بارودی سرنگوں کے متاثرین کا وزیرستان میں دھرنا جاری

جنوبی وزیرستان میں ماضی کے فوجی آپریشن کے دوران بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے آئے روز ہونے والی ہلاکتوں کے واقعات کے خلاف علاقے کے مکینوں کا دو ہفتوں سے دھرنا جاری تھا لیکن اب دھرنے کے شرکا نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ دھرنا دینے والے قبائلی متائثرین حکومت سے وزیرستان میں بچھی بارودی سرنگوں کی تلفی اور ان سے مرنے اور زخمی ہونے والوں کے ورثا کے لیے مالی امداد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بارودی سرنگوں کے متاثرین اور سینکڑوں دیگر مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات نہیں مانے گئے تو وہ لانگ مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچنے کے بعد پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا دیں گے۔ دھرنا منتظمین کے مطابق وزیرستان کے سینکڑوں بچے اور بچیاں بارودی سرنگوں کی وجہ سے زندگی بھر کے لیے معذور ہوگئے ہیں اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارودی سرنگوں سے صرف عام لوگ نہیں بلکہ سکیورٹی فورسز کے جوان بھی متاثر ہوئے ہیں لیکن ان کی صفائی پر کام تیزی سے نہیں ہو رہا۔

یاد رہے کہ بارودی سرنگوں کی صفائی کا کام 2012 میں شروع ہوا تھا لیکن یہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ دھرنے میں شامل افراد کے بنیادی مطالبات یہ ہیں کہ بارودی سرنگوں کو صاف کیا جائے اور ساتھ میں متاثرین کو دہشت گردی میں ہلاک ہونے افراد کے برابر معاوضہ دیا جائے۔ جو لوگ بارودی سرنگ کی وجہ سے ہاتھ اور پاؤں سے معذور ہوگئے، ان کو بہتر زندگی دینے کے لیے حکومتی سطح پر معاوضہ اور ساتھ میں سرکاری نوکری بھی دینا چاہیے تاکہ وہ گھر کا خرچہ چلا سکیں۔‘ پاکستان فوج کا موقف ہے کہ بارودی سرنگیں انہوں نے نہیں بلکہ عسکریت پسندوں نے بچھائی ہیں، جن کا شکار عام شہری ہی نہیں بلکہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاک فوج نے وزیرستان کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنے کے لیے ایک سپیشل یونٹ بنا رکھا ہے اور عوام کی آگاہی کے لیے ان جگہوں پر بینرز آویزاں کیے ہے تاکہ جہاں پر لیںڈ مائنز ہونے کا خطرہ ہو عوام اس جگہ سے دور رہیں۔ تاہم ایک سکیورٹی ذریعے کے مطابق بارودی سرنگوں کو اتنی آسانی سے صاف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بارش کی وجہ سے کچھ مائنز بہہ کر ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوگئی ہیں اور ان کو ڈھونڈنا بہت مشکل اور خطرے والا کام ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج کی ڈی مائننگ ٹیم اپنی حتٰی الوسع کوشش رہی ہے کہ پورے علاقے کو صاف کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ قبائلی اضلاع اور خصوصاً شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگوں کا مسئلہ نیا نہیں بلکہ رپورٹس کے مطابق سوویت جنگ کے دوران بھی اس علاقے میں یہ بچھائی گئی تھیں۔

دی نیو ہیومینی ٹیرین نامی ادارے کی 2008 کی ایک رپورٹ کے مطابق 2008 میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں کے 50 واقعات رپورٹ سامنے آئے تھے۔اسی رپورٹ میں لینڈ مائن اینڈ کلسٹر میونیشن مانیٹر نامی ادارے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 2002 سے 2006 تک پاکستان میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں کے 1144 واقعات پیش آئے، جن میں 440 ہلاک اور 704 زخمی ہوئے۔ بارودی سرنگوں سے متعلق معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے لینڈ مائن اینڈ کلسٹر میونیشن مانیٹر کی 2021 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ سرحد پر 2002 کے بعد بارودی سرنگیں بچھانے کے کوئی رپورٹ نہیں ملی اور سکیورٹی فورسز نے بارہا کہا ہے کہ وہ اندرونی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے بارودی سرنگوں کا استعمال نہیں کرتے۔ لیکن وزیرستان کے قبائلی عوام سکیورٹی فورسز کا یہ موقف تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ لینڈ مائنز ماضی میں فوجی آپریشن کے دوران طالبان عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے بچھائی گئی تھیں۔

Back to top button