شدید سردی میں بوٹ پالش کرنے والا بچہ کہاں گیا؟

کوئٹہ کی شدید سردی میں برف سے بھرے فٹ پاتھ پر بوٹ پالش کرنے والے کم عمر بچے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بلوچستان حکومت اور پاکستان بیت المال نے بچے کی کفالت کا اعلان کیا مگر صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کئی دن کے تلاش کے باوجود اب تک انہیں بچہ نہیں مل سکا ہے۔
یاد رہے کہ کوئٹہ میں رواں ہفتے ایک فٹ سے زائد برف باری کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا تھا اور درجہ حرارت منفی 11 سینٹی گریڈ تک گر گیا تھا۔ اس دوران بلوچستان ہائی کورٹ کے باہر فٹ پاتھ پر بوٹ پالش کرنے والے پانچ سے چھ سال کی عمر کے ایک بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں بچے کو سردی سے ٹھٹھرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام بچے کی تلاش کر رہے ہیں مگر بچے یا ان کے اہلِ خانہ سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ ترجمان حکومت بلوچستان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ جام کمال نے بھی یہ ویڈیو دیکھی اور انہیں بہت دکھ ہوا۔انہوں نے ہدایت کی کہ حکومتی اخراجات پر بچے کی کفالت کی جائے۔ ترجمان نے کہا کہ بچے کی تلاش کی جا رہی ہے، اگر وہ مل جاتا ہے تو نا صرف بچے بلکہ ان کے خاندان کی بھی کفالت کی جائے گی۔ ہم انہیں ماہانہ کی بنیاد پر راشن دیں گے اور بچے کو سکول میں داخل کرائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت سڑکوں پر محنت مزدوری یا بھیک مانگنے والے دوسرے بچوں کی بھی مدد کرے گی۔
بلوچستان ہائی کورٹ کے باہر ڈیوٹی سرانجام دینے والے پولیس اہلکارمحمد سرور نے بتایا کہ بوٹ پالش کرنے والا یہ بچہ ہر روز بلوچستان ہائی کورٹ کے باہر آکر بیٹھتا تھا۔ گزشتہ ہفتے جس دن برف باری ہو رہی تھی اس دن بھی بچہ فٹ پاتھ پر آ کر بیٹھ گیا ۔ اس دوران جب اسے سردی لگتی تھی تو وہ ہمارے پاس آ کر آگ پر ہاتھ گرم کرلیتا تھا مگر جب سے بچے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی ہے اس کے بعد سے وہ نہیں آیا۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ اب تک یہ معلوم نہیں کہ بچے کے والدین ہیں یا وہ کسی اور کی زیر کفالت تھا۔ شاید گھر والے اس بات سے ڈر گئے ہیں کہ حکومت کمسن بچے سے کام کرانے پر ان سے کوئی پوچھ گچھ نہ کرے اس لیے انہوں نے بچے کو گھر میں چھپا لیا۔ ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ حکومت انہیں پریشان نہیں کرے گی بلکہ ان کی ہرممکن مدد کرے گی۔
بچے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ نور داوڑ نے ٹویٹرپر لکھا کہ ’اس جما دینے والی سردی میں مائیں اپنے بچوں کو بستر سے نکلنے نہیں دیتیں لیکن گیس سے سے مال مال کوئٹہ ( بلوچستان ) کا یہ بد قسمت بچہ بوٹ پالش کرنے لیے روزی روٹی کمانے نکلا ہے۔ یہ ننھا بچہ انسانیت اور فلاحی ریاست کے نام پر سوالیہ نشان ہے۔
پاکستان بیت المال کے ایم ڈی عون عباس بپی نے اس ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ پاکستان بیت المال کی ٹیم اس بچے کو تلاش کر رہی ہے۔ انہوں نے شہریوں سے بچے کی تلاش میں مدد کی اپیل کی۔
پاکستان بیت المال کے ایم ڈی کو بچے کی تلاش والی ٹویٹ پر سخت سننا پڑی کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہی کیوں نوٹس لیا جاتا ہے فلاحی اقدامات ویسے کیوں نہیں کیے جاتے۔
نعمان عزیز نے لکھا کہ صرف ایک یہ بچہ نہیں ایسے لاکھوں بچے ہوں گے جو ایک وقت کھانے کے لیے ایسے حالات کا سامنا کررہے ہیں۔
رفیق مینگل بلوچ نے لکھا کہ اگر احساس کی نظر ہو تو ہر گلی میں ایسے بچے اس سے بھی بدتر حالات میں نظر آئیں گے۔ عجیب ذہنیت ہے کہ صرف اسی بچے کو ڈھونڈا جا رہا ہے جو کسی حساس انسان کی بدولت میڈیا میں آیا۔
