ملتان جلسے سے پہلے پولیس نے موسیٰ گیلانی کو گرفتار کر لیا

ملتان میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے کی تیاریوں کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنماؤں سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے موسیٰ گیلانی کو گرفتار کرلیا گیا۔
گیلانی ہاؤس کے ترجمان ضیغم گیلانی کا کہنا تھا کہ علی موسیٰ گیلانی احتجاج کے لئیے تھانہ چہلیک پہنچے تھے کہ پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔پیپلز پارٹی کی جانب سے 4 کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی تھی جس میں موسیٰ گیلانی بھی موجود تھے۔علی موسیٰ گیلانی اور دیگر مظاہرین تھانہ چہلیک کے باہر موجود تھے اور مطالبہ کررہے تھے گرفتار کارکنوں کو فی الفور رہا کیا جائے۔علی موسی گیلانی کا کہنا تھا کہ پولیس انتظامیہ کے حکم پر انتقامی کارروائی کر رہی ہے، جس کے بعد پولیس نے انہیں بھی گرفتار کرلیا۔ملتان کے تھانہ چہلیک کے باہر موجود پی پی پی کے کارکنوں نے احتجاج جاری رکھا اور پولیس سے علی موسی گیلانی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔کارکنوں نے ٹائر جلا کر تھانہ چہلیک کے سامنے روڈ بند کر دیا اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
اس سے قبل سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحب زادوں عبدالقادر گیلانی، علی موسیٰ گیلانی اور رکن صوبائی اسمبلی حیدر گیلانی سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف تھانہ چہلیک میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔پولیس کی جانب سے سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ ریلی نکالنے اور کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر درج کیا گیا۔پولیس نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں اور مسلم لیگ (ن) رہنماؤں کے خلاف ایک اور مقدمہ تھانہ لوہاری گیٹ ملتان میں بھی درج کیا۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر گیلانی، جاوید صدیقی، شیخ طارق رشید اور عبد الوحید آرائیں سمیت 30 افراد کے خلاف ملتان اسٹیڈیم قلعہ کہنہ قاسم باغ میں کار سرکار میں مداخلت کرتے ہوئے اسٹیڈیم کا تالا توڑنے اور سنگل چوری کر کے لے جانے کا الزام عائد کیا گیا اور مقدمہ درج کر لیا گیا۔پولیس نے کہا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے کر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان نے غیر قانونی طور پر اسٹیڈیم کا تالا توڑ کر اسٹیڈیم میں داخل ہونے کی کوشش کی اور اسٹیڈیم کے سرکاری عملے کے ساتھ مزاحمت کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم رہنماؤں کے خلاف مقدمہ قاسم باغ اسٹیڈیم میں زبردستی داخل ہونے پر درج کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے کرونا کے باعث ریلیوں پر پابندی تھی لیکن علی موسیٰ گیلانی کے خلاف پابندی کے باوجود ریلی نکالنے پر مقدمہ درج کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے 30 رہنما نامزد اور 50 نامعلوم کارکنوں کے خلاف ایف آئی ار درج کی گئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں عبدالقادرگیلانی، علی موسیٰ گیلانی اور ایم پی اے علی قاسم گیلانی نامزد ہیں تاہم علی موسی گیلانی اور دیگر چار ساتھیوں کو باقاعدہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔
اُدھر پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے علی موسیٰ گیلانی کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔بلاول کا کہنا تھا کہ علی موسیٰ گیلانی کی گرفتاری سلیکٹڈ حکمرانوں کی غنڈہ گردی ہے، دھاندلی کی پیداوار حکومت اب عوامی تحریک کو طاقت سے دبانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پرُامن سیاسی سرگرمیاں، احتجاج عوام کاحق ہے اور یہ روکنا آئینی خلاف ورزی ہے۔ بلاول نے مطالبہ کیا کہ علی موسیٰ گیلانی کو فوراً رہا کیا جائے۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ حکومت مخالف احتجاج کو اوچھے ہتھکنڈوں سے روکنے کی توقع رکھنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی.
خیال رہے کہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے 30 نومبر کو ملتان میں جلسہ کیا جائے گا اور اس حوالے سے سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی بڑھتی لہر اور انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ دینے کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے 22 نومبر کو پشاور میں اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔اس کے بعد اپوزیشن اتحاد 26 نومبر کو لاڑکانہ اور 30 نومبر کو ملتان میں جلسہ کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔22 نومبر کو ہونے والا پشاور کا جلسہ حکومت مخالف پی ڈی ایم کا چوتھا سیاسی پاور شو تھا، اس سے قبل اپوزیشن اتحاد نے اپنے جلسوں کا باقاعدہ آغاز 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ سے کیا تھا، جس کے بعد 18 اکتوبر کو کراچی میں جلسہ کیا گیا تھا جبکہ 25 اکتوبر کو پی ڈی ایم نے کوئٹہ میں سیاسی طاقت دکھائی تھی۔
