صدر پیوٹن نے روسی اپوزیشن لیڈر کو زہر کیوں پلوایا؟

روس کے صدر ولادی میرپیوٹن کو اپنے بڑے سیاسی مخالف اور حزب اختلاف کے 44 سالہ رہنما الیگزے ناوالنے کو زہر دے کر مروانے کی کوشش کے الزام کا سامنا ہے۔ صدر پیوٹن پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے روسی اپوزیشن رہنما کو مارنے کے لیے لئے ان کی چائے میں انتہائی مہلک زہر نوی چوک ملوایا جس کو پینے کے بعد سے وہ کومہ کی حالت میں ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ زندہ بچ پائیں گے یا نہیں۔ صدر پیوٹن پر لگنے والے اس الزام کو روسی عوام بھی سچ مان رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پیوٹن اپنے سیاسی مخالف الیگزے ناوالنے سے انتہائی خوفزدہ تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ مستقبل میں ان کے آمرانہ اقتدار کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیوٹن نے انہیں اپنے راستے سے ہٹانے کے لیے ایک غیر معمولی طریقہ کار اپناتے ہوئے انہیں اس وقت چائے میں زہر پلوا دیا جب وہ ایک ہوائی سفر کر رہے تھے۔
زہر بھری چائے پینے کے بعد حالت غیر ہونے پر پیوٹن کے مخالف اپوزیشن لیڈر الیگزے ناوالنے کا جہاز ہنگامی طور پر جرمنی میں اتار لیا گیا تھا جہاں وہ ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں لیکن انہیں ابھی تک ہوش نہیں آ پایا اورڈاکٹرزکے مطابق وہ کومہ کی حالت میں ہیں۔ الیگزے ناوالنے کی ترجمان نے الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کو زہر دینے کی سازش صدر پیوٹن نے تیار کی اور انہیں عالمی پابندی کا شکار نوی چوک نامی زہر دیا گیا جس سے ان کی جان خطرے میں ہے۔ ٹوئٹر پر جاری بیان میں اپوزیشن لیڈر کی ترجمان نے کہا کہ روس میں کرپشن کے خلاف مہم میں پیش پیش اپوزیشن لیڈر الیگزے ناوالنے کی دورانِ پرواز حالت خراب ہوئی جس پر ایمرجنسی لینڈنگ کروائی گئی۔ الیگزے ناوالنے کو جرمنی کے اومسک شہر کے ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جرمن ہسپتال میں زیر علاج ناوالنے نے کم از کم ایک بات ثابت کر دی کہ روسی صدر نہ صرف ان سے خوفزدہ ہیں بلکہ وہ ان سے نفرت بھی کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ روسی آئین میں جو آخری ترمیم دھونس اور دھاندلی کے تحت کی گئی، اس کے مطابق پیوٹن اگلے 16 برس یعنی 2036 تک بطور صدر برسر اقتدار رہ سکتے ہیں۔ تب پیوٹن 84 برس کے ہوں گے یعنی صدر بریزنیف سے بھی زیادہ عمر رسیدہ جو دوران اقتدار 1982 میں چل بسے تھے۔
یاد رہے کہ 44 سالہ اپوزیشن رہنما الیگزے ناوالنے کی وجہ شہرت صدر پیوٹن کی آمریت کے خلاف آواز اٹھانا اور ان کی مبینہ بدعنوانیوں کو منظرِ عام پر لانا ہے۔ ناوالنے دراصل پیوٹن کی یونائیٹڈ رشیا پارٹی کو ‘چوروں اور ڈاکوؤں کی جماعت’ قرار دیتے ہیں۔ 32 سال کی عمر میں قانون اور فنانس میں اعلیٰ تعلیم کی ڈگری لے کر آنے والے نوالنے سیاست خاص طور پر پیوٹن کی مخالفت کرتے رہے ہیں، جنہوں نے مکمل اختیار کی جانب اس وقت سے بڑھنا شروع کر دیا تھا جب انہیں 1999 میں وزیر اعظم مقرر کیا گیا تھا۔ پیوٹن دراصل سابق رودی صدر بورس یلسن کی پسند تھے۔
صدر پیوٹن کی بدعنوانیوں کے خلاف ایک منظم اور ملک گیر تحریک چلانے کے نتیجے میں ناوالنے اب روسی صدر کے لیے ایک مستقل سر درد بن چکے تھے۔ 2011 میں انھیں 15 دن کے لیے گرفتار کیا گیا جب انھوں نے صدر پہوٹن کی پارٹی کی جانب سے پارلیمانی انتخابات میں مبینہ طور پر دھاندلی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ 2013 میں بھی انھیں مالی بدعنوانی کے الزامات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا تاہم اس مرتبہ بھی کیس کو بطور سیاسی انتقام دیکھا گیا تھا۔ ناوالنے نے 2018 میں صدارتی دوڑ میں حصہ لینے کی کوشش کی لیکن انھیں ماضی کی سزا کی بنا پر نا اہل کر دیا گیا تھا جو کہ ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ جولائی 2019 میں ناوالنے کو حکومت مخالف مظاہرے کرنے پر 30 دن کی قید سنائی گئی تھی۔ اس قید کے دوران بھی ان کی صحت خراب ہوئی تھی اور انھوں نے الزام لگایا تھا کہ انھیں زہر دیا جا رہا ہے۔ 2017 میں ناوالنے کی دائیں آنکھ کیمیائی مادے سے جل گئی تھی۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ انھیں کوئی الرجی نہیں تھی اور ہوسکتا ہے کہ ان پر زہریلے مواد سے حملہ کیا گیا ہو۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ناوالنے کو نوی چوک زہر دے کر ایک غیر معمولی جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا زہریلا کیمیائی مادہ ہے جس کے استعمال پر عالمی قوانین کے تحت پابندی عائد ہے لیکن اس کی رسد پر روسی ریاست کا مکمل اختیار ہے اور یہ زہر وہاں اب بھی تیار ہو رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپنے سیاسی مخالف ناوالنے کو کومہ میں بھیج کر اگر صدر پیوٹن یہ پیغام بھیجنا چاہتے تھے کہ ان کی مخالفت پر کسی کے بھی ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو وہ اس مقصد میں کامیاب رہے ہیں۔
