بدنیت باجوہ نے آرمی چیف جنرل عاصم کے خلاف کیا سازشیں کیں؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ آج ہم جہاں کھڑے ہیں یہ سب سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مرہون منت ہے۔پہلی توسیع کے بعد ہی انھوں نے اگلی توسیع کی ٹھانی اور اس کے لئے کیا کیا جتن نہ کئے۔ جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت 1 ماہ 15 دن کم کر دی تاکہ وہ آرمی چیف بننے کی دوڑ سے باہر رہیں جبکہ جنرل فیض کو لیفٹیننٹ جنرل پر ترقی 29 نومبر کو ملحوظ خاطر رکھ کر دی گئی، جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف ممکنہ تعیناتی رُکوانے کیلئے 26 نومبرکو لانگ مارچ اور صدر علوی سے مل کرنوٹیفکیشن سے کھیلنا بھی اسی پلان کا حصہ تھا۔

مگر آخری تدبیر اللہ کی‘‘ کامیاب اور باجوہ پلان کی ہر تدبیر ناکام ٹھہری۔ اپنے ایک کالم میں حفیظ الله خان نیازی لکھتے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بطور آرمی چیف اپنی مدت میں دوسری مرتبہ توسیع کی خواہش کو کامیاب بنانے کیلئے 2020 ءسے ہی جنرل فیض حمیدکیساتھ مل کر عملی جامہ پہنانا تھا ۔پہلے مرحلے میں عمران خان کا مکو ٹھپنا تھا۔ بعد ازاں اپوزیشن جماعتوں سے وعدے کی بنیاد پر احتجاجی تحریک شروع کروانی تھی۔

اگر اپوزیشن جماعتیں اپنا سیاسی بیانیہ عمران خان کیخلاف رکھتیں تو کامیابی فیضِ اور باجوہ کا مقدر بنتی۔ مگر بُرا ہو نواز شریف کا کہ انھوں نے ،رنگ میں بھنگ ڈال دی ۔20 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں ان کی تقریر نے حریفوں کا سارا مزہ کر کراکر ڈالا اور  توپوں کا رُخ جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی طرف موڑ دیا اور اسی سے نواز شریف کی عوامی پذیرائی اور مقبولیت کی ایک نئی لہر اُٹھی. حفیظ الله خان نیازی کا کہنا ہے کہ سانحہ یہ ہوا کہ 5 سال 5 ماہ جنرل باجوہ کی گود میں کھیلنے والا اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ عمران خان اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ ہتھیانے میں کامیاب ہو گیا۔

دوسری طرف 5 سال 5 ماہ جنرل باجوہ سے جوتے کھانے والے، چند ماہ کے اقتدار کے لالچ میں انہی کا مہرہ بنے اور نواز شریف کی مقبول سیاست بیچ ڈالی۔ واہ! جنرل باجوہ تیری تدبیر کہ عمران خان سے حکومت واپس لیکر نگران سیٹ اَپ کیلئے راہ ہموار کرنا تھی۔ باجوہ پلان کا پہلا اور آخری مقصدیہی تھا مگر  شکریہ نواز شریف کہ آپ نے باجوہ پلان ناکام بنایا۔ مگر بد قسمتی یہ ہوئی کہ پرو اسٹیبلشمنٹ غیر مقبول سیاست اُنکے گلے پڑ گئی۔باجوہ پلان کیمطابق جب اپوزیشن تحریک عدم اعتمادلائی تو جنرل باجوہ نے کمال  ہوشیاری سے عمران کو قائل کر لیا کہ اگر اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے تو آپ اسمبلی تحلیل کر دیں ۔ باجوہ کی پہلی ناکامی اُسی وقت مقدر بنی جب اپوزیشن جماعتیں تحریک عدم اعتماد واپس نہ لینے پر ڈٹ گئیں ۔ باجوہ فیض گٹھ جوڑ کا ہمیشہ سے ٹارگٹ نگران سیٹ اَپ کا قیام رہا ، اسکی موجودگی میں راوی نے چین اورتوسیع مدت ملازمت کی ضمانت دینا تھی۔ جنوری 2022 سپریم کورٹ میں خالی 5 اسامیاں ہتھیانا تھیں ، 5 مرضی کے ججوں کیساتھ سپریم کورٹ قبضہ استبداد میں رہتا تو قاضی فائز عیسیٰ کا مکو ٹھپنا اور غیر معینہ مدت تک نگران حکومت رکھنا ممکن تھا۔

حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان مملکت کو اپنے بھیانک انجام کیساتھ نتھی رکھنا چاہتے ہیں۔اقتدارسےجاتےجاتے  انھوں نے معیشت کیلئے بارودی سرنگیں بھی اسی لئے بچھائیں۔مزید ابتری کیلئے لوگوں کو سڑکوں پر لا کر سیاسی اور معاشی عدم استحکام کو بڑھایا۔  IMF تک رسائی کی کوشش بھی کی کہ ملک کو مدد نہ مل سکے اور مملکت ڈیفالٹ کر جائے۔ عمران خان یہ بات جان چُکے ہیں کہ ریاست کو ساتھ لیکر ڈوبنے میں ہی اُنکی آسودگی ہے۔کنفیوژن اور بد حواسی نے عمران کو ہلکان کر رکھا ہے ۔ اس لئے اندرون خانہ منت ترلے اور اندرون و بیرون ملک بذریعہ سپورٹرز  آگ لگانے، اُکسانے اور انتشار پھیلانے کی ترویج ساتھ ساتھ جاری ہے۔

حفیظ الله خان نیازی کہتے ہیں کہ پچھلے سال سے  عمران خان کا ریاست مخالف بیانیہ اور ان کے لئے امریکہ اور اسرائیل کی بَروقت مدد اسی مد میں سامنے آچُکی ہے ۔حکومت ، اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان سمیت سب بند گلی میں ہیں ، در حقیقت مملکت بند گلی میں ہے۔ عمران خان ایک ماہر ملمع ساز کی طرح  پاکستان اور اسلام کیلئے مگرمچھ کے آنسو ضرور بہا رہے ہیں۔عملاً وہ سب کچھ تہس نہس کرنے کی تمنا رکھتے ہیں۔ یہ سارے کرتب اُنکی اپنی تباہی کا سامان بنیں گے، میری اُن سے التجا کہ پاکستان سے بدلہ

کے پی کی نگران کابینہ میں ردوبدل کی سمری دوبارہ گورنر کو ارسال

نہ لیں۔

Back to top button