سابق لیگی وزیر نے چینی بحران کی ذمہ دار پی پی کے وزیر پر ڈال دی

سابق وفاقی وزیر اور رہنما مسلم لیگ ن احسن اقبال نے چینی برآمد کرنے کی ذمہ داری سابق وزارت تجارت پر ڈال دی۔
سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کا نجی ٹی وی پر گفتگو میں کہنا تھا چینی برآمد کی اجازت پیپلز پارٹی کے نوید قمر کی وزارت تجارت نے دی، سابق حکومت ایک اتحادی حکومت تھی اس لیے ساری ذمہ داری ن لیگ نہیں اٹھا سکتی۔رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا ملک میں اسمگلنگ، کارٹلائزیشن اور مافیا کو توڑ نے کی ضرورت ہے۔
ذرائع کے مطابق نجی ٹی وی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ س کس طرح ضرورت سے زیادہ پیداوار کا دعویٰ کر کے پہلے چینی برآمد کرنے کی اجازت لی گئی اور پھر چینی کی قلت اور اسمگلنگ کا رونا رویا گیا جس کے باعث اب حکومت 220 روپے کلو کے حساب سے چینی درآمد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیاکہ پی ٹی آئی حکومت میں چینی بحران کے بعد بڑے بڑے دعوے کرنے والی پی ڈی ایم حکومت نے بھی وہی غلطیاں دہرائیں جو ماضی کی حکومت نے کی تھیں، پی ڈی ایم حکومت اور چینی انڈسٹری نے پیداوار زیادہ اور کھپت کم بتائی اور کہا کہ نومبر میں نیا کرشنگ سیزن شروع ہونے پر بھی ملک میں سرپلس چینی موجود ہو گی اس لیے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔ اسحاق ڈار نے ڈھائی لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی لیکن اب کرشنگ سیزن شروع ہونے سے صرف 2 ماہ پہلے بتایا جا رہا ہے کہ ملک میں چینی کا بحران ہے اور چینی کا اسٹاک ضرورت سے کم ہے۔
