شاہ محمود پاکستان کے ناکام ترین وزیر خارجہ کیوں ہیں؟

سینئر صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی نے شاہ محمود قریشی کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ناکام ترین وزیرخارجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا نہیں کہ وہ سمجھدار نہیں یا خارجہ پالیسی کی نزاکتوں کو نہیں سمجھتے۔ وہ ذہین باپ کے ذہین بیٹے ہیں۔ پی ٹی آئی کے دیگر حادثاتی ارکانِ پارلیمان اور وزیر مشیر بننے والوں جیسے نادیدہ نہیں بلکہ ان کے والد مخدوم سجاد حسین قریشی جنرل ضیا کے دور میں گورنر تھے اور یوں رموزِ حکمرانی کے بارے میں دورِ جوانی سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ بھی حکومت میں رہے، آصف زرداری کی حکومت کے بھی مزے لوٹے، اب وہ عمران حکومت کے وزیر خارجہ ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ وہ جس پارٹی میں بھی رہے، مستقل حکمران رہنے والوں کے کیمپ میں رہے۔ لہٰذا ایسا ہر گز نہیں کہ شاہ محمود قریشی حکمرانی یا خارجہ پالیسی کی نزاکتوں کو نہیں سمجھتے۔ وہ سیاست کو بھی خوب سمجھتے ہیں اور سفارت کاری کو بھی لیکن اب کی بار وہ پاکستان کی تاریخ کے ناکام ترین وزیر خارجہ ثابت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ خارجہ پالیسی کو بنانے اور چلانے سے جس قدر موجودہ دور میں وزارتِ خارجہ لاتعلق ہے، شاید پہلے کبھی نہیں تھی اور جتنے سفارتی بلنڈرز موجودہ دور میں ہورہے ہیں، اس لاتعلقی نے خارجہ محاذ پر پاکستان کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اسکی وجہ قریشی صاحب کی ناتجربہ کاری یا ناسمجھی نہیں بلکہ ان کی شخصیت کے مسائل اور عمران خان کے ساتھ ان کا ایک عجیب و غریب تعلق ہے۔ تاہم پاکستان کو مزید سفارتی بلنڈرز سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ قریشی صاحب کے سامنے لکیر کھینچ دی جائے کہ وہ وزیرخارجہ کے طور پر صرف اپنی ذمہ داری پر دھیان دیں اور ادھر ادھر کے معاملات میں ٹانگ اڑاتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ دیں۔
سلیم صافی کے مطابق شاہ محمودقریشی اور عمران خان کا سیاسی نظریہ ایک نہیں۔ عمران خان نے 2002 میں انہیں پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی تھی لیکن ان کا جواب تھا کہ وہ ایسے آدمی کو قائد نہیں مان سکتے۔ عمران کے دل میں وہ بات یقیناً ہوگی۔ پھر خان صاحب یہ بھی جانتے ہیں کہ قریشی کسی نظریاتی یا شخصی ہم آہنگی کی وجہ سے ان کے پاس نہیں آئے بلکہ انہیں جہانگیر ترین اور اسد عمر وغیرہ کے ساتھ ان کے پاس لایا گیا۔ قریشی پی ٹی آئی کے غبارے میں ہوا بھرنے والوں کے کہنے پر اس امید کے ساتھ شامل ہوئے تھے کہ انہیں پنجاب کا وزیراعلیٰ بنایا جائے گا لیکن صوبائی اسمبلی کی نشست پر شکست کی وجہ سے ان کی یہ آرزو پوری نہ ہوئی۔ یوں انہوں نے وزیر خارجہ کا منصب باامر مجبوری قبول کرلیا۔ صافی کے مطابق قریشی کا روز اول سے انحصار ان لوگوں پر رہا ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی بناتے اور چلاتے ہیں۔ دوسری طرف ابتدا میں ان کی بعض سرگرمیوں کی وجہ سے عمران خان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ وہ ان کا متبادل بننا چاہتے ہیں۔
وہ چونکہ ہمہ وقت اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے درپردہ سرگرم رہتے ہیں، اس لئے ہر وقت عمران خان کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ وہ ان کے وفادار ہیں اور یہ کہ وہ ان کا متبادل نہیں بننا چاہتے۔ اس کے لئے انہیں خان صاحب کی حد سے زیادہ خوشامد کرنی پڑتی ہے۔
