کپتان کی افغانستان کے لیے محبت پاکستان کے لیے بھاری


وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے تاجک، ازبک اور ہزارہ برادری کی نئی افغان حکومت میں شمولیت کے لیے طالبان سے مذاکرات کا اعلان پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرنے جا رہا ہے خصوصا جب ایک جانب مغربی دنیا طالبان کی جیت کی ذمہ داری اسلام آباد پر عائد کرتی ہے اور دوسری طرف طالبان حکومت سازی میں پاکستانی مفت مشوروں کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت سمجھتے ہیں۔ افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے طالبان کے ساتھ ایک کثیر البنیاد حکومت کے قیام کے لئے مذاکرات کا اعلان پاکستان کے اس سابقہ موقف کی نفی ہے کہ طالبان اب اس کی نہیں مانتے اور یہ کہ وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے تازہ اعلان اسلیے بھی حیرت انگیز ہے کہ افغان طالبان اپنی حکومت کا اعلان کر چکے ہیں اور اس سے پہلے ایک کثیر البنیاد حکومت کے قیام کے حوالے سے انہوں نے حال ہی میں کابل کا دورہ کرنے والے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی بات بھی نہیں مانی تھی۔
یاد رہے کہ عمران خان نے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ دوشنبے میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتوں خصوصاً تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے طویل بات چیت کے بعد انھوں نے تمام گروہوں کی نمائندہ حکومت کی خاطر تاجک، ہزارہ اور ازبک برادری کی افغان حکومت میں شمولیت کے لیے طالبان سے مذاکرات کی ابتداء کر دی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ 40 برس کی لڑائی کے بعد ان دھڑوں کی اقتدار میں شمولیت ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کی ضامن ہو گی جو محض افغانستان ہی نہیں بلکہ خطے کے بھی مفاد میں ہے۔ اس سے قبل عمران خان بارہا اپنے بیانات میں شمولیتی حکومت کا تذکرہ کرتے رہے ہیں، لیکن پاک افغان معاملات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا طالبان ایسی کسی مفاہمت یا شمولیتی حکومت کو تسلیم کرتے بھی ہیں یا نہیں۔ ناودین کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کی طرف سے ایسا بیان دینا غیر سنجیدگی کی دلیل کے ساتھ ساتھ باعثِ تمسخر بھی ہے کیونکہ کابل میں اس وقت معاملات بالکل مختلف ہیں اور طالبان پاکستان کی جانب سے اس طرح کی تجویز کو اپنے معاملات میں مداخلت سمجھ سکتے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اسوقت پاکستان کے بارے میں افغان عوام اور طالبان کی اکثریت کے تاثرات مثبت نہیں ہیں اور ایسی صورت حال میں پاکستان کی جانب سے ایک شمولیتی حکومت کی پیشکش طالبان کو ناگوار گزر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ کابل میں اپنی نئی حکومت کے قیام کا اعلان کرتے وقت طالبان نے واضح طور پر کہا تھا کہ جن لوگوں نے سابق حکومتوں کے ساتھ کام کیا ہے، ان کے لیے طالبان کی حکومت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ افغان امور کے ماہر سمیع یوسفزئی کا عمران خان کے اعلان پر کہنا یے کہ پاکستان طالبان کی حکمتِ عملی نہیں سمجھ پا رہا ہے۔ مسئلہ ہے کہ جو لوگ وزیرِ اعظم کو افغان امور پر بریفنگ دے رہے ہیں وہ معاملات کی سنگینی کو نہیں سمجھ پا رہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ طالبان اسوقت کسی بھی قسم کی تجویز کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ یوسفزئی نے کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ طالبان نے کابل پر قبضہ کرنے سے پہلے کہا تھا کہ افغانستان میں اگر سیاسی معاہدہ ہوتا ہے تو ایک شمولیتی حکومت بنائی جائے گی لیکن ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔طالبان کے سیاسی دفتر کی طرف سے اس کی یہ وضاحت دی گئی ہے کہ شمولیتی حکومت کی بات تب ہوتی اگر سیاسی معاہدہ طے پا جاتا۔ اب جبکہ ایسا نہیں ہوا اور طالبان نے طاقت کے زور پر افغانستان پر قبضہ کر لیا تو شمولیتی حکومت کی بحث بے جا ہوجاتی ہے۔
سمیع یوسفزئی نے کہا کہ ’باقی گروہوں کو تو رہنے دیں، طالبان نے اپنی کابینہ میں غیر پشتونوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ ان غیر پختونوں میں تاجک اور ازبک جنگجو شامل تھے جنھوں نے شمالی افغانستان میں طالبان کے قبضے کو یقینی بنایا۔ تو وہ باقی گروہوں کو کیوں ترجیح دیں گے؟‘
پاکستان کے طالبان سے متعلق بیانیے کے بارے میں بھی کابل میں غم و غصہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ بتاتے ہوئے سمیع یوسفزئی نے کہا کہ ’پاکستان نے اب تک وسط ایشیائی ممالک اور چین کو طالبان کے بارے میں جو بھی کہا صورتحال اس کے برعکس ہوئی ہے۔ پاکستان نے کہا کہ طالبان بدل گئے ہیں، لیکن ہم نے دیکھا کہ ایسا نہیں ہے۔ طالبان پر اب پاکستان کا ایسا اثر نہیں ہے جیسا پہلے تھا۔‘
نتیجے میں پاکستان پر پریشر بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ پاکستان طالبان کا حامی ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی حکومت افغان لوگوں پر مسلط کر رہا ہے اور ساتھ میں طالبان پاکستان کی طرف سے دی گئی تجاویز کو نہیں ماننا چاہتے جیسا کہ ہم نے حالیہ دنوں میں دیکھا ہے۔ لہذا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو خوامخواہ افغان معاملات میں اپنی ٹانگ اڑا کر پاکستان کے لیے شرمندگی کا سامان اکٹھا کرنے سے پرہیز کرنی چاہیے۔

Back to top button