ریاست کی تیار کردہ نفرتوں کی دیگ بٹنا شروع ہوچکی

معروف صحافی اور وسعت اللہ خان نے سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری منیجر کے بہیمانہ قتل بارے کہا ہے کہ ریاست پاکستان جو پھرتیاں اس آگ میں بھسم ہونے والے پریانتھا کمارا کی موت کے بعد دکھا رہی ہے اگر اس سے آدھی پھرتیاں بھی ریاست ایسے پچھلے سانحات کے بعد دکھاتی تو آج ہر پاکستانی دوسرے سے نگاہیں نہ چرا رہا ہوتا۔
بی بی سی کے لیے اپنی تحریر میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ ریاست پاکستان اور اس کے اداروں نے نفرتوں بھری جو دیگ تیار کی ہے وہ اب بٹنا شروع ہوچکی ہے اور سیالکوٹ کا بہیمانہ واقعہ بھی اسی کی ایک کڑی تھی۔ لیکن یہ کوئی پہلاسانحہ نہیں جس میں کسی انسان کو زندہ جلا دیا گیا ہو۔ اس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات ہو چکے ہیں لیکن ریاست پاکستان سوئی رہی اور اس تازہ واقعے کے بعد بھی چند بڑھکیں اور نعرے مار کر دوبارہ سو جائے گی۔
وسعت اللہ خان یاد دلاتے ہیں کہ بہاولپور سے 78 کلومیٹر پرے چنی گوٹھ قصبے میں ایک صاحب نے ایک شخص کو پکڑنے کا دعویٰ کیا جو قرآنِ پاک کے اوراق جلا رہا تھا۔ ان صاحب اور دیگر ساتھیوں نے اس شخص کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے اسے لاک اپ میں بند کر کے پرچہ کاٹ دیا۔ یہ خبر پھیلتی چلی گئی۔ مقامی مساجد سے ’چلو چلو تھانے چلو‘ کے اعلانات ہونے لگے۔ لگ بھگ دو ہزار لوگوں نے تھانے کا گھیراؤ کر لیا جہاں 10 سپاہی موجود تھے۔ ’مجرم کو حوالے کرو‘ کے نعرے لگنے لگے۔ پولیس نے تھوڑی بہت مزاحمت کی اور اس میں نو سپاہی زخمی ہوئے۔ مجمع اس شخص کو حوالات توڑ کے لے گیا اور مرکزی چوک میں بہیمانہ تشدد کے بعد زندہ جلا دیا گیا بعد میں معلوم ہوا کہ اس شخص کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا اور مجمع میں شامل بہت سے لوگ یہ بات جانتے تھے۔ پولیس نے 2000 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی ۔کچھ گرفتاریاں اور رہائیاں ہوئیں، مقدمات چلے، رپورٹ طلب کر لی گئی۔ یہ انسانیت نہیں درندگی ہے اور، مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا جیسے کچھ بیانات دیے گئے اور پھر بات آئی گئی ہو گئی۔
وسعت اللہ ایسا ایک اور واقعہ یاد دلاتے ہوئے بتاتے ہیں کہ دادو کے علاقے راجو ڈیرو کے گوٹھ سیتا کی ایک مسجد میں ایک اجنبی مسافر ٹھہرا۔ ایف آئی آر کے مطابق امام مسجد نے نمازِ فجر کے بعد قرانِ پاک کے کچھ جلے ہوئے صفحات دیکھے اور اس مسافر کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے ایف آئی آر کاٹ کے حوالات میں بند کر دیا۔ پھر اسی مسجد سمیت دیگر مساجد سے اعلانات ہوئے، آس پاس کے گوٹھوں میں بھی اشتعال پھیل گیا۔ تھانے کا گھیراؤ ہوا، مٹھی بھر پولیس والوں سے ہاتھا پائی ہوئی۔ مشتعل مظاہرین نے نہ صرف تھانے کے اندر موجود ملزم کو زندہ جلا دیا بلکہ تھانہ بھی جلا دیا۔پولیس نے 200 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی۔ کچھ گرفتاریاں اور رہائیاں ہوئیں، مقدمات چلے، رپورٹ طلب کر لی گئی۔ یہ انسانیت نہیں درندگی ہے، مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا جیسے کچھ بیانات دیے گئے اور پھر بات آئی گئی ہو گئی۔
وعت ایسا ہی ایک اور واقعہ یاد دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ لاہور سے 56 کلومیٹر پرے کوٹ رادھا کشن کے چک 59 میں ایک مسجد سے اعلان ہوا کہ قرآن کی مبینہ بے حرمتی ہو گئی کیونکہ اینٹوں کے ایک بھٹے کے نزدیک جلے ہوئے اوراق ملے ہیں۔ بھٹہ مالک یوسف گجر اور اسکے ساتھیوں نے واجبات کے حساب کے لیے مسلسل تقاضا کرنے والے 34 سالہ مزدور شہزاد مسیح اور اس کی 24 سالہ ناخواندہ مزدور حاملہ بیوی شمع پر توہین کا الزام لگا دیا۔ دونوں کو بھٹے کے قریب کمرے میں بند کر دیا گیا۔ مساجد سے اعلانات شروع ہو گئے، ہجوم بنتا چلا گیا، بھٹے کے عملے نے فرنس کا ڈھکن اٹھا دیا اور دونوں میاں بیوی کو اس میں دھکیل دیا گیا۔ دونوں کے دو سے سات برس تک کے تین بچے تھے۔ پولیس نے 200 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی، کچھ گرفتاریاں اور رہائیاں ہوئیں، مقدمات چلے رپورٹیں طلب ہوئیں۔ یہ انسانیت نہیں درندگی ہے، مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا جیسے کچھ بیانات پھر سے دیے گئے اور بات آئی گئی ہو گئی۔
