مونس الٰہی عمرانڈو رہنے پر بضد کیوں ہیں؟

ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی کو عمرانڈو بنانے اور چودھری خاندان کا اتحاد پارہ پارہ کرنے کا ذمہ دار مونس الٰہی ہے۔ مونس الہٰی کی ہی وجہ سے تاحال چودھری پرویز الٰہی پابند سلاسل ہیں اور پی ٹی آئی چھوڑ کر ق لیگ میں واپس آنے سے گریزاں ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مونس الٰہی اور چوہدر ی خاندان کے درمیان معاملات کے بگڑنے کی اطلاعات صرف دکھاوا ہیں۔ مونس الٰہی کا یہ کہنا کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔ یہ سب کچھ خاندان کی رضا مندی سے کیا جا رہا ہے۔ مونس الٰہی کی یہ خواہش ہے کہ کسی طرح عمران خان کی نا اہلی ہو اور چوہدری پرویز الٰہی تحریک انصاف کی باگ ڈور سنبھال لیں۔
دوسری جانب چودھری شجاعت کی متعدد ملاقاتوں کے باوجود پرویز الٰہی اپنے بیٹے کی رائے کے خلاف پی ٹی آئی چھوڑنے سے انکاری ہیں اس ضمن میں چوہدری گھرانے کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری برادارن کا آپس میں مضبوط رشتہ ہے اور وہ ہر طرح کے حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ملاقاتوں کا مقصد وہ نہیں ہے۔ جو سامنے آرہا ہے۔ بلکہ اس کا مقصد صرف اتنا ہے کہ لوگوں کو یہ دکھایا جائے کہ چوہدری شجاعت حسین بہت مشکل سے چوہدری پرویز الٰہی کو منا رہے ہیں۔ اصل میں چوہدری برادران سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کی گڈ بک میں رہنا چاہتے ہیں۔ وہ ان حالات میں وکٹ کے دونوں جانب کھیلنا چاہتے ہیں اور ہر حال میں گرائونڈ میں موجود رہنا چاہتے ہیں۔ مونس الٰہی کا معاملہ بالکل بھی مشکل نہیں ہے۔ وہ خاندان سے کٹ کر نہیں رہ سکتے۔ معاملات پہلے سے طے شدہ ہیں۔ اب صرف دکھاوا کیا جارہا ہے۔
ان ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چوہدری برادران بڑے گھاگ سیاست دان ہیں۔ ان دنوں پرویز الٰہی یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اگر وہ تحریک انصاف میں رہنا چاہتے ہیں تو وہ عمران خان پر احسان کر رہے ہیں کہ دیکھیں مجھ پر اسٹبلشمنٹ کا دبائو تھا۔ سیاست دانوں کا دبائو تھا۔ جیل میں رکھا گیا۔ مجھ پر فیملی کا بھی بہت زیادہ دبائو تھا۔ اس کے باوجود میں ڈٹا رہا۔
دوسری جانب اگر چوہدری پرویز الٰہی کو تحریک انصاف سے توڑنا مقصود ہے تو وہ کہیں گے کہ دیکھیں، مجھے ایک کیس میں ضمانت ملتی تھی تو دوسرے میں گرفتار کر لیتے تھے۔ مجھ پر فیملی کا بہت دبائو تھا۔ میرے حلقے کے لوگ بھی چاہتے تھے کہ میں ق لیگ میں واپس آئوں۔ چنانچہ میں اپنے بھائی اور فیملی کے دبائو پر تحریک انصاف چھوڑ رہا ہوں۔ تیسری بات یہ کہ پرویز الٰہی کا یہ کہنا کہ میرے بیٹے مونس الٰہی کو منائیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ جو حالات و واقعات انہیں سوٹ کریں گے۔ اس کے مطابق وہ بھی چپ رہیں گے۔ ابھی تو یہ ڈرامہ چل رہا ہے۔
دراصل سیاست میں ایک مرتبہ پھر ٹرننگ پوائنٹ آچکا ہے۔ آئی ایم ایف اور امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان میں وقت پر الیکشن ہو جائیں۔ اس کے لیے پاکستان پر دبائو ڈالا جارہا ہے۔ اگر انتخابات، عمران خان کے جیل جانے سے یا نا اہل قرار پانے سے پہلے ہوجاتے ہیں تو چوہدری برادران کو خوش فہمی ہے کہ وہ تحریک انصاف کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر کے کافی سیٹیں نکال لیں گے۔
