کیا زانیوں کو کھسی کرنے سے ریپ پر قابو پایا جا سکتا ہے؟


ماضی کے پلے بوائے اور اب روحانی ہو جانے والے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ریپ کے مجرموں کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کی سزا نافذ کرنے کی منظوری کے بعد ناقدین کی جانب سے یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ کسی شخص کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی سزا نہ صرف پاکستان کے آئین سے متصادم ہے بلکہ انٹرنیشنل کنونشن آن سول اینڈ پولیٹکل رائٹس کے بھی خلاف ہے جس پر پاکستان کی جانب سے بھی دستخط موجود ہیں۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یا ریپ کے مجرموں کو کھسی کرنے سے معاشرے میں اس طرح کے جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اس حکومتی فیصلے پر بی بی سی نے ریپ کا شکار ہونے والی لڑکیوں، ان کے اہل خانہ، سماجی کارکنان اور قانونی ماہرین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا ایسی سزاؤں سے ریپ مقدمات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔’حکومت کی طرف سے ریپ کے مقدمات سے متعلق قانون میں سخت سزائیں متعارف کرانا بظاہر تو اچھا لگ رہا ہے مگر صرف سزائیں متعارف کروانے سے تو سب ٹھیک نہیں ہو جاتا۔‘ یہ کہنا تھا اپنی بیٹی کے ریپ کیس میں عدالتوں میں پیشیاں بھگتنے والی ایک ماں عمیمہ کا جو حکومت کی جانب سے ریپ کے مجرم کو دیگر سزاؤں کے ساتھ جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی سزا متعارف کروانے کے فیصلے پر اپنا ردِعمل دے رہی تھیں۔ عمیمہ نے عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات میں انصاف کے نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ‘سخت سزاؤں کے باوجود انصاف مل رہا ہے اور نہ ریپ کے مقدمات میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔‘ رواں برس ستمبر میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عمیمہ نے بتایا تھا کہ اس عرصے میں پولیس انھیں یہ باور کروانے کی کوششوں میں مصروف رہی کہ اُن کی بیٹی کے ریپ کا کیس کافی کمزور ہے۔ عمیمہ کے مطابق اُن کی بیٹی کو اُن ہی کے خاندان کے ایک لڑکے نے چھ ماہ پہلے ریپ کیا تھا اور پھر وہی ملزم برادری والوں کو اپنی شادی اُن کی بیٹی سے کروانے پر مجبور کرتا رہا۔ لیکن عمیمہ اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہتیں۔
چھ سال کی عمر میں ریپ ہونے والی ایک لڑکی نے اپنے بارے میں لوگوں کے تبدیل رویے کے بارے میں بتایا کہ جب انھوں نے اپنے قریبی عزیز کے بارے میں انکشاف کیا تو ان کی بات پر یقین کرنے کو کوئی تیار نہیں تھا۔ جب ریپ کے مجرموں کو کھسی کرنے کے حکومتی فیصلے کے بارے میں ان سے بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ وہ ایسی سخت سزاؤں کے خلاف ہیں کیونکہ ان سے اس طرح کے جرائم پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس وقت ہمارا مقابلہ کسی ایک گروہ سے نہیں ہے بلکہ معاشرے میں پائی جانے والی ایک ذہنیت سے ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے۔
