عثمان کاکڑ کی موت کا معمہ مزید پراسرار ہو گیا

سابق پشتون سینٹر عثمان کاکڑ کی موت طبعی تھی یا انہیں قتل کیا گیا، اس اہم سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے بنایا جانے والا جوڈیشل کمیشن کوئی نتیجہ نکالنے میں ناکام رہا ہے جس سے یہ معاملہ اور بھی پراسرار ہو گیا ہے۔
پشتونخواہ میپ کے اینٹی اسٹیبلشمینٹ رہنما عثمان کاکڑ کی اچانک سر پر زخم آنے سے ہونے والی موت کے بعد قتل کے الزامات کی تحقیقات کیلئے قائم کیے گئے جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ کمیشن بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز جسٹس نعیم اختر افغان اور نذیر احمد لانگو پر مشتمل تھا، جسے بلوچستان حکومت نےعثمان کاکڑ کی موت کی وجوہات جاننے کے لئے یکم جولائی 2021 کو تشکیل دیا تھا۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کمیشن عثمان کاکڑ کو قتل کیے جانے کے الزامات کی حقیقت جاننے کیلئے کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قاصر رہا کیوں کہ کیس سے متعلق گواہی اور بیان کے لئے کوئی بھی شخص کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوا۔ چنانچہ عدالتی کمیشن اس معاملے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔ چنانچہ اب حکومت یہ کہنے میں حق بجانب ہوگی کہ عثمان کاکڑ کو قتل نہیں کیا گیا جیسا کہ ان کے خاندان کا الزام تھا۔
واضح رہے کہ عثمان کاکڑ زخمی ہونے کے بعد 21 جون 2021 کو کراچی میں انتقال کر گئے تھے۔ پشتونخواہ میپ کے مرحوم رہنما کو سر پر گہرے زخم آنے کے بعد کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دوران علاج انتقال کر گئے تھے۔ عثمان کاکڑ کی موت کے بعد ان کی جماعت اور دیگر کچھ عناصر نے قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے مرحوم سینیٹر کی موت کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔ پشتونخواہ میپ اور دیگر عناصر کے اس مطالبے کے بعد ہی بلوچستان کی حکومت نے حقائق جاننے کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا، جو اس حوالے سے کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قاصر رہا، جیسا کہ امید کی جا رہی تھی۔ شاید اس لیے حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ جوڈیشل کمیشن کے سامنے عثمان کاکڑ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے کسی فرد نے بھی پیش ہو کر اپنے الزامات نہیں دہرائے۔
یاد رہے کہ 17 جون 2021 کو پراسرار حالات میں عثمان کاکڑ کو اپنے گھر میں سر پر گہری چوٹ آئی تھی۔ اُن کا ابتدائی علاج کوئٹہ میں ہوا اور زخم گہرا ہونے کے باعث ان کے سر کے آپریشن میں ساڑھے چار گھنٹے لگے تھے۔ انھیں بعد ازاں کوئٹہ سے کراچی کے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ 21 جون کو سر کے زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے تھے۔ ان کے بڑے بیٹے خوشحال خان خٹک نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ دو نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر ان کے والد کے سر پر کلہاڑی سے وار کیے۔ تاہم حکومتی موقف یہ تھا کہ انکو برین ہیمرج کے باعث گرنے سے سر پر ذخم آیا ہے۔ لیکن بلوچستان کی بولان میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ممتاز نیورو سرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کے مطابق عثمان کاکڑ کے ابتدائی سی ٹی سکین کے مطابق سر پر چوٹ لگنے سے پہلے اُن میں بلڈ پریشر، برین ہیمرج یا اس نوعیت کی کسی اور بیماری کے آثار نہیں پائے گئے۔ پشتون خوا ملی عوامی پارٹی نے کاکڑ کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انکے پاس قتل کے شواہد موجود ہیں۔
پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کا دعویٰ تھا کہ کاکڑ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ سویلین بالادستی کے بڑے وکیل تھے اور سیاسی معاملات میں مداخلت پر خفیہ اداروں اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو برملا تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ تاہم بلوچستان کے وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ چند ملک دشمن عناصر ان کی موت کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لیکن بلوچستان کے ممتاز نیورو سرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کے مطابق جب انھوں نے اپریشن سے پہلے عثمان کاکڑ کے سر کے بال صاف کیے تو دیکھا کہ ان کے سر کے بائیں طرف سوجن تھی اور ان کو کند چوٹ لگی تھی۔ یہ کسی وجہ سے بھی لگ سکتی ہے۔ ایک مفروضہ تھا کہ ان کو پہلے ہیمرج ہو گیا ہو گا جس کے بعد وہ گر گئے لیکن سی ٹی سکین میں ہیمرج نہیں تھا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ جو ضروری سرجری تھی وہ انھوں نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کاکڑ صاحب کے دماغ کو زیادہ نقصان پہنچا تھا اور اس۔پر سوجن زیادہ ہونے کہ وجہ سے وہ باہر نکل رہا تھا چنانچہ اسے اضافی پردہ لگا کر محفوظ کیا گیا تا کہ اسے خون کی فراہمی برقرار رہے۔ انھوں نے بتایا کہ سرجری کے دوران ان کے ریسپانسز بہتر ہوئے اور آپریشن رات ایک بج کر 33 منٹ پر مکمل ہوا۔ ’اس کے بعد ان کے رشتے داروں اور سیاسی قیادت نے ماہر ڈاکٹروں کا انتظام کیا تھا جنھوں نے ان کو ایک اور پرائیویٹ ہسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کیا۔‘ نیورو سرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کا کہنا تھا کہ اکثر جب فالج کا حملہ ہوتا ہے تو مریض کو سیکنڈری ہیڈ انجری ہو جاتی ہے لیکن کاکڑ کی سی ٹی سکین رپورٹ میں فالج، خون پتلا ہونے یا بلڈ پریشر کے شواہد نہیں تھے۔
