شریف برادران الگ ہوئے تو فوج بھی عمران کو چھوڑ دے گی

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ شیخ رشید کی پیش گوئی کے مطابق اگر نواز شریف اور شہباز شریف کے اختلافات کی دراڑ مسلم لیگ ن کو تقسیم کر دیتی ہے تو فوجی اسٹیبلشمینٹ اور عمران خان بھی ایک صفحے پر نہیں رہیں گے۔
ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز کے لئے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ شریف برادران میں اس وقت حکمت عملی کی حد تک اختلاف موجود ہے اور وہ اس نقطے پر ہے کہ پارٹی میں کس بیانیے کو آگے بڑھایا جائے اور دوبارہ اقتدار کیسے حاصل کیا جائے؟ شہباز کا خیال ہے کہ نواز شریف کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ اور مخالفت کی پالیسی کی وجہ سے ن لیگ مشکلات کا شکار ہے۔ چناںچہ وہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف اور ان کی جانشین مریم نواز اپنے بیانیے کی حدت کم رکھیں اور کچھ عرصے کے لیے ملک سے باہر رہیں تاکہ اس دوران وہ اسٹیبلشمنٹ کو رام کر پائیں۔ لیکن نواز کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے مسائل کا ایک حصہ ہے، ان کا حل نہیں ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے گزشتہ تین عشروں کے دوران تین مرتبہ حکومت کی قربانی دی۔ جیل اور جلاوطنی کاٹی۔ لیکن اب کیا وہ صرف اس لیے ہار مان لیں کہ اُن کے بھائی شہباز شریف وزیر اعظم پاکستان بننے کی بے سود کوشش کرنا چاہتے ہیں؟
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ مسئلہ کافی پیچیدہ ہے۔ الجھن یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے انتخابی وزن رکھنے والے زیادہ تر راہ نما اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت چاہتے ہیں جب کہ اسکے ووٹروں کی اکثریت مریم اور نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے کے ساتھ کھڑی ہے اور یہ مزاحمت اس اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہے جسکے ساتھ شہباز چلنا چاہتے ہیں۔ گویا ”حقیقت پسندی“ اور ”آئین پسندی“ کی کشمکش اس وقت دونوں بھائیوں کے درمیان اختلاف کی لکیر بنتی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن سیٹھی کہتے ہیں کہ شہباز کا مفاہمت کی حمایت میں ایک حالیہ انٹرویو نواز شریف نے ٹویٹر پر اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کی آندھی سے اڑا پھینکا۔ نواز شریف نے وہ بحث ہی ختم کردی جس نے حالیہ دنوں مسلم لیگ ن میں ابہام اور مایوسی پھیلا رکھی تھی۔ بات واضح ہوچکی۔ اب شہباز شریف پر منحصر ہے کہ کیا وہ کھلی بغاوت کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کو تقسیم کرتے ہیں یا اپنے لیڈر کے بیانیے کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں؟
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ اگر شہباز بغاوت، یعنی مسلم لیگ کی تقسیم کی طرف جاتے ہیں تو اس میں بہت سی مشکلات ہیں۔ سب سے پہلی یہ کہ مقبول عام ووٹ نواز شریف اور مریم کے ساتھ ہے۔ انتخابی میدان کے پہلوان بھی اس حقیقت سے آشنا ہیں۔ اسلیے شہباز شریف کے نام کی مناسبت سے مسلم لیگ ش کی کوئی اہمیت نہیں ہو گی۔ دوسری بات یہ کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف کے الگ ہوتے ہوئے دھڑے کو عمران خان کی دوبارہ ابھرتی ہوئی تحریک انصاف پر ترجیح نہیں دے گی کیوں کہ اس نے اب تک اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں کافی اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ درحقیقت مسلم لیگ ن میں پڑنے والی دراڑ تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ کو تقویت پہنچائے گی۔ اس کا شہباز کے بیانیے کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
سیٹھی کے مطابق نواز شریف کے بیانیے کے ساتھ بھی دومسائل ہیں۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی اجازت دے کر نواز شریف کو اقتدار میں آنے کا موقع کیوں دے گی جب نواز شریف اعلانیہ طور پر اس کے پر کتر کر اسے سیاسی میدان سے باہر کرنے کے لیے پرعزم ہیں؟ سوال یہ بھی یے کہ کیا کسی واضح اور ٹھوس حکمت عملی کی غیر موجودگی میں اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کا راستہ روکنے کی کوشش میں نواز شریف محض اندھیرے میں تیر تو نہیں چلارہے؟ بلاشبہ، اگر آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات کو ایک پیشگی وارننگ کے طور پر لیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ مسلم لیگ ن کے گمنامی کی دھند میں کھو جانے کے امکانات واضح ہیں۔
