹڈ‘ سامنے آ گیا ہے۔
جہاں 19 مئی کو پی ٹی آئی کے وزراء اور رہنماؤں کی طرف سے عمران خان کی حمایت میں سارا دن ٹویٹس ہوتے رہے وہیں 20 مئی کا دن پی پی پی کے نام رہا۔ یہ ٹاپ ٹرینڈ تب شروع ہوا جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ٹویٹ کیا کہ ’میرا نام بلاول بھٹو زرداری ہے اور میں پاکستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوں جنھوں نے سلیکٹڈ کو ریجیکٹڈ کیا ہے۔‘ بلاول بھتو کی ٹویٹ کے بعد پی پی پی کے دوسرے رہنماؤں پر بھی لازم ہو گیا تھا کہ وہ بھی اپنا حصہ ڈالیں۔ چنانچہ سب سے پہلے قمر زمان کائرہ نے اپنے نام کے ساتھ وہیں بات کہی جو بلاول نے اپنی ٹویٹ میں کہی تھی۔ اس کے بعد ٹوئٹر پر دھرا دھڑ سلیکٹڈ ریجیکٹڈ کا ترجنڈ چل پڑا جو دیکھتے ہی دیکھتے ٹاپ ٹرینڈ کی شکل اختیار کرگیا۔ ایک وقت پر ٹویئٹر پر ’ریجیکٹڈ سیلیکٹڈ‘ تو پاکستان میں پہلے نمبر پر ٹرینڈ کر رہا تھا۔
اس سے ایک روز پہلے ٹوئٹر پر ‘آئی اسٹینڈ ود’ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ تھا اور اس کا مقصد جہانگیرترین کی جانب سے اپنا علیحدہ سیاسی دھڑا بنائ جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان کی پریشانی دور کرنے کے لیے انکے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا۔ سوشل میڈیا پر ’آئی سٹینڈ ودعمران خان‘ کے ہیش ٹیگ کے بیج حکمراں جماعت تحریک انصاف کے وزرا اور کارکنان نے بوئے تھے۔ یاد رہے کہ جب سے ہم خیال گروپ بنا ہے پاکستانی میڈیا میں عمران خان اور عثمان بزدار کی حکومتوں کے ختم ہونے کے حوالے سے افواہوں نے شدت اختیار کر لی ہے۔ چنانچہ اپنے وزیراعظم کی پریشانی کم کرنے کے لئے حکومت کی سوشل میڈیا ٹیم نے ٹوئٹر پر ‘آئی سٹینڈ ود’ کا ٹرینڈ چلایا تا کہ خان صاحب حوصلے میں رہیں۔
جب سے ہم خیال گروپ بننے کی خبر سامنے آئی ہے حکمراں جماعت کی قیادت میں بظاہر ایک تشویش محسوس کی جا رہی ہے جسے سوشل میڈیا پر بھی بھانپا جاسکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سمیت کئی وفاقی وزرا اور تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں نے ’آئی سٹینڈ وِد عمران خان‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کیا۔
تاہم اس کے بعد ٹوئٹر پر کچھ دلچسپ تبصرے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ نوشین لکھتی ہیں کہ ’کپتان کے ساتھ کھڑے ہونے والے تمام لوگوں کے لیے کھڑے ہو کر تالیاں۔۔۔ اب سب مہربانی فرما کر بیٹھ جائیں۔‘
علی مرتضیٰ کا ردعمل کچھ ایسا تھا جیسے کسی مہمان کو گھر میں خوش آمدید کیا جاتا ہے۔ ’ارے آپ کھڑی کیوں ہیں۔ آپ بیٹھ جائیں پلیز۔‘ مگر کچھ صارفین نے سیاسی وفاداریوں کے اظہار کے بجائے دوسرے چیزوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔ جیسے سعدیہ احمد ایک تصویر میں آلو گوشت کے ساتھ کھڑی ہیں‘، ثنا آفریدی ایک تصویر میں اپنے شوہر کے ساتھ کھڑی ہیں‘ اور جاوید ’پی ایس ایل کے چھٹے سیزن کے بقیہ میچز کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘ مگر بعض افراد نے ’آئی سٹینڈ وِدعمران خان‘ کے ہیش ٹیگ کو کافی سنجیدگی سے استعمال کیا ہے۔ جب وفاقی وزیر شفقت محمود نے ’عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے‘ کا اعلان کیا تو نمرہ نے بڑے انگریزی حروف میں جارحانہ انداز میں پوچھا کہ ’کیا آپ لوگ پلیز طلبہ کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں، ان کے مستقبل کے لیے، اور ہمارے امتحانات موخر کرسکتے ہیں تاکہ ہم بہتر کارکردگی دکھا سکیں؟ اسی طرح علشبہ نے گزارش کی کہ ’ویسے تو میں عمران خان کے ساتھ ہی کھڑی ہوں لیکن کیا آپ امتحانات منسوخ کر سکتے ہیں؟‘ عدنان نظیر نے سیاسی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سب لوگ بجٹ تک ہی کھڑے ہوں گے، اس کے بعد بیٹھ جائیں گے۔‘ سیٹھ احسن نامی صارف کی نصیحت یہ ہے کہ ’تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز، دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا۔ انہون نے لکھا کہ سامنے کھڑے مخالف سے زیادہ خطرناک آپ کی صفوں میں کھڑے منافق ہوتے ہیں اور ویسے بھی محسن کشی کرنے والے کا اپنا انجام بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ ہونے جا رہا ہے۔
