سپریم کورٹ کے ہاتھوں وزیراعظم کی نااہلی کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید نے کہا ھے کہ سپریم کورٹ کے ہاتھوں کسی وزیراعظم کی نااہلی کا خطرہ اب بھی موجود ھے ۔ مستقبل کا کوئی چیف جسٹس۔۔ وزیراعظم کو تا حیات نہیں تو پانچ سال کے لئے تو نااھل کر ہی سکتا ھے ۔ لہذا آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پارلیمنٹ میں نظر ثانی ضروری ہے۔ اپنے ایک کالم میں نصرت جاوید لکھتے ہیں کہ بالآخر سپریم کورٹ سے اس فیصلے کا ا علان ہوگیا جو حیران کن نہیں بلکہ متوقع تھا۔ گزرے برس کے 21اکتوبر کے دن نواز شریف کی طویل وقفے کے بعد لندن سے اسلام آباد اور بعدازاں لاہور آمد نے عندیہ دے دیا تھا کہ انہیں وزارت عظمیٰ کے منصب پر چوتھی بار بٹھانے کی کاوشوں کا آغاز ہوچکا ہے۔اس ضمن میں سب سے بڑی رکاوٹ ’’تاحیات نااہلی‘‘ تھی۔ ثاقب نثار کی سپریم کورٹ نے پانامہ دستاویزات کے اپریل 2016ء میں ایک دھماکہ کی صورت نمودار ہونے کے بعد ازخود نوٹس کے ذریعے پاکستان کے تیسری بار منتخب ہوئے وزیر اعظم پر یہ رکاوٹ مسلط کی تھی۔ حالانکہ پانامہ دستاویز میں نواز شریف کا براہ راست کسی بھی مقام پر ذکر نہیں ہے۔ان کے خاندان کے زیر استعمال لندن کے چند فلیٹوں کا ذکر یقینا موجود ہے ۔ پانامہ دستاویزات میں تین سو کے قریب پاکستانیوں کے نام لئے گئے تھے۔ان میں سے تاہم صرف ایک یعنی شریف خاندان ہی کو ثاقب نثار کی سپریم کورٹ نے ’’رسیداں کڈھو‘‘ والے سوالات کے ساتھ دیوار سے لگایا۔ ازخود نوٹس کے ذریعے محض ایک کاروباری خاندان کا ’’احتساب‘‘ اصولی اعتبار سے متعصبانہ محسوس ہوا۔ سیاسی اعتبار سے یہ عمل اس لئے بھی معیوب نظر آیا کیونکہ وزیر اعظم نواز شریف کو ’’مودی کا یار‘‘ پکارنے والے درحقیقت کن وجوہات کی بنیاد پر موصوف سے جان چھڑانا چاہ رہے تھے۔ بدقسمتی سے ایک منتخب وزیر اعظم کو فا رغ کرنے کے لئے سپریم کورٹ استعمال ہوئی۔ اس کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فدویانہ رویے سے 1950ء کے جسٹس منیر کی یاد دلادی جنہوں نے نظریہ ضرورت متعارف کرواتے ہوئے پاکستان میں غیر جمہوری قوتوں کو طاقت ور ترین بنانے کے جواز فراہم کردئیے تھے۔ پانامہ پیپرز بھی بالآخر ہمارے ہاں آدھا تیتر-آدھا بٹیر دکھتے ہائی برڈ ’’جمہوری‘‘ نظام کا سبب بنے۔
نصرت جاوید کا کہنا ھے کہ بہر حال نواز شریف کے لئے اب سپریم کورٹ کے حوالے سے ’’تمہی نے درد دیا ہے تمہی دوا دینا‘‘ والا معاملہ ہوچکا ہے۔ سوال اگرچہ اب بھی یہ اٹھانا لازمی ہے کہ پیر کے روز آئے فیصلے کے بعد کیا سپریم کورٹ ازخود اختیارات کے ذریعے کسی اور وزیر اعظم کے خلاف بھی استعمال ہوسکتی ہے یا نہیں۔
1993ء میں نسیم حسن شاہ کی سپریم کورٹ نے نواز شریف کی اس حکومت کو بحال کرتے ہوئے ’’تاریخ بنائی تھی‘‘ جسے تب کے صدر غلام اسحاق خان نے آٹھویں ترمیم کے تحت اپریل میں برطرف کردیا تھا۔ وہ فیصلہ آنے کے بعد مبصرین سینہ پھلاکر دعویٰ کرتے رہے کہ آئین میں آٹھویں ترمیم کے ہوتے ہوئے بھی اب کوئی صدر کسی منتخب وزیر اعظم کو قومی اسمبلی سمیت فارغ نہیں کر پائے گا۔اس فیصلے کو پارلیمان کی دیواروں پر کنندہ بھی کروادیا گیا۔اس کے باوجود 1996ء میں ایک اور صدر-سردار فاروق لغاری- نے ایک اور وزیراعظم -محترمہ بے نظیر بھٹو- کو آٹھویں ترمیم کے تحت میسر اختیارات کی بدولت فارغ کردیا تھا۔ جسٹس سجاد علی شاہ کی سپریم کورٹ نسیم حسن شاہ کے تین سال قبل فیصلے کو اب کی بار ردی کی ٹوکری میں پھینکتی نظر آئی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک ایسے دن کا تصور ذہن میں لانے سے باز نہیں رہا جا سکتا جو چند برس کے بعد سپریم کورٹ کے کسی چیف جسٹس کو ممکنہ طورپر ایک بار پھر ازخود ا ختیارات استعمال کرتے ہوئے کسی وزیر اعظم کو آئین کی 62 اور 63 والی شقوں کی روشنی میں تاحیات نہ سہی کم ازکم پانچ سال تک انتخابی عمل میں حصہ لینے کے ناقابل ٹھہرادے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اس کے امکانات ختم کرنے کے لئے لازمی ہے کہ 8فروری 2024ء کے انتخابات کے ذریعے منتخب ہوئی اسمبلی اپنے قیام کے پہلے دن سے 62/63 والی شقوں کو نظرثانی کی چھلنی سے گزا رے۔ ان کے بارے میں ایوان میں ہوئی بحث کو براہ راست ٹی وی سکرینوں پر نشر کیا جائے اور بالآخر ایسا بندوبست تشکیل پائے جو افتخار چودھری، آصف سعید کھوسہ اور ثاقب نثار جیسے ’’مسیحا‘‘ بننے کے حریص ’’پاسداروں‘‘ سے جمہوری نظام اور عوام کی منتخب کردہ قیادتوں کو محفوظ بناسکے۔
سیاستدانوں کو بالآخر سمجھ ہی لینا چاہیے کہ ایک دوسرے کو مسلسل چور اور لٹیرا پکارتے ہوئے وہ درحقیقت یہ اعتراف بھی کررہے ہوتے ہیں کہ جمہوری اور انتخابی نظام بدعنوان عناصر سے نجات پانے کی سکت سے قطعاََ محروم ہے۔ اسی باعث کسی ’’تیسری‘‘ قوت اور عموماََ عدلیہ کو یہ فریضہ سرانجام دینا پڑتا ہے۔اگر وہ بھی ناکام رہے تو ’’وہاں‘‘ سے ’’دیدہ ور‘‘ کا انتظار شروع ہوجاتا ہے۔ مختصراََ یہ فریاد کرنا ہے کہ اسمبلیوں کے لئے منتخب ہوجانے کے بعد سیاستدانوں کو اپنی محاورے والی ’’داڑھی‘‘ کسی اور کے ہاتھوں میں دینے کی عادت بدسے نجات پانا ہوگی۔