تاہم کچھ عوامل ایسے حقیقت پسندانہ اعداد و شمار کو چیلنج کرتے ہیں۔ ان میں سب سے اوپر فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اہم کھلاڑیوں کے ذاتی عزائم کی کشمکش ہے۔ ان میں سے صرف ایک کے عزائم اگلے سال پورے ہو سکتے ہیں، اور اس کی قسمت یا مقدر کا فیصلہ عمران کے ہاتھ میں ہے۔ اس سلسلے میں ہونے والی کوئی بھی کشمکش حزب مخالف کے لیے پاؤں رکھنے کی جگہ پیدا کردے گی۔ اس کے سامنے بھی ایک یا دو آپشن ابھر آئیں گے۔ دوسرا عامل ریاست اور معاشرے میں بحران کے گہرے ہوتے ہوئے بادل ہیں۔ جب یہ صورت حال کنٹرول سے باہر ہوئی تو دھماکہ خیز نتائج کی صورت اختیار کرلے گی۔
نجم سیٹھی کی نظر میں موجودہ بحران غیر معمولی بھی ہے اور کثیر پہلو بھی۔ ماضی میں معیشت یا داخلی سیاست میں اٹھنے والے بحرانوں پر قابو پانے کے لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ امریکی امداد سے معیشت کی سانسیں بحال کرادیتی تھی۔ اس کے عوض اسے غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنا پڑتا تھا یا پھر یہ اپنی طرف جھکاؤ رکھنے والے کسی اور سویلین دھڑے کو اقتدار میں لے آتی تھی۔ لیکن اب ایسے امکانات کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ سٹریٹیجک معاملات پر اسٹیبلشمنٹ کے امریکا کے ساتھ سنگین مسائل پیدا ہو چکے ہیں جس کے منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اس سے پہلے اسٹبلشمنٹ کو کبھی مشرقی اور مغربی سرحدوں سے بیک وقت اتنے دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا جتنا آج۔لیکن اس کی معیشت کے عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے جڑے ہونے کی وجہ سے چین کا آپشن کام نہیں آئے گا۔ دوسری جانب عمران خان پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو بیک وقت ختم کرنے کاعزم رکھتے ہیں۔ اس صورت میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پاس بھی کوئی متبادل پاپولر جماعت موجود نہیں۔ بدترین بات یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی چالبازیوں کی وجہ سے اپنے ”ہوم ٹاؤن“ پنجاب سے جس قدر تنقید کانشانہ بنایا جارہا ہے، اس کی پہکے کبھی مثال نہیں ملتی۔جلد ہی یہ تناؤ اور الجھنیں اس کی ساکھ اور صلاحیت کو گھائل کردیں گی۔ چنانچہ اس کے لیے اندرونی اور بیرونی طور پر موجودہ سیاسی سمت برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔
نوازشریف کا کہنا ہے کہ طاقت ور صرف طاقت کی زبان ہی سمجھتا ہے، اس لیے اسٹیبلشمنٹ مخالف جارحانہ بیانیہ ہی آخر میں کامیاب ہوگا۔ بظاہر پیپلز پارٹی کی راہیں الگ کراتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کا کامیابی سے پی ڈی ایم کو توڑنا ویسا ہی تھا جیسا اب شہباز شریف کو چکما دے کر مسلم لیگ ن کی صفوں میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کرنا۔ سیٹھی کہتے ہیں کہ اب جبکہ برطانوی حکومت نے نواز شریف کا لندن میں قیام بڑھانے کی درخواست مسترد کردی ہے، تحریک انصاف کی خوشی کاکوئی ٹھکانہ نہیں۔ لیکن اس دھماکہ خیز پیش رفت سے کئی ایک سوالات اٹھتے ہیں۔ برطانوی حکومت کو اس کیس کا فیصلہ کرنے میں دوسال کیوں لگے؟ اگر نواز برطانوی فیصلے کے سامنے مزاحمت کرتے ہیں تو کیا اندرون ملک اُنکی مقبولیت کو زک پہنچے گی؟ ویسے بھی پاکستان میں نواز شریف پر تین سالوں کے دوران کون سا ہتھیار ہے جو نہیں آزمایا گیا لیکن اُن کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ اسلیے برطانوی حکومت سے فیصلے کے خلاف اپیل کرنا اُن کے حامیوں کو مایوس نہیں کرے گا۔ یقینا وہ جانتے تھے کہ حالات کا رخ اختیار کررہے ہیں۔ اگروہ خائف ہوتے تو ابھی دو دن پہلے اسٹیبلشمنٹ پر اس قدر شدید تنقید نہ کرتے۔ اُنہوں نے یقینا اپنے وکلا اور سیاسی مشیروں کے ساتھ مل کرکوئی حکمت عملی طے کر رکھی ہوگی۔
نجم سیٹھی کے خیال میں نوازشریف یقینا ایک روز پاکستان واپس آجائیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کن شرائط پر؟ سیتھی کے مطابق اس کا سب سے اچھا موقع اگلے الیکشن سے قبل رضاکارانہ طور پر واپس آکر عدالت کے حکم کی تعمیل کرنا ہوگا۔