اسکے بعد مردان کی خان عبدالولی خان یونیورسٹی میں پڑھنے والا 23 سالہ پشتون طالبِ علم مشال خان یونیورسٹی میں جاری بدانتظامی کا ناقد بنا ہوا تھا۔ چنانچہ یونیورسٹی انتظامیہ کے چند اہلکاروں اور ان کے حامی طلبا نے مشال خان پر توہینِ مذہب کا الزام لگایا۔ مجمع اکھٹا کیا گیا اور ہاسٹل کے کمرے سے مشال خان کو باہر لا کر مار مار کے قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے 58 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی۔ کچھ گرفتاریاں اور رہائیاں اور سزائیں ہوئیں، رپورٹیں طلب کی گئیں۔ یہ پھر سے یہ انسانیت نہیں درندگی ہے، اعر مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا جیسے بیانات جاری ہوئے اور بات ختم ہو گئی۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ میں نے آپ کے سامنے پچھلے دس برس میں ہجوم کے ہاتھوں مارے جانے کے صرف چار واقعات رکھے۔ ان میں سے تین انسانوں کو زندہ جلایا گیا۔ ان واقعات میں مختلف المیعاد قید کی سزائیں تو سنائی گئیں مگر اکثریت کی ضمانت ہو گئی۔ آج تک کسی کو سزائے موت نہیں ہوئی۔ ایک کو موت کی سزا سنائی گئی تھی پھر اسے عمر قید میں بدل دیا گیا۔
ان واقعات کو ہمیشہ لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ یا چند لوگوں کی گمراہی قرار دیا گیا۔ ان تمام واقعات کے خلاف جو مذمتی مظاہرے اور دھرنے ہوئے وہ مقتولوں کے حق میں کم اور قاتلوں کے حق میں زیادہ ہوئے۔ قاتلوں کا بطور ہیرو اپنے علاقے اور عدالتی احاطوں میں سواگت ہوا اور انھیں عام آدمی سے لے کر پولیس والوں اور وکلا نے ہار پہنائے۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ حزبِ اختلاف کی ہر سرکردہ جماعت نے اس زہریلی ذہنیت کو بڑھاوا دینے والوں کا بلا واسطہ و بالواسطہ ساتھ دیا۔ ان سے سیاسی و مذہبی ہم آہنگی ظاہر کی۔ انکے جلسوں اور دھرنوں میں پینچ کر تقاریر فرمائیں۔ انہوں نے دو ٹوک موقف اختیار کرنے کے بجائے موقع پرستی کے آلاؤ پر اپنے ہاتھ تاپے۔ جب اقتدار ملا تب بھی خفیہ و اعلانیہ سمجھوتے کیے۔ کسی جماعت نے آج تک پارلیمنٹ میں اس قانون سازی کے لیے مطالبہ نہیں کیا کہ توہن مذہب کا جھوٹا الزام لگانے والوں کو بھی وہی سزا ملنی چاہیے جو توہین کے مرتکب افراد کے لیے مخصوص ہے۔ اب یہ آگ بڑھ رہی ہے اور آہستہ آہستہ پورے بدن میں پھیلتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ریاست یہ بڑھانے والوں کو روکنے کے لئے تیار نہیں بلکہ ان کے سامنے مسلسل سرنڈر کرتے ہوئے اپنی رٹ کھو رہی ہے۔ سیالکوٹ میں سری لنکن مینجر کے قتل کے بعد بھی ریاست بغلیں جھانک رہی ہے۔ الفاظ تھوتھے چنے میں بدل چکے ہیں۔ دنیا پاکستان کی کسی مذمت اور کسی دعوے پر اعتبار کے لیے ہرگز بھی تیار نہیں ہے۔ جو پھرتیاں اس آگ میں بھسم ہونے والے پہلے غیرملکی باشندے پریانتھا کمارا کی موت کے بعد ریاست دکھا رہی ہے اس سے آدھی پھرتیاں اگر ریاست اس طرح کے پہلے سانحے کے بعد دکھاتی تو آج ہر کوئی اک دوجے سے نگاہیں نہ چرا رہا ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: کلثوم نواز ، شہباز شریف کیخلاف ایف بی آر کی اپیلیں خارج
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ نفرتوں بھری یہ دیگ ہم نے اور ہمارے تمام منتخب و غیر منتخب اداروں، جماعتوں اور گروہوں نے بہت محنت سے تیار کی ہے۔ اب اس کے بٹنے کا وقت آگیا ہے اور ہجوم بڑھتا جا رہا ہے۔یہ راستہ جنت کا ہے یا جہنم کا؟ باقی دنیا کو تو صاف نظر آ رہا ہے۔ مگر ہماری آنکھوں میں اترا برسوں پرانا موتیا اتنا بگڑ چکا ہے کہ شاید اس کا آپریشن بھی جان لیوا خطرے جیسا ہے۔ ہم اس کھائی کے دہانے پر اس لیے پہنچے ہیں کہ ریاست بنیادی سوالات اٹھانے والوں کی دشمن ہے اور ہم خوفزدہ ہیں۔

Back to top button