ہمارے سیاستدانوں کا سافٹ وئیر کیسے اپڈیٹ ہوتا ہے؟

وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے متعارف کردہ ہائبرڈ نظام جمہوریت میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کے لیے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کیے جانے کے واقعات کے بعد اب یہ اصطلاح زبان زد عام ہے۔ دوران حراست اپنا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کروانے والی ایسی ہی ایک شخصیت تحریک انصاف کے جہانگیر ترین گروپ سےتعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی نذیر چوہان ہیں۔ انہوں نے مشیر احتساب شہزاد اکبر کی جانب سے درج کروائے گئے ایک کیس میں پہلے تو سلطان راہی والی بڑھکیں لگائیں لیکن گرفتاری کے تیسرے ہی روز اپنا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کروانے کی خاطر دل کے ہسپتال میں داخل ہوگئے۔ سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہوتے ہیں چوہان نے اعلان کیا کہ ان کی آنکھیں کھل چکی ہیں اور وہ شہزاد اکبر کے خلاف لگائے گئے الزامات پر ان سے معافی مانگتے ہیں۔ چوہان مذید بولے کہ انہیں جہانگیر ترین نے اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا اور وہ ترین گروپ سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہیں۔
چوہان کی جانب سے ترین گروپ چھوڑنے کے اعلان کو اپوزیشن رہنماؤں نے ’سافٹ وئیر اپ ڈیٹ‘ قرار دیا ہے۔ ترین گروپ کا سب سے نمایاں چہرہ سمجھے جانے والے نذیر چوہان نے اپنے خلاف مقدمات اور گرفتاری کے بعد وزیرِاعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب اور مشیرِ داخلہ شہزاد اکبر کو اپنا محسن قرار دیا جبکہ چند ہفتے پہلے تک وہ شہزاد اکبر کے اتنے خلاف تھے کہ جہانگیر ترین کے خلاف بننے والے ایف آئی کے مقدموں کا ذمہ دار انہیں کو ٹھہراتے تھے۔ تاہم شہزاد اکبر کی جانب سے ان کے خلاف مقدمات اور انکی گرفتاری کے بعد نذیر چوہان کا موقف بالکل بدل گیا اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ ترین نے انہیں پہلے پوری طرح استعمال کیا اور پھر مشکل وقت میں انکو اکیلا چھوڑ دیا۔
نزیر چوہان کے اس یوٹرن کو سوشل میڈیا صارفین سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہی قرار دے رہے ہیں۔ خود نذیر چوہان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انسان کو جب اپنی غلطی کا احساس ہو تو اسکا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل نے بھی اسے ’سافٹ وئیر اپ ڈیٹ‘ قرار دیا۔ جبکہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے کہا کہ ناصرف نذیر چوہان بلکہ پورے جہانگیر ترین گروپ بلکہ آدھی ن لیگ کا سافٹ وئیر بھی اپ ڈیٹ ہو گیا ہے۔ خواجہ آصف سے پہلے شہباز شریف نیب کی قید سے آزاد ہوئے تو انکا سافٹ ویئر پہلے سے بھی زیادہ اپڈیٹڈ لگا۔ اس دوران شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی نواز شریف کا سافٹ ویئر بھی اپڈیٹ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔
لیکن کئی سادہ لوح افراد اب بھی پوچھتے دکھائی دیتے ہیں کہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ سے کیا مراد ہوتی ہے؟ ویسے تو یہ انگریزی کا لفظ اور ایک سائنسی اصطلاح ہے جس سے مراد کسی موبائل یا کمپیوٹر وغیرہ کا آپریٹنگ سسٹم بدلنا ہے۔ مثال کے طور پر آئی فون، اینڈرائڈ اور دیگر آلات کا نظام کار ہر کچھ عرصہ بعد بہتر کیا جاتا ہے جسے سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کرنا کہتے ہیں۔ عام طور پر سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے سے فون اور کمپیوٹر کی کارکردگی پہلے سے بہتر ہو جاتی ہے۔
تاہم چند سال قبل سوشل میڈیا پر اس لفظ کا سیاسی معنوں میں طنزیہ یا مزاحیہ استعمال شروع ہوا جہاں اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ کسی دباؤ، گرفتاری یا دھمکی کے بعد کسی شخص کا نظریہ تبدیل ہو گیا ہے اور اب وہ اپنے پرانے خیالات سے تائب ہو کر ’قابل قبول‘ انسان بن چکا ہے۔
راولپنڈی کے سیٹلائیٹ ٹاؤن کالج میں اردو زبان کے پروفسیر ڈاکٹر روش ندیم کے مطابق ’سافٹ وئیر اپ ڈیٹ‘ کا تازہ استعمال اربن سلینگ کے زمرے میں آتا ہے۔ اربن سلینگ سے مراد وہ الفاظ ہوتے ہیں جو عام افراد تو بولتے ہیں اور سننے والے سمجھتے ہیں مگر وہ ڈکشنری میں نہیں شامل ہوتے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ’سافٹ وئیر اپ ڈیٹ‘ یا ’شمالی علاقہ جات‘ اور اس طرح کے کئی الفاظ ایک خاص سیاسی ماحول میں سامنے آئے ہیں تاہم دنیا بھر میں ویسے بھی اربن سلینگ کی تخلیق عوامی سطح پر ہوتی رہتی ہے۔
گذشتہ ماہ نیب کی قید سے رہائی کے بعد مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیا تو انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ’میرا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہو گیا ہے اور جس طرح کےحالات ہیں سب کاسافٹ ویئراپ ڈیٹ ہو جائے گا۔‘ اس اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ’سیاستدان اقتدار میں آنے کے لیے پنڈی کی طرف دیکھتے ہیں، میرے خیال میں تمام طاقتور لوگ اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہوتے ہیں، عدلیہ، فوج، اور میڈیا یہ سب ادارے اسٹیبلشمنٹ ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ ’ہم اپنے اقتدار کے لیے دائیں بائیں دیکھتے ہیں ہم جنہیں اقتدار کے لیے آواز دیتے ہیں آہستہ آہستہ ان کا قبضہ بڑھ جاتا ہے، جواب کے لیے ہمیں کئی اور جانے کی ضرورت نہیں اپنے گریبان میں دیکھیں جس طرح کے حالات ہیں سب کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہو جائے گا۔‘
ان کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے سما نیوز کے اینکر ندیم ملک نے اپنے پروگرام میں سافٹ وئیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ایک سیاستدان کو پکڑا جائے اور وہ بعد میں آ کر کوئی بھی ایسی بات کر دے جس سے کہیں کسی کو شائبہ ہو جائے کہ اس نے اسٹیبلشمنٹ کی براہ راست یا بالواسطہ حمایت کی ہے تو لوگ اس پر میم بنا کر سوشل میڈیا پر چلانا شروع کر دیتے ہیں کہ اس کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہو گیا ہے۔
اسی طرح چند دن قبل نجم سیٹھی اپنے ٹی وی پروگرام کی طویل بندش کے بعد 24 نیوز پر دوبارہ اپنا پروگرام شروع کرنے لگے تو ان کی ساتھی اینکر نے پہلا سوال یہ پوچھا کہ کیا ان کا بھی سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہو گیا ہے جس پر انہوں نے کہا کہ ’جس قسم کے حالات ہیں اور جو حکومت کا رویہ ہے سنسر شپ کے بارے میں تو ظاہر ہے ’سافٹ ایئر اپ ڈیٹ‘ تو ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ اگر پیگاسس کمپیوٹر وائرس میرے سافٹ وئیر میں بھی آجاتا ہے تو مجھے تو علم نہیں ہو گا۔
