شاہ محمود کی وزیراعظم بننے کی خواہش کب پوری ہوگی؟


ہمیشہ سے طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی "گڈ بکس” میں رہنے والے دربار حضرت بہاؤالدین زکریا ؒ کے گدی نشین مخدوم شاہ محمود قریشی کیا عمران خان کے ہوتے ہوئے کبھی ملک کے وزیر اعظم بن پائیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جو پچھلے دو برس سے نہ صرف شاہ محمود قریشی کے ذہن میں میں اٹکا ہوا ہے بلکہ وزیراعظم کے قریبی ساتھی بھی یہ سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر برائے آبی امور فیصل واڈا نے عمران خان کی موجودگی میں شاہ محمود قریشی پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ وزیر اعظم بننے کے لیے سازشیں کرنے میں مصروف ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے اپنے سیاسی کیریئر کے دوران تقریبا ہر بڑی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی ہے اورحکومت میں بھی اچھے سے اچھا عہدہ حاصل کیا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر خارجہ کا عہدہ لیا اور پھر اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رہائی پر احتجاجا نہ صرف حکومت چھوڑی بلکہ پی پی پی بھی چھوڑ دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو دو پاکستانیوں کے قتل کے کیس میں رہا کرنے کی ڈیل بھی تب کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا نے کی تھی جس کا اعتراف خود ریمنڈ ڈیوس اپنی کتاب میں کر چکا ہے۔
تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد اب شاہ صاحب پھروزیر خارجہ کے عہدے پر فائز ہیں لیکن ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کی اصل منزل وزارت عظمیٰ ہی ہے چونکہ وزیر خارجہ تو وہ پی پی پی دور میں بھی رہ چکے ہیں۔ الیکشن 2018 کے وقت انکی پہلی خواہش تو وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کی تھی لیکن الیکشن میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن ہارنے کے بعد انہیں وزیر خارجہ کے عہدے پر اکتفا کرنا پڑا۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ شاہ صاحب اپنے سیاسی کیریئر کے دوران وزرات عظمیٰ حاصل کر پاتے ہیں یا نہیں۔ سنیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق شاہ محمود قرشی ایک قابل اور تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ تاہم وہ اپنے علاقائی اور سیاسی مخالفوں سے اکثر برسریپکار رہتے ہیں اور ان کے ساتھ کشیدگی کو ختم کرنے یا کوئی دیر پا معاہدہ کرنے کو تیار نہیں ہوئے۔ جب وہ پیپلزپارٹی میں تھے تو انکا یوسف رضا گیلانی سے جنوبی پنجاب اور ملتان کی چودھراہٹ پر جھگڑا رہتا تھا۔ پھر وہ تحریک انصاف میں آئے تو جہانگیر ترین اور جاوید ہاشمی سے پنجہ آزمائی رہی۔ جتنا عرصہ جاوید ہاشمی تحریک انصاف میں رہے، شاہ محمود قریشی ان کی وجہ سے اپ سیٹ ہی رہے۔ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کی گروپنگ نے تو ساری تحریک انصاف کو تقسیم در تقسیم کر کے رکھ دیا۔
