چوروں کو پڑ گئے مور، جنرل فیض حمید کے بھائی لٹ گئے

اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن اور مس کنڈکٹ کے الزام میں نائب تحصیلدار چکوال کے عہدے سے معطل ہونے والے سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے عمرانڈو بھائی سردار نجف حمید نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے گھر سے ذاتی ملازمین نے کروڑوں روپے چرا لئے ہیں، یعنی چوروں کو پڑ گئے مور۔
سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے بھائی نجف حمید کے گھر سے ایک کروڑ 7 لاکھ روپے نقد اور ایک آئی فون 13 پرو چوری ہوگئے، نجف حمید نے ایف آر آر میں اپنے 2 پرانے ملازمین کو نامزد کیا ہے۔نجف حمید کی جانب سے ضلع چکوال کے تھانہ نیلہ میں 13 جولائی کو شام 5 بجے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ عاشق حسین اور مقصود احمد کو عرصہ دراز سے گھریلو ملازم رکھا ہوا ہے۔ یہی 2 افراد گھر کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق فیض حمید کے بھائی نجف حمید علاج کی غرض سے 6 اپریل کو لاہور گئے تھے اور آپریشن کے بعد 24 اپریل کو چکوال میں اپنے آبائی گھر واپس پہنچے تھے۔
علاج کے کاغذات رکھنے کے لیے اپنا سیف اور بریف کیس کھولا تو سیف میں ایک کروڑ روپے کی رقم اور بریف کیس میں 7 لاکھ روپے اور ایک عدد آئی فون 13 پرو غائب تھے۔نجف حمید نے گھریلو ملازمین کو نامزد کرتے ہوئے لکھا کہ دونوں ملازمین عرصہ دراز سے گھر کی دیکھ بھال کر رہے تھے چونکہ میری غیر موجودگی میں گھر کی تمام ذمہ داریاں ان 2 ملازمین پر تھیں جنہوں نے میری غیر موجودگی میں رقم اور موبائل فون غائب کیا۔ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام گھر والوں سے انکوائری کرنے کے بعد ہی ان دونوں ملازمین کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ پولیس نے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ رواں برس 5 اپریل کو نجف حمید کی مبینہ کرپشن کی انکوائری شروع کرتے ہوئے اینٹی کرپشن نے نجف حمید کی زیر ملکیت زمینوں کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔ اینٹی کرپشن راولپنڈی نے راولپنڈی اور چکوال کے ڈپٹی کمشنرز کو خط لکھ کر ان سے نجف حمید کی زیرِ ملکیت زمینوں کا ریکارڈ مانگا تھا۔خط میں لکھا گیا تھا کہ نجف حمید نے گرداور کے عہدے پر ترقی کے لیے کئی سینئرز کو سُپر سیڈ کیا ہے۔ نجف حمید کے آمدن سے زائد اثاثوں میں انکوائری کی جا رہی ہے اس لیے ان کے ملکیتی زمین کی تفصیل درکار ہے۔
واضح رہے کہ نجف حمید کو رواں برس 16 فروری کو نائب تحصیلدار نجف حمید کو معطل کر دیا گیا تھا۔ کمشنر آفس راولپنڈی کی جانب سے جاری اعلامیے میں نجف حمید کو فوری طور پر چارج چھوڑ کر کمشنر آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔اعلامیے کے مطابق نائب تحصیلدار نجف حمید کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر معطل کیا گیا تھا۔ معطل ہونے والوں میں محکمہ مال چکوال کے 4 گرداور اور 8 پٹواری بھی شامل تھے۔
خیال رہے کہ فیض حمید کے بھائی نجف حمید کو رواں سال 16 فروری کر نائب تحصیل دار کے عہدے سے معطل کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق محکمہ مال چکوال کے افسران کی جانب سے بڑا کریک ڈاؤن کیا گیاتھا جس کے نتیجے میں محکمہ مال چکوال کے 4 گرداور اور 8 پٹواریوں کو معطل کردیا گیا تھا ۔فیض حمید کے بھائی سمیت معطل ہونے والے گرداور اور پٹواریوں پر نازیبا رویے اور اختیارات سے تجاوز کا الزام ہے۔اس ضمن میں راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر آفس کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔ جس میں سردارنجف حمید خان کو فوری طور پر کمشنر آفس رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ سردار نجف حمید خان جنرل (ر)فیض حمید کے بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے ممبر اور سرگرم رہنما بھی ہیں۔ ماضی قریب میں وہ دوران ملازمت ہی پی ٹی آئی کیلئے جلسے ،ریلیوں کا اہتمام کرتے رہے ہیں، انتخابات کے دوران الیکشن مہم میں بھی بھرپور حصہ لیتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ 20 مئی 2021 میں کمشنر راولپنڈی ڈویژن سید گلزار حسین شاہ نے نجف حمید خان کو گرداور سے نائب تحصیلدار کے عہدے پر ترقی دی تھی۔ وہ ضلع چکوال میں پٹواری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
