صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ٹیکسوں کا نفاذ غیر آئینی قرار

کپتان حکومت نے روایتی بے حسی اور بد عہدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بدترین مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کے بجلی اور گیس کے بلوں پر ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے جو 17 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا ہے اسے غیر قانونی قرار دے کر واپس لینے کا عوامی مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کردہ اس اضافی ٹیکس کے خلاف عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہئے۔ اس آرڈیننس کے ذریعے نادرا کو ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا تک رسائی دے کر ایف بی آر نے سیکشن 198 بھی ختم کردیا ہے جس کے مطابق اگر کوئی فرد کسی شخص کی خفیہ معلومات کو ظاہر کرتا ہے تو وہ اس جرم پر کم از کم 5 لاکھ روپے جرمانہ یا زیادہ سے زیادہ ایک سال کی قید یا دونوں کا سزا وار ہو سکتا ہے۔بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر نے بجلی اور گیس کے نان فائلر صارفین پر 17 فیصد تک اضافی ٹیکس عائد کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا ہے جس کی بنیاد ایک صدارتی آرڈیننس ہے جو صدر عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان کے سفارش پر جاری کیا ہے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق نان فائلر کمرشل صارفین کے بلوں پر 5 سے17 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا جبکہ ماہانہ 10ہزار روپے تک کے کمرشل صارفین کے بل پر 5 فیصد، ماہانہ 10 سے 20 ہزار روپے کے بل پر7 فیصد اضافی ٹیکس اور بیس سے 30 ہزار روپے کے بل پر 10 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ ماہانہ 30 سے 40 ہزار روپے کے بل پر 12 فیصد اضافی ٹیکس جبکہ ماہانہ 40 سے 50 ہزار روپے بل پر 15 فیصد اور ماہانہ 50 ہزار روپے سے زیادہ کے بل پر 17 فیصد اضافی ٹیکس عائد ہوگا۔
تاہم عوامی حلقوں نے اس حکومتی آرڈیننس کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سختی سے رد کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے صارفین پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کے اقدام کو ظلم قرار دیا ہے اور اس کے خلاف عدالت میں جانے کا عندیہ دیا ہے۔ اس صدارتی آرڈیننس کے ذریعے حکومت نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کو پابند کر دیا ہے کہ وی اپنا ریکارڈ یا کوئی بھی معلومات ایف بی آر کے ساتھ شیئر کر دے۔
اس کے علاوہ ایف بی آر کسی بھی شہری کا ریکارڈ اور معلومات متعلقہ انکم ٹیکس اتھارٹی کو بھیج سکتا ہے جو معلومات کو انکم ٹیکس کے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ مذید یہ کہ اس صدارتی آرڈیننس نے نادرا کو اشاریہ آمدنی اور ٹیکس واجبات کا حساب کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے جس سے ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈز کے ذریعے ادا کردہ ہوائی سفر کے اخراجات اور ظاہر شدہ آمدنی اور اثاثوں جیسے اخراجات کے مابین ایک تعلق قائم کرنا ایف بی آر کی جانب سے مزید تحقیقات کے لیے رسک اسکور بن سکتا ہے۔
پاکستانی تاریخ کے اس عجیب و غریب صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نادرا کو ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا تک رسائی دے کر ایف بی آر نے سیکشن 198 بھی ختم کردیا ہے جس کے مطابق اگر کوئی فرد کسی شخص کی کسی خاص خفیہ معلومات کو ظاہر کرتا ہے تو وہ اس جرم پر کم از کم 5 لاکھ روپے جرمانہ یا زیادہ سے زیادہ ایک سال کی قید یا دونوں کا سزا وار ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اعلیٰ تحقیقاتی ادارے اب بغیر کسی پابندی کے ٹیکس دہندگان کے پروفائل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ ٹیکس ریٹرن نہ فائل کرنے پر جرمانوں پر بھی نظرِ ثانی کی گئی ہے جو ڈیفالٹ کے ہر روز قابل ادا ٹیکس کا 0.1 فیصد یا ایک ہزار روپے یومیہ ہوگی، زیادہ سے زیادہ جرمانہ قابل ادا ٹیکس کا 200 فیصد ہوگا۔علاوہ ازیں 75 فیصد یا اس سے زیادہ تنخواہ کی آمدنی ہو تو کم از کم جرمانہ 10 ہزار روپے ہوگا جبکہ دیگر معاملات میں 50 ہزار روپے ہوگا۔
وفاقی حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے 5 سے 35 فیصد اضافی ود ہولڈنگ ٹیکس بھی متعارف کروایا ہے جو ان پیشہ ور افراد سے وصول کیا جائے گا جو فعال ٹیکس لسٹ میں موجود نہیں اور بجلی کے گھریلو کنیکشن رکھتے ہوئے رہائشی مقام سے اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ان پیشہ ور افراد میں اکاؤنٹنٹس، وکلا، ڈاکٹرز، ڈینٹسٹس، طبی ماہرین، انجینیئرز، آرکیٹیکٹس، ماہر انفارمشین ٹیکنالوجی، ٹیوشن پڑھانے والے، ٹرینر اور دیگر افراد شامل ہیں۔
اس طرح اکٹھا کیا جانے والا ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کے قابل ہوگا تاہم یہ واضح نہیں کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں رہائشی مقام سے کام کرنے والے افراد کی نشاندہی کس طرح کریں گی۔ ایف بی آر گیس اور بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو کسی بھی ایسے شخص کو سپلائی روکنے کی ہدایت کرسکتا ہے جو درجہ اول کا ریٹیلر ہو لیکن اس نے اپنے آپ کو سیلز ٹیکس کے لیے رجسٹرڈ یا ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام میں ضم نہ کروایا ہو۔
