سال 2019 میں 300 سے زائد نوزائیدہ لاشیں ملیں

ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق صرف کراچی شہر میں نے 2019 کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے 300 سے زائد نوزائیدہ لاشیں برآمد کیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن نے ان تمام نوزائیدہ کو قبرستان میں سپرد خاک کردیا۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان سعد ایدھی نے بتایا کہ 2018 کے مقابلہ میں 2019 میں نوزائیدہ لاشوں کی تعداد دگنی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران نوزائیدہ کی 375 لاشیں کھلے مقام یا شہر کے کچرے کے ڈھیروں سے ملیں جن کی تعداد 2018 کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔ نوزائیدہ لاشوں میں اکثریت لڑکیوں کی تھی۔
ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن نے متعدد وجوہات کا تذکرہ کیا تاہم انہوں نے کہا کہ بنیادی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ لوگ لڑکی کی پیدائش نہیں چاہتے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب الٹراساؤنڈ کے ذریعے معلوم ہوجائے کہ لڑکی ہے تو خاتون کا اسقاط حمل کرالیا جاتا ہے۔
سعد ایدھی نے کہا کہ اس کی ایک اور ممکنہ وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ناجائز تعلقات کی بنیاد پر بھی اسقاط حمل کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔
