روسی تیل کی خریداری سے امریکہ پاکستان کشیدگی کا خطرہ

بالآخر پاکستان نے روس سے سستا تیل خریدنے کا فیصلہ تو کر لیا ہے لیکن سفارتی حلقوں کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کا باعث بنے گا۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس سے پیار کی پینگیں بڑھانے پر امریکی ناراضی کا ٹریلر سابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس کے بعد چل چکا ہے جس سے واضح ہے کہ اگر پاکستان نے روسی تیل خریدا تو امریکہ سے تعلقات میں مزید کشیدگی آئے گی، یاد رہے کہ عمران حکومت جانے کے بعد شہباز حکومت نے روس سے دوری اختیار کی تھی لیکن اب تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دوبارہ روس کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔
وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک کی سربراہی میں ایک اعلیٰ وفد اسوقت ماسکو کے سرکاری دورے پر ہے جہاں وہ روسی حکام سے رعایتی قیمت پر خام تیل کی درآمد کے امکانات پر بات چیت کر رہا ہے، اس دورے کے دوران ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے دونوں ملکوں کی جانب سے کوئی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں، تاہم توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر پاکستان کی حکومت نے روس سے سستا خام تیل خریدنے کی خواہش کا اظہار کر رکھا تھا۔
رواں ماہ کے آغاز میں مصدق ملک نے بتایا تھا کہ پاکستان نے روس کو اپنی توانائی ضروریات کے حوالے سے خط لکھا ہے اور ہم گیس اور تیل خریدنے کے لیے تیار ہیں، یہ دورہ ایسے وقت میں کیا گیا جب جنوبی ایشیائی ممالک موسمِ سرما کے آتے ہی گھریلو گیس کی سپلائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مشکلات کا شکار ہیں، دوسری جانب توانائی کی مد میں ادائیگیوں کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانا بھی ایک چیلنج ہے۔
واضح رہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد روسی تیل اور گیس پر انحصار ختم کرنے کی بات ہو رہی ہے تاکہ روس کی آمدنی کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ تاہم بھارت نے اس صورتِ حال میں روس سے اپنے تیل کی درآمد کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، وزارتِ پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق مصدق ملک کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے تیل فراہمی کی مقدار، قیمت، ادائیگیوں کے طریقہ کار، روٹ اور شپمنٹ لاگت وغیرہ پر بات چیت کی۔ اس کے علاوہ روس کے ساتھ نارتھ ساؤتھ پائپ لائن پر کام جلد شروع کرنے سے متعلق بھی بات کی گئی جو کہ کراچی سے لاہور تک تعمیر کی جانی ہے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی بتایا تھا کہ وزیرِ مملکت پیٹرولیم مصدق ملک کی قیادت میں وفد تیل کے معاہدے پر بات چیت کے لیے روس جارہا ہے، اسحاق ڈار نے اُمید ظاہر کی تھی کہ یہ دورہ کامیاب ہوگا اور حکومت پاکستان جلد ہی روس سے سستے داموں تیل اور گیس حاصل کرنے کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی وفد کا روس کا دورہ اقتصادی تعاون سے زیادہ سفارتی نوعیت کا لگتا ہے اور اس کی کامیابی کے نتیجے میں پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ماہر توانائی عمران الحق کہتے ہیں کہ پاکستان کو خام اور قابلِ استعمال دونوں قسم کے تیل اور گیس کی ضرورت ہے جوکہ روس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔پاکستان اور روس کے درمیان حکومتی سطح پر معاہدے سے کچھ رعایت اور مؤخر ادائیگی جیسی بہت سی آسانیاں مل سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس حکومت سے حکومت کی سطح پر اگر قیمت میں رعایت دے تو بہت فائدہ ہوگا لیکن عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھی ہوئی قیمتوں کے باعث اس کے امکانات کم ہیں، سابق حکومتی عہدیدار نے کہا کہ ایل این جی کے لیے ہمیں جہاز سے ہی ترسیل کرنا ہوگی کیوںکہ روس اور پاکستان کے درمیان کوئی گیس پائپ لائن موجود نہیں، جوکہ عالمی منڈی میں موجودہ قیمت اور سمندری فاصلہ زیادہ ہونے کی بنا پر پاکستان کو زیادہ سستا نہیں مل سکے گی۔کراچی سے لاہور گیس پائپ لائن کی تعمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ پائپ لائن پچھلے پانچ برس سے زیرِبحث ہے اور اگر اس پر اتفاق بھی کرلیا جائے تو بھی اس کی تعمیر کے آغاز میں دو سال تک لگ جائیں گے۔
پاکستانی وفد کے دورہ روس کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی تیل کی ضروریات کو سمجھ سکتے ہیں دیگر حکومتوں پر بھی سستا تیل خریدنے کے لیے دباؤ ہے۔ امریکہ نے روس پر تیل برآمد کرنے کے لیے اب تک پابندیاں نہیں لگائیں، اتحادیوں کے ساتھ مل کر مہنگے تیل کے عالمی منڈی پر اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سابق حکومتی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ اعلانیہ طور پر پاکستان کی روس سے تیل کے حصول کی مخالفت نہیں کرے گا لیکن اس اقدام پر وہ خوش نہیں ہوگا، کچھ تجزیہ کاروں کے خیال میں حکومتی وفد کا دورہ روس توانائی کے حصول سے زیادہ سیاسی مقاصد کے لیے دکھائی دیتا ہے کیوںکہ تحریک انصاف یہ تواتر سے کہتی آ رہی ہے کہ ان کی حکومت روس سے سستا تیل حاصل کرنے کے معاہدے کے قریب تھی کہ ان کی حکومت کا عدم اعتماد کے ذریعے خاتمہ کر دیا گیا۔
عمران الحق سمجھتے ہیں کہ امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے بعد پاکستان کے روس سے تیل و گیس کی خریداری پر کوئی پابندی یا رکاوٹ نہیں ہوگی، پاکستان اپنی ضرورت کا 85 فی صد تیل درآمد کرتا ہے جس میں خام تیل اور قابل استعمال تیل دونوں شامل ہیں۔