صافی کہتے ہیں یہاں میں شاہ محمود کی شخصی کنفیوژن اور تضادات کو واضح کرنے کے لئے چند مثالیں دیتا ہوں۔ جب عمران نے اسمبلی کےفلور پر اسامہ بن لادن کو شہید کہا تو بطور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ فرض بنتا تھا کہ انہیں سمجھاتے کہ یہ کتنا بڑا بلنڈر ہے اور یہ کہ سفارتی محاذ پر اس کی پاکستان کو کتنی بھاری قیمت ادا کرنی پڑسکتی ہے لیکن وہ خاموش رہے۔ کابینہ میں کچھ اور وزرا نے عمران خان کو اس جانب متوجہ کیا اور مشورہ دیا کہ اس کی وضاحت ہونی چاہئے لیکن انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو اسی طرح مبہم رکھنا چاہئے حالانکہ پھر کچن کیبنٹ کے ساتھ بیٹھک میں انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتور لوگ آپے سے باہر ہورہے تھے، اس لئے اسامہ کو شہید کہہ کر وہ انہیں ان کی اوقات یاد دلانا چاہ رہے تھے۔ اس پورے معاملے میں عمران کی ناراضی سے بچنے کے لئے قریشی خاموش رہے۔ اب جب خودان سے افغان ٹی وی کے انٹرویو میں اس حوالے سے سوال کیا گیا تو وہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہ تھے۔ جس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی سبکی ہوئی۔ ظاہر ہے وہ بھی عمران خان کی طرح ان کو شہید کہتے تو مزید نقصان ہوتا اور پاکستانی ریاست کے روایتی موقف کے مطابق الٹ رائے دیتے تو عمران خان ناراض ہوتے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خارجہ پالیسی کی نزاکتوں سے بالکل واقف نہیں۔ امریکہ کے دورے کے دوران چونکہ وہ وزیراعظم بنوائے جانے کے بعد پہلی مرتبہ امریکی صدر سے مل رہے تھے، اس لئے وہ تھوڑے سے جذباتی بھی تھے۔ عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے مودی کے ارادوں کا بھی غلط اندازہ لگایا اور ٹرمپ کے کردار کا بھی۔ یہ شاہ محمودقریشی کا فرض تھا کہ وہ عمران خان اور دیگر حکام کو متنبہ کرتے لیکن وہ بھی عمران کی طرح دورہ امریکہ کا جشن منانے میں شامل ہوگئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مودی نے مقبوضہ کشمیر ہڑپ کرلیا اور ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی خاموش سرپرستی کی۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے دیگر لوگوں کی دیکھا دیکھی اب کی بار شاہ محمود قریشی خارجہ امور میں بھی سیاسی ڈرامہ بازی لے آئے ہیں۔ مثلاً فلسطین میں جنگ بندی کرائی امریکہ، مصر اور قطر نے لیکن ملتان میں جشن منایا قریشی صاھب نے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ قریشی صاحب اور ترکی کے وزیرخارجہ کا اقوام متحدہ جانا اور وہاں تقاریر کرنا صرف خانہ پری تھی لیکن پاکستان واپسی پر قریشی نے ملتان میں اپنے حق میں صلاح الدین ایوبی ثانی کے بینرز لگوائے اور ایسا تاثر دیا کہ جیسے وہ کشمیر اور فلسطین فتح کرکے لوٹے ہیں۔
صافی یاد دلاتے ہیں کہ خارجہ تعلقات کی اپنی زبان ہوتی ہے لیکن قریشی صاحب ان معاملات پر بھی جلسوں والی غیر محتاط زبان استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجے میں پہلے سعودی عرب کے ساتھ بھی تعلقات خراب ہوگئے تھے۔ وہ کہتے ہیں انکی غیر محتاط گفتگو کی درجنوں مثالیں دی جا سکتی ہیں لہازا پاکستان کو مزید سفارتی بلنڈرز سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ شاہ محمود قریشی کے سامنے لکیر کھینچ دی جائے کہ وہ وزیرخارجہ کے طور پر صرف اپنی ذمہ داری پر دھیان دیں گے اور ادھر ادھر کی گفتگو سے پرہیز کریں گے۔
