سیالکوٹ واقعہ،13 مرکزی ملزموں سمیت 118 گرفتار

پنجاب پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے سیالکوٹ واقعے کے 13 مرکزی ملزم سمیت 118 ملزموں کو حراست میں لے لیا۔
سیالکوٹ وزیر آباد روڈ پر مبینہ توہین مذہب پر نجی فیکٹری کے مینیجر کو مشتعل ہجوم نے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ہلاک کر دیا، مشتعل افراد نے فیکٹری کا گھیراؤ کیا اور وزیر آباد روڈ ٹریفک کے لئے بند کر دیا۔آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او گوجرانوالا کو فوری موقع پر پہنچنے کا حکم دے دیا۔
آر پی او گوجرانوالہ عمران ارحم نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد حقائق منظر عام پر آ جائیں گے۔ ڈی پی او سیالکوٹ کی جانب سے 10 ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں جو فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت کر کے گرفتار کیا جائے گا۔
سیالکوٹ واقعہ میں پولیس نے تشدد کرنے اور اشتعال انگیزی میں ملوث ملزمان میں سے ایک مرکزی ملزم فرحان ادریس کو گرفتار کر لیا ہے۔ 100سے زائد افراد کو حراست میں لےلیا ہےآئی جی پنجاب سارے معاملہ کی خود نگرانی کر رہے ہیں باقی ملزمان کی گرفتاری کیلیے چھاپے مارے جارہے ہیں@UsmanAKBuzdar pic.twitter.com/v7YOpQxwXs
— Punjab Police Official (@OfficialDPRPP) December 3, 2021
دوسری طرف پنجاب پولیس کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق سیالکوٹ واقعہ میں پولیس نے تشدد کرنے اور اشتعال انگیزی میں ملوث ملزمان میں سے مرکزی ملزم فرحان ادریس کو گرفتار کر لیا ہے۔ 100سے زائد افراد کو حراست میں لےلیا ہے۔
ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق آئی جی پنجاب سارے معاملہ کی خود نگرانی کر رہے ہیں باقی ملزمان کی گرفتاری کیلیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
