روسی الیکشن میں بھی پاکستانی تاریخ دہرا دی گئی


اگر آپ کا خیال ہے کہ الیکشن میں دھاندلی صرف پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں ہی ہوتی ہے تو آپ کا خیال غلط ہے. روس میں 19 ستمبر کو مکمل ہونے والے تین روزہ الیکشن کے دوران صدر ولادی میر پیوٹن کی جماعت پر دھاندلی کے الزامات عائد ہو گئے ہیں اور انکی حکمران جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہوتی نظر آتی ہے۔ روس کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ وہاں پر بڑے شہروں میں پولنگ کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال کیا گیا۔
یاد رہے کہ جس طرح 2018 کے الیکشن میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے مخالف نواز شریف کو نااہلی کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ملی تھی اسی طرح روس میں بھی پیوٹن حکومت کے کئی نمایاں سیاسی مخالفین کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ 2018 کے پاکستانی الیکشن کی طرح روس میں بھی زور زبردستی سے پیوٹن کی جماعت کے امیدواروں کے حق میں بیلٹ باکسز بھرنے اور جبری ووٹنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تاہم پاکستان کی طرح روس کے الیکشن کمیشن نے بھی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن کو صاف اور شفاف قرار دیا ہے۔ روسی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی نتائج کے مطابق اب تک 64 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے جس کے مطابق پیوٹن کی ‘متحدہ روس’ نامی جماعت نے 48 فیصد جبکہ کمیونسٹ پارٹی نے 21 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ اب تک کل ووٹوں میں سے 45 فیصد حکمران جماعت کے حصے میں آئے ہیں جس نے اتوار کو ووٹنگ کے اختتام کے کچھ دیر بعد ہی اپنی فتح کہ اعلان کر دیا تھا۔ سرکاری ٹی وی پر متحدہ روس پارٹی کے رہنما اینڈرے ترچاک کو ماسکو میں اپنے حامیوں کو ایک ‘صاف شفاف’ جیت پر مبارک باد دیتے دیکھا گیا۔
یوں روس میں اہم انتخابی مرحلہ اپنے اختتام کو تو پہنچ چکا مگر سچ تو یہ ہے کہ 2018 کے پاکستان الیکشن کی طرح پہلا ووٹ کاسٹ ہونے سے قبل ہی روسی الیکشن بھی متنازعہ ہو گئے تھے۔ وہاں حـزب اختلاف کے کئی رہنماؤں کو الیکشن میں حصہ لینے اور انکے حامیوں کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا ہے۔ پیوٹن کے جن نمایاں مخالفین کو الیکشن میں حصہ نہیں لینے دیا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا ان میں سر فہرست اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی ہیں۔ حکومت نے کرونا وائرس کی آڑ میں الیکشن کو ایک روز میں کروانے کی بجائے تین روز پر پھیلا دیا تھا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اسکا اصل مقصد دھاندلی کرنا تھا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی، زور زبردستی اور بے قاعدگیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ لیکن الیکشن کمشین کے سربراہ کا کہنا ہے کہ تنقید ایک سوچی سمجھی مہم کا حصہ ہے جس کے لیے بیرون ملک سے فنڈنگ ہوئی اور یہ اسی کا نتیجہ ہے جو سامنے آ رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روسی الیکشن کمیشن کا بھی ویسا ہی موقف ہے جیسا 2018 کے الیکشن میں آر ٹی ایس سسٹم بند ہو جانے کے بعد اپوزیشن کی جانب سے وسیع پیمانے پر دھاندلی کے الزامات کے جواب میں اختیار کیا گیا تھا۔
غیر حتمی نتائج کے مطابق صدر پیوتن کی جماعت نے اکثریت تو حاصل کر لی ہے تاہم اس کی مقبولیت میں واضح کمی آئی ہے۔ یاد رہے کہ 2016 میں ہونے والے الیکشن میں حکمران جماعت 54 فیصد ووٹ لے کر اقتدار میں رہی تھی۔الیکسی ناوالنی جیسے ناقدین کی جانب سے صدر کے رہن سہن پر تنقید اور کرپشن کے الزامات بھی حکمران جماعت کی مقبولیت پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ تاہم اب بھی روسی آبادی کا ایک بڑا حصہ پیوٹن کو اِس لیے پسند کرتا ہے کیونکہ اُن کے خیال میں وہ مغرب کے سامنے ڈٹ گئے ہیں اور قومی وقار کو بحال کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2021 کے الیکشن میں روس کے کئی بڑے شہروں میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین بھی متعارف کرائی گئی تھی۔ اس وقت پاکستان میں بھی تحریک انصاف کی حکومت اگلے الیکشن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال کرنے کے لیے اپوزیشن کو راضی کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن حزب اختلاف کا موقف ہے کہ وہ ایسا نہیں ہونے دے گی کیونکہ اس کا بنیادی مقصد الیکشن کے نتائج کو اپنے حق میں بدلنا ہے۔

Back to top button