افغان طالبان حقانی اور غنی دھڑوں میں تقسیم ہو گئے


امریکہ سے بیس سال طویل جنگ جیتنے کے بعد اقتدار میں آنے والے افغان طالبان حکومت بنانے کے ایک ماہ بعد ہی دو دھڑوں میں تقسیم ہوتے دکھائی دیتے ہیں جن میں سے ایک دھڑا وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا ہے جبکہ دوسرا افغانستان کے نائب سربراہ ملا عبدالغنی برادر کا ہے۔ افغان امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شراکت اقتدار کے معاملے پر افغان طالبان کی صفوں میں بڑھتی ہوئی قبائلی تفریق، دھڑے بندی اور ملک پر منڈلاتے معاشی بحران سے یوں لگتا ہے کہ ان کا ’ہنی مون‘ پیریڈ ختم ہو چکا ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق مرکزی دھارے کی طالبان لیڈر شپ کے لیے، جو جنوب یعنی قندھار میں ہے، سب سے بڑا چیلنج حقانی نیٹ ورک ہے جو اب زیادہ دلیر ہو چکا ہے اور جس کے روابط غیر ملکی جنگجوؤں سے ہیں۔ اسکے علاوہ مشرقی افغانستان کے نصف سے زیادہ حصے پر اس کا کنٹرول ہے۔
طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی مستقل غیر حاضری نے بھی طالبان کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے طالبان حلقوں میں ان کے زندہ ہونے کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے اور ممکنہ لڑائی بڑھ جانے کا خطرہ ہے۔ ان مسائل کے مجموعے نے طالبان کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی حکومت کے بارے میں اندرونی اور بین الاقوامی خدشات پر اندرونی اتحاد و اتفاق کو ترجیح دیں جو کہ پرانی قیادت پر مبنی ہے اور جس میں سے ملک کی غیر پختون آبادی کو عالم دنیا کے مطالبے کے باوجود باہر رکھا گیا ہے۔
جنگ میں ہاتھ آنے والے مالِ غنیمت پر موجودہ طالبان اختلاف سے ہٹ کر، تاریخی قبائلی شکوے شکایتیں بھی غیر محسوس انداز میں زیر سطح سر ابھار رہی ہیں جس کے نتیجے میں مشرق اور جنوب کے پختونوں کے درمیان مسابقت پیدا ہو رہی ہے۔ نسلی پشتون ملک کی آبادی کا تقریباً 40 فیصد ہے جو دو بڑی شاخوں میں تقسیم ہے، درانی اور غلزئی۔ درانی اگرچہ عددی اعتبار سے کم ہیں مگر 1747 سے زیادہ تر اقتدار میں رہے ہیں، جبکہ غلزئی زیادہ تر خانہ بدوش رہے ہیں۔ حقانی لیڈر غلزئی ہیں اور ان کا نیٹ ورک طالبان کا حصہ ہے مگر عملی کارروائی اور مالیاتی لحاظ سے انھیں خاصی خود مختاری حاصل ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی جنگجوؤں اور شمالی افغانستان کے غیر پشتون طالبان سے ان کے قریبی روابط ہیں اور یہ سخت گیر گروہ مبینہ طور پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے بھی قریب سمجھا جاتا ہے۔ نظریاتی طور پر یہ القاعدہ اور دولت اسلامیہ خراساں کے بھی قریب ہے۔ سابق صدر اشرف غنی سمیت 1978 سے 1992 میں رہنے والے تین دیگر صدور کا تعلق بھی غلزئی شاخ سے تھا۔ بعض افغانوں کا خیال ہے کہ اشرف غنی نے کابل پر حقانیوں کے قبضے میں مدد کی ہے۔
طالبان لیڈر شپ کونسل میں اہم عہدے جنوبی پختونوں کے پاس رہے ہیں جبکہ 2015 میں طالبان تحریک کے بانی ملا عمر کی وفات کے اعلان کے بعد سے کمانڈر سراج الدین حقانی طالبان امیر کے تین نائبوں میں سے ایک رہے ہیں۔ ملا عمر کی وفات سے جنوبی طالبان رہنماؤں کے مابین قیادت کے سلسلے میں زبردست کشمکش پیدا ہو گئی تھی مگر ملا عمر کے جانشین ملا منصور نے سراج الدین حقانی کا بطور ایک نائب تقرر کر کے اپنی حیثیت مضبوط بنا لی تھی۔ یاد رہے کہ حقانیوں کا تعلق مشرقی افغانستان کے پکتیا خطے سے ہے۔ دوسری جانب طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ، وزیراعظم ملا محمد حسن، نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر اور سابق صدر حامد کرزئی درانی ہیں۔ ہیبت اللہ کے پیشرو ملا منصور بھی پختونوں کی اسی شاخ سے تھے۔ اگرچہ طالبان کے بانی ملا عمر کا تعلق غلزئی شاخ سے تھا مگر وہ جنوبی پشتونوں سے اپنی وابستگی ظاہر کرتے تھے۔ ان کے بیٹے ملا یعقوب اس وقت وزیر دفاع ہیں اور وہ بھی جنوبی قیادت کے زیادہ قریب سمجھے جاتے ہیں۔
طالبان حکومت میں ان تمام اہم اور با اثر رہنماؤں کی شمولیت کے باوجود جنوب کے دو اہم طالبان ملٹری کمانڈر ملا قیوم ذاکر اور ملا ابراہیم صدر موجودہ کابینہ سے باہر ہیں، جس وجہ سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ان کا اگلا قدم خطرناک ہو سکتا ہے۔ کابل پر قبضے کے بعد سے ہی سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں کہ صدارتی محل کے اندر حقانی رہنماؤں اور ملا برادر کے درمیان حکومت سازی کے معاملے پر ہاتھا پائی کی نوبت آ گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ملا برادر وسیع البنیاد حکومت کے خواہاں اور دہائیوں تک پر امن رہنے والی وادی پنجشیر پر بڑے حلموں کے مخالف تھے۔ ملا برادر کو، جو امریکیوں اور افغان رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کر رہے تھے، توقع تھی کہ وہ طالبان حکومت کے بھی قائد ہوں گے مگر لگتا ہے کہ موجود قطار میں انھیں پیچھے کر دیا گیا ہے۔ اب ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ وہ کابل چھوڑ کر نامعلوم مقام پر چلے گئے ہیں۔ یوں اس وقت بظاہر جنگجو حقانی گروپ افغان حکومت میں برتری حا صل کر چکا ہے۔
دوسری جانب طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کی مسلسل غیر حاضری نے بھی نہ صرف افغان عوام بلکہ طالبان کی صفوں میں بھی متعدد سوالوں کو جنم دیا ہے۔ ایسی خبریں بھی سامنے آئیں کہ وہ ایک دھماکے میں مارے جا چکے ہیں۔ ان حالات میں افغان طالبان حکومت اپنے اقتدار کے آغاز میں ہی گھمبیر مسائل میں گھرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

Back to top button