تاہم آجکل شاہ محمود قریشی وزیر اعظم عمران خان کی کچن کابینہ کا حصہ بھی ہیں اور خود کو ملک کی قیادت کرنے کا اہل بھی سمجھتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی اپنے دھڑے کی سیاست دھڑلے سے کرتے ہیں۔ اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھتے ہیں اور اپنے گروہ کے مفادات کا بھرپور خیال رکھتے ہیں۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے وہ بہت متحرک ہیں، خوبصورت گفتگو اور شائستہ اندازِ بیاں اپناتے ہے۔ سوچ سمجھ کر اور چہرے کے مکمل اُتار چڑھاؤ کے ساتھ بات کرتے ہیں جس کا اکثر مذاق بھی بن جاتا ہے۔ لیکن ان کی تمام تر احتیاط پسندی کے باوجود سعودی عرب کے حوالے سے ان کا ایک بیان دونوں ملکوں کے تعلقات کی خرابی کا باعث بن گیا۔ سعودی عرب نے اس بیان پر خاصی ناراضی کا اظہار کیا۔ اس سے پہلے کرتار پور راہداری کھلنے پر بھی ان کے انڈیا کو گگلی مارنے والے بیان پر کافی تنقید ہوئی تھی۔ تاہم وہ وزارت خارجہ چلائے چلے جا رہے ہیں۔
مخدوم شاہ محمود حسین قریشی سہروردی نہ تو اپنے خاندان کے پہلے شاہ محمود ہیں اور نہ ہی اپنے خاندان میں اعلیٰ عہدے پر متمکن ہونے والے پہلے فرد ہیں۔ شیخ بہاؤالدین زکریا قریشی ملتانی اور ان کے پوتے شاہ رکن عالم کی اولاد میں سے کئی نامی گرامی اور صاحبانِ اقتدار گزرے ہیں۔1857 کے غدرکے وقت اس خاندان کے سربراہ کا نام بھی شاہ محمود قریشی تھا جس نے سکھوں کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دیا۔ حریت پسند احمد خان کھرل کی گرفتاری اور اس علاقے میں پھیلی بغاوت کو فرو کرنے میں بھی شاہ محمود نے اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔ سکھوں اور نواب مظفر خان آف ملتان کی لڑائی میں اس خاندان نے نواب مظفر خان کا ساتھ دیا اور جب نواب مظفر خان اپنے نوجوان بیٹوں کے قتل کے بعد شہید ہوئے تو ان کی وصیت کے مطابق انھیں بہاؤالدین زکریا ملتانی کے مزار کی چوکھٹ کے نیچے سپرد خاک کیا گیا۔ مزار پر حاضری دینے والا ہر شخص اس قبر کے اوپر پاؤں رکھ کر مزار میں داخل ہوتا ہے۔
سر لیپل گریفن کی مشہور کتاب پنجاب چیفس کا ترجمہ سید نوازش علی نے تذکرہ رؤسائے پنجاب کے نام سے کیا۔قریشی خاندان کے باب میں مذکور ہے، 1857 میں مخدوم شاہ محمود نے گورنمنٹ کی بڑی اچھی خدمت انجام دی۔ یہ صاحب کمشنر بہادر کو بطور مخبر ان تمام ضروری واقعات کی خبر دیتا رہا جو اسے معلوم ہوتے رہتے تھے۔ ملتان میں بغاوت کرنے والی رجمنٹوں سے ہتھیار چھیننے کے موقع پرانہوں نے معہ اپنے مریدوں کے صاحب کمشنر بہادر کا ساتھ دیا۔ ان خدمات کے صلے میں مخدوم شاہ محمود کو تین ہزارروپیہ نقد انعام اور جاگیریں ملیں۔ اس خطے کی تاریخ کا ایک اور اہم ترین موقع قیامِ پاکستان تھا جس سے ایک سال پہلے 1946 کے معرکتہ آلارا انتخابات ہوئے جس میں قریشی خاندان نے یونینسٹ پارٹی کا ساتھ دیا۔ اس وقت کے گدی نشین مخدوم مرید حسین قریشی تھے جبکہ ان کے بھتیجے میجر عاشق حسین قریشی یونینسٹ پارٹی کےامیدوار تھے مگر یونینسٹ پارٹی کو شکست ہوگئی۔ مسلم لیگ جیت گئی اور قیام پاکستان کی راہ ہموار ہو گئی۔یہ وہی مرید حسین قریشی تھے جن کے صاحبزادے مخدوم سجاد حسین قریشی نے بہت محنت اور جانفشانی سے اپنے آباؤ اجداد کے مریدین کے سلسلوں کو زندہ کیا، خود بھی سیاسی طور پر متحرک رہے، ایم پی اے رہے پھر سینیٹر منتخب ہوئے اور بالآخر گورنر پنجاب بن کر صوبے کی اہم ترین سیٹ پر بیٹھ کر اپنے خاندان اور روحانی سلسلے کی ساکھ کو بڑھایا۔
ڈیوڈ گل مارٹن کی تحقیقی کتاب ایمپائر اینڈ اسلام میں سجادہ نشینوں اور پیروں کے حلقہ ارادت اور ان کی موروثی سیاست کا تفصیلی ذکر ہے۔گل مارٹن لکھتے ہیں کہ سجادہ نشین بہاؤالدین زکریا کو انگریزی دربار میں بیٹھا دیکھ کر مقامی لوگ نہ صرف متاثر ہوئے بلکہ انگریزی سرکار کی امداد پرآمادہ بھی ہوئے تھے۔ انگریز سرکار نے سجادہ نشینوں اور رؤسا کو جاگیریں، انعام اور عہدے سیاسی بنیادوں پر ہی عطا کیے۔ اے سی بیلے کی تحقیق کے مطابق ’یہ رؤسا اپنے مذہبی رتبے اور سماجی مقام کی وجہ سے حکومتی عہدیداروں اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے تھے۔
