شاہ محمود کی مختلف ممالک کو افغانستان سے روابط بحال کرنے کی اپیل

وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مختلف ممالک کو افغانستان کے ساتھ معاشی ، سیاسی رابطے بحال کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی ۔

شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس کے موقع پر خطے میں امن اور استحکام کے لیے مسئلہ کمشیر کے حل جیسے امور پر بات جیت کی ۔

  وفاقی وزیر خارجہ  نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ساتھ اپنی ملاقات میں بھی اس پیغام کو دہرایا اور عالمی ادارے کے سربراہ کو بتایا کہ جنگ زدہ افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کے لیے فوری امدادی سرگرمیوں کی  ضرورت ہے۔

انہوں نے سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ایک ڈوزیئر فراہم کیا جس میں انسانی حقوق کی سنگین، منظم اور وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں، جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں نسل کشی کے ثبوت موجود تھے۔

وزیر خارجہ نے  اس اُمید کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ اس بات کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گی ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے مستقل اراکین کو شامل کرنے کی کچھ اقوام کی کوشش پر بھی اقوام متحدہ کے سربراہ کے ساتھ شاہ محمود قریشی کی ملاقات میں نمایاں طور پر بات ہوئی۔

شاہ محمود قریشی  نے اتفاق رائے سے اصلاحات کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو دہرایا کہ رکن ممالک کو ضروری وقت اور جگہ دی جانی چاہئے تاکہ سب کے لیے قابل قبول حل تیار کیا جا سکے ، شاہ محمود قریشی نے انٹونی بلنکن سے ملاقات کے دوران واشنگٹن کو مشورہ دیا کہ وہ آپس میں رابطہ رکھیں ۔

Back to top button