سوات کے باسی طالبان کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سینکڑوں جانوں کا نذرانہ دینے اور مالی نقصان اٹھانے والے سوات کے عوام تحریک طالبان کے جنگجوؤں کی اپنے علاقے میں واپسی اور انکی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی کارروائیوں کے بعد سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور یہ سوال کر رہے ہیں کہ حکومت اور عسکری ادارے کیا کررہے ہیں انہوں نے امن کمیٹی پر حملے کے بعد قیام امن کے لیے مظاہرے کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ ان مظاہروں کا سلسلہ حال ہی میں شانگلہ امن کمیٹی کے سابق سربراہ ادریس خان اور ان کے ساتھیوں کی دہشت گرد حملے میں ہلاکت کے بعد شروع ہوا ہے، سوات کے عوام کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کی واپسی کی بڑی وجہ طالبان کے عسکری حکام کے ساتھ امن مذاکرات ہیں جو کہ سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے دور میں شروع ہوئے تھے۔ سوات کے عوام کا کہنا ہے کہ ان نام نہاد امن مذاکرات کی آڑ میں دہشت گرد دوبارہ اپنے علاقوں میں واپس آ رہے ہیں ،اور اپنی کارروائیوں میں اضافہ کردیا ہے۔
شانگلہ کی امن کمیٹی کے سابق سربراہ ادریس خان اور انکے ساتھیوں کی بم حملے میں ہلاکت کے بعد سوات اور شانگلہ میں عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور روزانہ احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سوات کی مٹہ اور کبل تحصیلوں میں سکیورٹی پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں تاکہ دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ روزانہ شام کے وقت نمایاں تعداد میں بزرگ، نوجوان اور سیاسی کارکنان خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے گھر کے پاس مٹہ چوک میں جمع ہوتے ہیں اور طالبان کے دہشتگردوں کو علاقے سے نکالنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سوات میں سکیورٹی فورسز کی نمایاں تعداد موجود ہونے کے باوجود عسکریت پسندوں کی واپسی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، سوات کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ عسکری حکام ابھی تک یہ طے نہیں کر پائے کہ طالبان کے خلاف لڑنا ہے یا ان سے صلح کرنی ہے، لیکن اس بے یقینی کا خمیازہ خیبر پختونخوا کے عوام بھگت رہے ہیں۔
سوات کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے سوات میں ایک احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2007 کے مقابلے میں 2022 کا سوات مختلف ہے، اب ہم حکومت اور طالبان دونوں کے جھوٹے نعروں سے دھوکا نہیں کھائیں گے، اس بار ہم نہ صرف دہشتگردی کی مذمت کریں گے بلکہ طالبان کے خلاف مزاحمت بھی کریں گے۔ انکا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ماہ سے نامعلوم افراد کی جانب سے سوات اور مٹہ کے مختلف دیہاتوں میں رات کے اوقات میں حملے کیے جا رہے ہیں۔ منظور پشتین نے کہا کہ دیہاتوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کے باوجود شرپسند گاؤں میں داخل ہو کر ہمارے گھروں پر پتھر مارتے ہیں اور باآسانی واپس چلے جاتے ہیں۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شرپسند عناصر کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو مقامی شہری ان سے ’’آہنی ہاتھوں’ سے نمٹیں گے، منظور پشتین نے کہا کہ سوات میں امن سبوتاژ کرنے کا مطلب پورے صوبے کا امن خراب کرنا ہے، جسے برداشت نہیں کیا جائے گا، اگر اس بار نام نہاد عسکریت پسند امن خراب کرنے کی کوشش کریں گے تو پورے خیبر پختونخوا سے لوگ ان کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار کوئی سوات سے نہیں جائے گا بلکہ وادی عسکریت پسندوں کے خلاف کھڑی ہوگی، ہم عسکریت پسندوں سے کسی مذاکرات کو قبول نہیں کریں گے۔رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ پہلے لوگ عسکریت پسندوں کے حقائق سے واقف نہیں تھے لیکن اس بار صورت حال مختلف ہے، بزرگ، نوجوان اور بچے سب باخبر ہیں اور اسی وجہ سے وہ پُرامن سوات کے لیے سڑکوں پر موجود ہیں۔