دراصل آج کی سیاست بھی تو 1937 اور 1946 کی سیاست پر ہی تو مبنی ہے۔ تقریباً ہر ضلع میں وہی پرانے خاندانوں کی اولادیں اور ان کے دھڑے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں جنہیں انگریزوں نے اپنی خدمت کرنے پر نوازا تھا اور جاگیریں عطا کی تھیں۔
بیلے نے اس طریقہ سیاست کو دھڑے اور ’سرپرستی کی سیاست‘ کا نام دیا تھا۔ اسی لیے جب شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی میں آتے ہیں تو ان کا پورا دھڑا اور ووٹ بنک ان کے ساتھ ہی اس پارٹی میں آ جاتا ہے۔ ایسا ہی یوسف رضا گیلانی آف ملتان کا حال ہے۔ ان کا دھڑا اور ووٹ بینک بھی جس پارٹی میں ان کا سربراہ جاتا ہے اسی کے ساتھ ہی چلا جاتا ہے۔ کسی بھی حلقے میں یہ جاننا مشکل ہے کہ سجادہ نشین کو کتنے ووٹ مذہب کی بنیاد پر ملتے ہیں اور کتنے سیاست کی بنیاد پر۔ مگر یہ جاننا آسان ہے کہ ایسے مذہبی اور سیاسی دھڑے حلقے کے کم از کم چوتھائی ووٹ بینک پر مشتمل ہوتے ہیں۔ باقی فلوٹنگ ووٹ ہوتا ہے جس گروپ یا پارٹی کی ہوا چلے اسے فلوٹنگ یا اُڑتے ہوئے ووٹ مل جاتے ہیں اور وہ اپنے مخالف کو ہرا دیتا ہے۔ سادہ اندازے کے مطابق دھڑے کے 25 فیصد ووٹ کے ساتھ دیہی علاقوں میں 15 فیصد پارٹی ووٹ اور دس فیصد فلوٹنگ ووٹ ہوتا ہے۔
مخدوم سجاد قریشی کے فرزندارجمند اور موجودہ سجادہ نشین شاہ محمود قریشی بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے آئے، ڈسٹرکٹ کونسل کا انتخاب لڑا، کامیاب نہ ہوئے بعد ازاں اپنے والد کی پیروی میں آئی جے آئی اور مسلم لیگ ن کے سرگرم رکن بن گئے۔ ایم پی اے بنے تو وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کابینہ میں صوبائی وزیر خزانہ کے عہدے پر بھی فائز ہوئے، ن لیگ سے اختلاف ہوا تو پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے۔ بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھی رہے، ایک بار پنجاب پیپلزپارٹی کی صدارت کا تاج بھی انھیں پہنایا گیا۔ بینظیر کی وفات کے بعد آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی حکومت بنی تو انھیں وزارت خارجہ کا قلمدان سونپا گیا۔ریمنڈ ڈیوس اور وزارتوں کی تقسیم کے مسئلے پر اختلاف ہوا تو نہ صرف وزارت چھوڑ دی بلکہ پیپلزپارٹی کو بھی خیر باد کہہ دیا۔ دونوں بڑی جماعتوں میں رہنے کے بعد انھوں نے نئی اور ابھرتی ہوئی تحریک انصاف میں دھوم دھڑکے سے شمولیت کا اعلان کر دیا اور یوں وہ عمران خان کے رفیق کار بن گئے۔ شاہ محمود قریشی پاکستان تحریک انصاف کی جہد مسلسل میں عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے۔حکومت بننے سے پہلے خیال یہ تھا کہ پی ٹی آئی میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شاہ محمود قریشی ہوں گے مگر اندرونی سیاست نے کچھ ایسا کام دکھایا کہ پی ٹی آئی کے ایک آزاد امیدوار شیخ سلمان نعیم نے انھیں صوبائی نشست پر شکست دے دی اور یوں وہ وزارت اعلی کی دوڑ سے باہر ہو گئے تاہم عمران خان نے انہیں اپنی کابینہ میں پھر سے وزیر خارجہ کا عہدہ دے دیا۔
اب دیکھنا یہ ہو گا کہ قریشی خاندان کا یہ چشم و چراغ، گدی نشین اور ذہین و فطین کیا اپنے آباؤ اجداد کی طرح صرف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے گا یا کبھی ملک کا اصلی اور طاقتور حکمران بن کر وزارت عظمیٰ کا عہدہ بھی حاصل کر پائے گا یا نہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button