چوہدری برادران کے قریبی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ، چوہدری خاندان نہ پہلے ٹوٹا تھا اور نہ اب ٹوٹ رہا ہے۔ بلکہ یہ آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ان کے رشتے بہت گہرے ہیں۔ سیاست کی کیا مجال ہے کہ وہ ان کو الگ کر سکے۔ چوہدری شجاعت حسین کی پرویز الٰہی سے ملاقاتیں دراصل آنے والے دنوں کی پلاننگ ہے۔
دوسری جانب سینئر صحافی جاوید چودھری نے دعوی کیا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے پر رضامند ہو گئے ہیں تاہم مونس الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے لیے اپنے والد کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ جس وجہ سے پرویز الہٰی پریس کانفرنس کرنے کے حوالے سے تاحال تذبذب کا شکار ہیں۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے اپنے حالیہ وی لاگ میں مزید دعویٰ کیا ہےکہ چوہدری پرویز الہٰی پی ٹی آئی اور عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کے لیے رضامند ہو گئے ہیں۔ ان کے بھائی اور مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے متعدد بار ان سے ملاقات کی اور انہیں کہا کہ اپنی صحت کو دیکھیں۔ پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کر دیں اور ضمانت لے کر آرام سے گھر جائیں۔ اس پر پرویز الٰہی نے کہا کہ میں خود بہت پریشان ہوں۔ مونس مجھے پھنسا کر چلا گیا ہے۔ کیسے اس مشکل سے نکلوں کیونکہ جیل میں میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہو رہا۔ہر پیشی پر چوہدری پرویز الٰہی کے صحت مزید خراب نظر آتی ہے۔ انہوں نے عدالت میں پیشی کےموقع پر بتایا تھا کہ جیل میں ان کے ساتھ بہت برا سلوک ہو رہا ہے۔ ان کو جس سیل میں رکھا گیا ہے اس میں ٹانگیں بھی سیدھی نہیں ہوتیں۔ وہاں کیڑے ہیں۔ نہ اے سی ہے نہ پنکھا۔ واش روم بھی وہیں ہے۔ پی ٹی آئی میں ہونے کے باعث میرے ساتھ یہ سلوک ہورہا ہے۔ دس دن سے ایک ہی شلوار قمیض پہنی ہوئی ہے۔ دوائی ہے نہ ہی ڈاکٹر کی سہولت ہے۔ میری ادویات مجھ تک نہیں پہنچ رہیں۔ کوئی سہولت نہیں دی جا رہی۔ پولیس والے جو چیزیں لاتے ہیں مجھے دے کر تصویریں بناتے ہیں اور پھر ساتھ لے جاتے ہیں۔ آپ مجھے سروسز ہسپتال بھیج دیں کیونکہ میں بہت علیل ہوں۔
جاوید چودھری کا مزید کہنا ہے کہ مونس الٰہی کے اصرار پر ہی چودھری پرویز الٰہی نے پی ٹی آئی جوائن کی تھی کیونکہ مونس کو یہ موقع نظر آرہا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو ان کو وزارت اعلٰی مل جائے گی اور اس کے لیے مونس الٰہی اپنے والد کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ پی ٹی آئی ان کے لیے بہت بڑی گارنٹی ہے کیونکہ ق لیگ میں واپس جانے کے بعد انہیں وزارت ملنا مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق ان کی گنجائش صرف پی ٹی آئی میں ہے۔ کیونکہ اگر کبھی تحریک انصاف کے اسٹیبلشمنٹ سے معاملات درست ہوئے اور ان کی حکومت آئی تو ان کا وزارت اعلٰی کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔
چوہدری پرویز الٰہی کو کرپشن کیس میں گرفتار ہوئے قریب قریب ڈیڑھ ماہ ہو چکا ہے لیکن ان کی گرفتاری سے قبل ان کے صاحبزادے مونس الٰہی مُلک سے فرار ہو کر سپین چلے گئے۔ مونس الٰہی نے ہی کوشش کر کے والد کو پی ٹی آئی کا حمایت یافتہ وزیراعلٰی بنوایا لیکن اس کے بعد کرپشن کا جو بازار گرم ہوا اسی کا خمیازہ پرویز الٰہی بھُگت رہے ہیں۔
