صحافیوں میں پھوٹ ڈالنے کی حکومتی کوشش پکڑی گئی

کپتان حکومت کی جانب سے نہایت دیدہ دلیری کے ساتھ چند جعلی صحافتی تنظیمیں کھڑی کر کے انکے ذریعے یہ جھوٹا بیانیہ قائم کرنے کی کوشش پکڑی گئی ہے کہ صحافتی برادری میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کالے قانون کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوگئی ہے۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے حکومت کی جانب سے جعلی صحافتی تنظیموں کی آڑ میں میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کالے قانون پر اتفاق رائے کا تاثر دینے کی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے۔ پی ایف یوجے نے اپنی تنظیم کے عہدیداروں کی قیادت سے وزیر اطلاعات فواد چودھری کے مذاکرات کی جعلی خبروں کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اور نجی میڈیا پر خود ساختہ صحافتی تنظیموں کی آڑ میں پی ایف یوجے کے نام سے جھوٹی خبریں پھیلانا ایک شرمناک فعل ہے جو کہ فیک نیوز کے زمرے میں آتا ہے۔ پی ایف یو جے کے قائدین نے وفاقی حکومت بالخصوص وزیر اطلاعات فواد چوہدری کومتنبہ کیا ہے کہ وہ خود ساختہ اور غیر نمائندہ تنظیموں کی حمایت کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس سے منسوب کرنے اور صحافی تنظیموں میں پھوٹ ڈالنے جیسے شرمناک اور غیر جمہوری اقدامات سے باز رہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن نے وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد اور وزیر مملکت اطلاعات فرخ حبیب سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداران کی ملاقات اور پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی پرمشاورت کی خبریں چلائی ہیں جس پر پی ایف یوجے قیادت نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس حرکت کو بھونڈی اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ واضح رہےکہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو مکمل طور پر مسترد کرچکی ہے۔ اب اس حوالے سے آئندہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والے پی ایف یو جے کے فیڈرل ایگزیکٹو کونسل اجلاس میں بڑے فیصلے ہونے جا رہے ہیں جنہیں سبوتاژ کرنے کے لیے وفاقی وزیر اطلاعات پر اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ صدر پی ایف یوجے شہزادہ ذوالفقار اور سیکرٹری جنرل ناصر زیدی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پی ایف یو جے کی حمایت حاصل کرنے کی جھوٹی خبریں پھیلا کر بھی وفاقی حکومت اپنے مذموم مقاصدکی تکمیل نہیں کر پائے گی، انہوں نے یاد دلایا کہ آزادی صحافت اور اظہار رائے پر قدغن لگانے میں پی ایف یوجے ہمیشہ رکاوٹ رہی ہے، اور آئندہ بھی ایسے کسی حکومتی اقدام کو قبول نہیں کرے گی جو میڈیا کارکنان کے بنیادی حقوق کو پامال کرے یا آزادی صحافت پر روک لگائے۔ انہوں نے کہا کہ سول ڈکٹیٹرشپ اورصحافت پر کالے قانون تھوپنے میں ناکامی پر وفاقی حکومت اخلاقی اقدارتک بھول چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی فیک نیوز کی سب سے بڑی مثال وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے چند جعلی صحافیوں سے ملاقات کو پی ایف یو جے کے وفد سے ملاقات ثابت کرنے کی گندی کوشش ہے، صدر اور سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے نے خود ساختہ اور وزارت اطلاعات کے ایماء پر پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کی تائید کرنے والی نام نہاد صحافی تنظیموں کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس سے منسوب کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش اورپاکستان کی واحد صحافتی نمائندہ تنظیم میں پھوٹ ڈالنے کی ایک چال ہے، جس کے تانے بانے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے خود بنے ہیں۔
پی ایف یو جے کے مرکزی رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس تمام متعلقہ میڈیا ورکرز تنظیموں، سول سوسائٹی، بارکونسلز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اورپاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام اورغیر آئینی قوانین کے نفاذ سمیت ہر اس فیصلے کی مزاحمت کرے گی جو آزادی اظہار پر قدغن لگانے میں معاون ہو گا۔ قائدین نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ پی ایف یو جے آزادی صحافت اور میڈیا کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے مقصد سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گی۔
