پانی کوبطورہتھیاراستعمال کرناعالمی امن کیلئےخطرہ ہے،اسحاق ڈار

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی مقاصد اور انہیں دوسرے ممالک کے خلاف ’ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کرنے کے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی برادری کو اس طرز عمل کی سنگینی اورخطرے سے آگاہ کیا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس جانب عالمی برادری کی توجہ برسلز میں منعقدہ ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’ٹرانسباؤنڈری واٹر ریسورسز: ویپونائزڈ گلوبل کامن (سرحد پار آبی وسائل: عالمی سطح پر بطور ہتھیار استعمال ہوتا ہوا خطرہ) سےاپنے کلیدی خطاب میں دلائی۔
کانفرنس میں ماحولیاتی تبدیلی، پانی کے انتظام اور بین الاقوامی قانون کے نامور عالمی ماہرین شریک تھے۔
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ پانی انسانی بقا اور وقار کا معاملہ ہے، اسے کسی بھی ملک کے خلاف دباؤ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے سابق اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے تاریخی مؤقف کا حوالہ دیا کہ پانی کے بحران اکثر قلت سے زیادہ انتظامی اور حکمرانی کے مسائل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’مشترکہ آبی وسائل اگر باہمی اعتماد اور طے شدہ فریم ورک کے تحت چلائے جائیں تو وہ علاقائی امن کا ذریعہ بنتے ہیں، لیکن اگر انہیں یکطرفہ اقدامات کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ شدید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں‘۔
