پاک فوج کا دشمن TTP لیڈر امریکہ کی موسٹ وانٹڈ لسٹ میں شامل

امریکہ نے القاعدہ برصغیر کے تین جنگجوؤں سمیت عالمیت دہشت گردوں کی فہرست میں تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر قاری امجد کا نام بھی شامل کر دیا ہے جس نے حکومت پاکستان کے ساتھ سیز فائر ختم کر کے ملک بھر میں سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ قاری امجد عرف مفتی مزاحم نے 28 نومبر کو ٹی ٹی پی کی نام نہاد وزارت دفاع کی جانب سے پریس ریلیز جاری کی تھی، جس میں پاکستان کے ساتھ فائر بندی ختم کرتے ہوئے دوبارہ سیکیورٹی فورسز پر حملے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، بیان میں کہا گیا تھا کہ حال ہی میں ضلع بنوں اور لکی مروت سمیت مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج کی طرف سے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے خلاف مسلسل کارروائیاں ہو رہی ہیں اور ان حملوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، بیان میں کہا گیا کی اس صورت حال میں تمام تحصیل اور اضلاع کے لیڈرز کو حکم دیا جاتا ہے کہ ملک بھر میں جہاں بھی آپ کی رسائی ہو سکتی ہے، پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملے کریں۔

اس حکم نامے کے دوسرے ہی روز 30 نومبر کو تحریک طالبان نے بلوچستان میں پولیو ٹیم کو تحفظ دینے والے سیکیورٹی فورسز کے ٹرک پر حملہ کیا جس میں پانچ افراد جاں بحق ہوگئے تاہم یکم دسمبر کو امریکی محکمہ خارجہ نے القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے جن چار رہنماؤں کو ایگزیکٹو آرڈر کے تحت عالمی دہشت گرد کے طور پر نامزد کیا ہے، اس میں قاری امجد عرف مفتی مزاحم بھی شامل ہے۔ دہشت گرد قرار دیئے جانے والے دیگر طالبان لیڈران میں القاعدہ برصغیر کے امیر اُسامہ محمود، القاعدہ برصغیر کے نائب امیر عاطف یحییٰ غوری اور القاعدہ برصغیر کی ریکروٹمنٹ برانچ کے ذمہ دار محمد معروف شامل ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے نائب امیر قاری امجد خیبر پختونخوا میں آپریشنز اور عسکریت پسندوں کے نگران ہیں۔ قاری امجد کا نام امریکہ کی جانب سے پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد کی لسٹ میں بھی شامل تھا لیکن اب اسے عالمی دہشت گرد اور امریکہ کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ امریکہ، افغانستان میں برصغیر پاک و ہند میں سرگرم القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے انسداد دہشت گردی کے اپنے تمام وسائل استعمال کرنے کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں، نامزد افراد کی تمام جائیداد اور مفادات جو امریکی دائرہ اختیار میں ہیں، محدود کر دیئے گئے ہیں اور تمام امریکی افراد کو ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی لین دین میں ملوث ہونے سے منع کیا گیا ہے۔

امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ اینٹنی بلنکن نے ٹویٹ کی کہ امریکہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی جانب سے درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ دہشت گرد افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہ کریں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ افغانستان میں قائم القاعدہ برصغیر اور ٹی ٹی پی کے چار رہنماؤں کو عالمی دہشت گرد نامزد کیا گیا ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ٹویٹ کی کہ القاعدہ برصغیر کے رہنماؤں اسامہ محمود، عاطف یحییٰ غوری اور محمد معروف اور ٹی ٹی پی رہنما قاری امجد کو دہشت گرد قرار دینا، ہمارے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی دہشت گرد گروہوں کی طرف سے لاحق خطرے کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔اس نے مزید لکھا کہ امریکی اقدامات ایک بار پھر ظاہر کرتے ہیں کہ ہم اپنے اس عزم کو برقرار رکھنے کے لیے تمام متعلقہ ذرائع استعمال کرتے رہیں گے کہ بین الاقوامی دہشت گرد افغانستان میں کام کرنے کے قابل نہ ہوں۔

یاد رہے کہ قاری امجد کالعدم ٹی ٹی پی کے نائب امیر اور آجکل تنظیم کی نام نہاد وزارت دفاع کے وزیر ہیں۔ قاری امجد کا پورا نام قاری امجد علی ہے اور ٹی ٹی پی سرکل میں انہیں مفتی حضرت، مفتی مزاحم اور مفتی دیروجی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ قاری امجد کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر کی تحصیل ثمر باغ سے ہے اور ان کے خلاف تیمرگرہ، بلامبٹ، منڈا اور ثمر باغ  پولیس سٹیشن میں دہشت گردی کے مختلف مقدمات بھی درج ہیں۔ وہ ٹی ٹی پی سوات کے سرگرم رکن رہے ہیں اور امریکہ کے ادارے فارن ایسیٹ کنٹرول دفتر کے مطابق وہ افغانستان کے صوبہ کنڑ کے علاقے ڈانگام میں رہائش پذیر ہیں۔

Back to top button