گینگ ریپ کا شکار بننے والی ایک 24 سالہ لڑکی ایسی بھی ہے جو اپنے مقدمے کا محفوظ فیصلہ سننے کی منتظر ہے۔ ان کے والد نے بتایا کہ عدالت میں پیشیاں بھگتنا اتنا آسان نہیں تھا نہ میری بیٹی کے لیے اور نہ میرے لیے۔ تاہم وہ حکومتی فیصلے کو ایک اچھا اقدام قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ‘اگر بندے کی سرجری ہو جائے تو وہ پوری دنیا میں پھرے گا، وہ ہر بندے کے کان میں یہ بات ڈالے گی کہ اس نے غلط کیا ہے۔ یہاں اچھے بندے کو کوئی نہیں چھوڑتا طعنے دے دے کر تو۔۔ جو برا کرے گا لوگ اسے ’ہُوٹنگ‘ کرنے والے لوگ تو جینے نہیں دیں گے۔ ان کے مطابق ’میرے خیال سے ان کی جان ختم کرنے سے کچھ نہیں ہوگا انھیں زندگی میں سزا دیں اور نشانِ عبرت بنائیں۔’
بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ منزے بانو نے بتایا کہ رواں برس کے پہلے صرف پہلے چھ ماہ تک دو ہزار کے قریب بچوں کا ریپ کیا گیا ہے اور کچھ بچوں کو بھیانک طریقے سے قتل کیا گیا ہے۔ منزے بانو کی ذاتی رائے میں جنسی صلاحیت ختم کرنے جیسی سزا سے ڈر ضرور پیدا ہو گا اگرچہ کسی بھی چیز کا کوئی حتمی حل نہیں ہوتا۔ ان کے خیال میں معاشرے میں مردانگی پر زیادہ زور دیا جاتا ہے تو ایسی سزا سے جھٹکا تو لگے گا۔ منزے کے خیال میں چیلنج تو یہی ہے کہ قانون پر عملدرآمد بہتر بنایا جائے تا کہ شکایت درج ہونے کے بعد قانون حرکت میں آ جائے۔
یاد رہے کہ وفاقی کابینہ کے ایک حالیہ اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کو سندھ میں ایک ماں اور اس کے سامنے اس کی بچی کے ریپ مقدمے کی بہت تکلیف ہوئی ہے، جس کے بعد انھوں نے وزارت قانون کو یہ ہدایت دی تھی کہ ایک آرڈیننس لایا جائے تاکہ ریپ کے مجرمان عدالتوں سے نہ چھوٹ سکیں اور اگر ان کو رہائی مل بھی جائے تو ان کو کھسی کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ریپ کے مجرمان کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کے قانون کی اصولی منظوری بھی دے دی یے۔ شبلی فراز کے مطابق کیمیکل سیٹرلائزیشن کے علاوہ ان سخت سزاؤں میں سزائے موت بھی شامل ہے۔
تاہم بچوں کے تحفظ کی ماہر ولیری خان نے بتایا کہ برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں بھی مجرم کی مرضی کے بغیر اسے سٹریلائز نہیں کیا جاتا۔ کچھ ایسے عادی مجرم ہوتے ہیں جو خود اپنی اصلاح کے لیے یہ سزا تجویز کرتے ہیں کیونکہ وہ اس کے علاوہ اس جرم سے باز نہیں رہ سکتے۔ ولیری خان کے مطابق بظاہر پاکستان نے اس سزا کا تصور انڈونیشیا سے لیا ہے۔ ان کے مطابق ایسی سزائیں عادی مجرموں کو دی جاتی ہیں لیکن اس کے لیے بھی کچھ شرائط پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ولیری خان کے مطابق اس سزا کو دینے کے لیے وسائل، میڈیکل مہارت اور سائنسی نظام درکار ہوتا ہے کیونکہ صرف ایک انجیکشن سے ہی کسی کو جنسی صلاحیت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے میڈیکل ماہر کی رائے بھی ضروری ہوتی ہے کہ کسی کی صحت ایسی ہے کہ اسے یہ انجیکشن لگایا جا سکے یا نہیں۔ اس کے علاوہ یہ انجیکشن لگانے کے لیے نگرانی کا نظام بھی وضع کرنا ہوتا ہے کیونکہ یہ کچھ عرصے بعد لگانا ضروری ہوتا ہے۔ ولیری خان کے مطابق کسی کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے جیسی سزا نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ یہ پاکستان کے آئین سے بھی متصادم ہے۔ ان کے مطابق یہ سزا انٹرنیشنل کنونشن آن سول اینڈ پولیٹکل رائٹس کے بھی خلاف ہے جس پر پاکستان کے بھی دستخط موجود ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button