شفاف انتخابات کے انعقاد میں اصل رکاوٹ کون ہے؟

جہاں ایک طرف ملک میں انتخابات کا بگل بج چکا ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اگست میں اقتدار نگران حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔وہیں دوسری طرف ملک کے کئی حلقوں میں انتخابی اصلاحات، انتخابات سے پہلے ان کی ممکنہ منظوری اور ایوان میں حزب اختلاف کی غیر مؤثر موجودگی زیر بحث ہے۔
حکومتی اراکین الیکشن اصلاحات بارے تجاویز کے مندرجات کو منظر عام پر لانے سے ہچکچا رہے ہیں۔ تاہم ایک رپورٹ کے مطابق الیکشن اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی نے اپنا کام تیز کر دیا ہے اور کمیٹی کے ایک حالیہ اجلاس میں انتخابی قوانین میں ترامیم کے حوالے سے 73 تجاویز ان قوانین کی بہتری کے لیے زیر بحث آئیں۔ انہیں قومی اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے پہلے منظور بھی کرا لیا جائے گا۔
رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ کمیٹی کو تجویز کیا گیا ہے کہ انتخابات کے نتائج کی تاخیر کی صورت میں پریزائیڈنگ افسر کا احتساب کیا جائے اور اس سے اس تاخیر کی معقول وجہ طلب کی جائے۔ کمیٹی کو یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ پریزائیڈنگ افسران کو ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز فراہم کیے جائیں اور یہ کہ پریزائیڈنگ افسر دستخط شدہ نتائج کی فوٹو کاپی ریٹرننگ افسر کو بھیجے۔ کمیٹی کو یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ تمام پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں، جو گنتی اور نتائج کی ترتیب میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں اور کسی تنازعے کی شکل میں کیمرے کی ریکارڈنگ کو ثبوت کے طور پہ پیش کیا جائے۔ کمیٹی کو یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ غفلت برتنے پر پریزائیڈنگ افسر یا ریویونگ افسر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔ ہر پولنگ اسٹیشن کے باہر ووٹرز کی مکمل لسٹ لگائی جائے اور پولنگ اسٹیشن کے باہر سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی جائے، جنہیں ضرورت پڑنے پر اندر بھی بلایا جا سکتا ہے۔ قومی اسمبلی کے الیکشن اخراجات 40 لاکھ سے ایک کروڑ تک کرنے کی تجاویز دی گئی ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کے اخراجات 20 لاکھ سے 40 لاکھ تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ پولنگ اسٹاف کے ارکان کے نام الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیے جائیں تاکہ امیدوار دس دن کے اندر اندر اس تعیناتی کے حوالے سے اعتراض دائر کرا سکیں۔ انتخابی اسٹاف اگر دھاندلی میں ملوث ہو تو اس کے لیے سزا چھ مہینے سے بڑھا کر تین سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
انتخابی اصلاحاتی کمیٹی کے رکن سینیٹر کامران مرتضی کا خیال ہے کہ ان تجاویز کو آسانی سے منظور کرا لیا جائے گا: ’’بظاہر ان تجاویز پر کوئی بہت زیادہ اعتراضات سامنے نہیں آئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر صاحب اجلاس میں موجود تھے انہوں نے اس پر اپنے کچھ تاثرات لکھے ہیں لیکن کوئی بڑا اعتراض سامنے نہیں آیا۔‘‘
کئی ناقدین کا خیال ہے کہ ان میں سے کئی تجاویز اتنے کم وقت میں قابل عمل نہیں ہیں۔ پاکستان میں انتخابات اور انتخابی عمل پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پروکیورمنٹ کے قوانین پیچیدہ ہیں اور اتنے کم وقت میں سی سی ٹی وی کیمرے اور اسمارٹ فونز کی درامد کوئی آسان کام نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا، ”پاکستان میں پہلے ہی اشیاء کی امپورٹ مشکل بنی ہوئی ہے اور ایسے میں ہزاروں پولنگ اسٹیشنز کے لیے اتنے سارے کیمرے اتنے کم وقت میں کیسے امپورٹ کیے جا سکتے ہیں۔‘‘
احمد بلال محبوب کے مطابق 2018ء کے انتخابات میں بھی یہ کوشش کی گئی تھی کہ نتائج اسمارٹ فونز سے جلدی بھیج دیے جائیں: ”لیکن بعد میں پتہ چلا کہ بہت سارا پولنگ کا ایسا سٹاف بھی تھا، جس کو اسمارٹ فونز استعمال ہی کرنا نہیں آتے تھے۔ اب اگر اسمارٹ فون کے استعمال کے لیے الیکشن کمیشن تربیت دے، تو اس میں بھی کافی وقت لگے گا کیونکہ پورے پاکستان میں انتخابی عملے کی تعداد بہت بڑی ہوگی۔‘‘
احمد بلال محبوب کا خیال ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ نئی تجاویزسے اجتناب کرے: ” میرے خیال میں جو بھی موجودہ قوانین ہیں انہی کے تحت انتخابات کرا لیے جائیں ورنہ اتنے کم وقت میں نئی تجاویز لانے سے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔‘‘
تاہم کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ الیکشن کمیشن اور حکومت پاکستان مل کر ان ٹیکنیکل معاملات کو حل کر سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد احمد کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے رولز میں تبدیلی کرنا پڑے گی۔ انہوں نے بتایا، ”یہ بات صحیح ہے کہ پاکستان میں پروکیورمنٹ کے رولز سخت ہیں لیکن حکومت ان میں نرمی کر سکتی ہے۔ سی سی ٹی وی کیمرے اور اسمارٹ فونز کی امپورٹ اور ٹریننگ کے لیے بھی ہنگامی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔‘‘کنور دلشاد احمد کے مطابق حکومت کو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ انتخابات کے وقت لوڈ شیڈنگ نہ ہو: ”بجلی کے بغیر کیمرے کیسے کام کریں گے۔ جس طرح عید پر حکومت لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا اعلان کرتی ہے، بالکل اسی طرح اسے اعلان کرنا پڑے گا کیونکہ شفاف انتخابات کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے تاکہ دھاندلی کے الزامات نہ لگائے جائیں۔‘‘
