کیا کپتان کی نواز کو جیل بھیجنے کی خواہش پوری ہونے والی ہے؟

نواز شریف کے برطانوی ویزے میں توسیع نہ کرنے کے برطانوی ہوم ڈیپارٹمنٹ کے فیصلے کے بعد کپتان حکومت کا خیال ہے کہ اب ان کو واپس آنا پڑے گا اور تحریک انصاف کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ سابق وزیراعظم جلد واپس جیل میں ہوں گے۔ لیکن برطانوی اور پاکستانی قانونی ماہرین کی رائے اس کے برعکس ہے۔ انکا خیال ہے کہ نواز شریف کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف کی جانے والی اپیل کی عدالتی کارروائی کم از کم ایک برس تک چل سکتی ہے جس دوران پاکستان میں سیاسی حالت بدل جائیں گے۔

لندن سے تعلق رکھنے والے معروف پاکستانی نژاد قانونی ماہر بیرسٹر گل نواز خان کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک ڈیپارٹمنٹ کا فیصلہ ہے اور اس کے خلاف نواز شریف کی اپیل کا فیصلہ ہونے میں کم از کم ایک سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برطانوی حکومت نے آج تک کسی بھی سابق وزیراعظم کو اپنے ملک سے نہیں نکالا اور نواز شریف کے حوالے سے بھی ایسا کوئی فیصلہ آنے کا امکان نہیں ہے۔ نواز شریف کے وکلاء نے اس اپیل کے مسترد کیے جانے کے حوالے سے میڈیا کو باقاعدہ کچھ نہیں بتایا اور نہ ہی ہوم ڈیپارٹمنٹ کچھ بتانے کے لیے تیار ہے۔ جو خبریں ابھی تک آئیں ہیں ان کے مطابق نواز شریف نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ سابق وزیراعظم کا اپیل کا حق بالکل اسی نوعیت کا ہے جس طرح پاکستان کے قانونی نظام میں ہے کیونکہ برطانیہ اور پاکستان کے قانونی نظام میں بہت سارے نکات ایک جیسے ہیں۔

بیرسٹرگل نواز خان کے بقول نواز شریف سب سے پہلے اپنا اپیل کا حق امیگریشن ٹریبونل میں استعمال کریں گے۔ ان کے بقول، یہ فورم انکے خلاف بھی فیصلہ دے سکتا ہے یا ہوم ڈیپارٹمنٹ کو کہہ سکتا ہے کہ اپیل کو دوبارہ سے سنا جائے۔ اس کے بعد اگر ان کی اپیل دوبارہ مسترد ہوتی ہے تو بھی انہیں مزید اپیل کا حق دیا ملتا ہے۔ تب وہ فرسٹ ٹریبونل میں اپیل کریں گے اور اگر وہاں سے بھی اپیل مسترد ہو جاتی ہے تو اپر ٹربیونل میں اپیل دائر ہو گی۔ اپیلوں کے اس سارے عمل میں کم از کم ایک سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ لہازا نواز شریف کو فوری طور پر برطانیہ چھوڑنے کا نہیں کہا جا سکتا جیسا کہ حکومت کا خیال یے۔

بیرسٹر گل نواز خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا پاسپورٹ فروری 2021 میں ختم ہونے کے بود چونکہ حکومت پاکستان ان کو نیا پاسپورٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہے اس لیے وہ اس وقت برطانیہ سے باہر سفر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
لیکن انکا کہنا تھا کہ پاسپورٹ ختم ہونے کی بنیاد پر حکومت پاکستان ان اپیل کے مراحل میں فریق نہیں بن سکتی اور نہ ہی انکی حوالگی کا مطالبہ کر سکتی ہے کیونکہ یہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے۔

تاہم قانونی ماہرین کے مطابق آخری حربے کے طور پر اگر نواز شریف چاہیں تو سیاسی پناہ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ سیاسی پناہ مانگنے کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں اور وہ کسی وقت بھی سیاسی پناہ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں لیکن ان کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے یا ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے معروف قانون دان ریاض حسین بلوچ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا مقدمہ عبدالحمید جتوئی کے کیس سے مماثلت رکھتا ہے۔ تاہم عبدالحمید جتوئی کو سزا نہیں ہوئی تھی اور نواز شریف سزا یافتہ ہیں۔ ایسی صورت میں اگر وہ واپس آنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو انکے وکلاء کی طرف سے درخواست ضمانت دی جا سکتی ہے۔ یہ ضمانت عام ضمانت سے مختلف ہوگی اور انتہائی محدود وقت کے لیے ہوگی۔ ایسی ضمانت اس لیے دی جائے گی کہ وہ متعلقہ عدالت میں خود کو پیش کر سکیں۔ ریاض بلوچ کے مطابق تاہم حکومت قانونی بنیادوں پر نواز شریف کے لیے کسی بھی طرح کی ریلیف کی مخالفت کر سکتی ہے اور یہ کہہ سکتی ہے کہ وہ سزا یافتہ ہیں اور عدالت سے مفرور ہیں اس لیے ان کو ریلیف نہیں دی جانی چاہیے۔

لیکن سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ نواز شریف اگر پاکستان واپس آئیں تو ان کو گرفتار کیا جائے کیوںکہ جس جج نے نواز شریف کو سزا دی تھی، اس کا کردار مشکوک تھا۔ اس جج کے حوالے سے کچھ ایسی ویڈیوز سامنے آئی تھیں جنہوں نے انکے فیصلے کو متنازعہ بنا دیا تھا۔ یہ نواز شریف کے لیے ایک مضبوط گراؤنڈ ہو سکتی ہے جس بنیاد پر ان کی سزا معطل کی جا سکتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ ضمانت عام معنوں میں ضمانت نہیں ہوتی بلکہ سزا کی معطلی ہوتی ہے۔ کسی اور مقدمے میں ان ہی وجوہات کی بنا پر ان کی سزا معطل بھی ہوئی ہے۔ جسٹس وجیہ الدین احمد کا مزید کہنا تھا کہ جب نواز شریف جا رہے تھے، تو اس وقت ایک حلف نامہ شہباز شریف نے جمع کرایا تھا۔ اس میں یہ نکتہ درج ہے کہ وہ کوشش کریں گے کہ اپنے بھائی کو چار ہفتوں میں واپس لے کر آئیں۔ لیکن اس میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ انہیں چار ہفتوں میں بھی واپس لایا جا سکتا ہے لیکن جب ڈاکٹر اس بات کی تصدیق کر دیں کے وہ صحت مند ہوگئے ہیں اور پاکستان جانے کے لیے جسمانی اعتبار سے فٹ ہیں۔ تو یقینا نون لیگ اس قانونی نکتے کو استعمال کرے گی کیونکہ برطانیہ میں بھی ہوم ڈیپارٹمنٹ سے درخواست مسترد کیے جانے پر جو قانونی نکات ن لیگ اٹھا رہی ہے، ان میں ایک نکتہ یہ بھی ہے۔

 اس معاملے پر پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ نوازشریف واپس آتے ہیں تو ان کی لازمی ضمانت ہوجائے گی، عدالت انہیں ریلیف دے سکتی ہے کہ وہ پیش ہونے آرہے ہیں لہازا ان کو گرفتار نہ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف سینئر سیاستدان ہیں، انہیں عدالت میں پیش ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نواز کے علاوہ تین بار کوئی وزیراعظم نہیں بنا، لہازا ان کو واپس آجانا چاہیے، جہاز میں بیٹھنے سے قبل ہی ان کی ضمانت ہوجائے گی۔

Back to top button